برطانیہ کے شہر گریٹر مانچسٹر میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو مبینہ طور پر ایک خاتون مسافر کو ہراساں کرنے اور اسے پیغامات بھیج کر یہ پوچھنے پر کہ آیا وہ سنگل ہے، پرائیویٹ ہائر لائسنس دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔
بولٹن کونسل کی لائسنسنگ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ شکایت درج ہونے کے باوجود ڈرائیور نے خاتون کو مسلسل پیغامات بھیجنا اور ہراساں کرنا جاری رکھا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ڈرائیور کا رویہ نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔
یہ اجلاس 18 نومبر کو منعقد ہوا، جس میں ڈرائیور نے بھی شرکت کی اور اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کا رویہ غلط تھا۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ ڈرائیور نے یاد دہانیوں کے باوجود لازمی سیف گارڈنگ (تحفظ) تربیت میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت پیش کیا جا سکا کہ اس نے یہ تربیت مکمل کی ہو۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ڈرائیور نے اپنے لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر پرائیویٹ ہائر آپریٹر کے ذریعے بکنگ کی، شکایت کنندہ مسافر کو دوبارہ لینے کی کوشش کی، جسے پلائنگ فار ہائر قرار دیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق اس عمل کے باعث اس کی پرائیویٹ ہائر گاڑی کی انشورنس بھی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
کونسلر مارٹن ڈوناگی نے ڈرائیور کو لائسنس دینے سے انکار کی تجویز پیش کی، جس کی تائید کونسلر شارلٹ مونکاڈو سیئرز نے کی۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ درخواست گزار اس وقت لائسنس رکھنے کے لیے موزوں اور ذمہ دار فرد (Fit and Proper Person) نہیں ہے۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر ڈرائیور کو پرائیویٹ ہائر لائسنس دینے سے انکار کر دیا، تاہم اس کی گاڑی کے لائسنس کے حوالے سے کسی کارروائی کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔