ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم وزن والے ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں موٹاپے کے شکار مریضوں کے مقابلے میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
اس حوالے سے جنوبی کوریا کی ہالیم یونیورسٹی ڈونگتان سیکرڈ ہارٹ اسپتال نے اعلان کیا کہ ایک مشترکہ تحقیقی ٹیم کی رپورٹ ایک انٹرنیشنل اکیڈمک جرنل میں شائع کی گئی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے نیشنل ہیلتھ انشورنس سروس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جس میں 40 سال یا اس سے زائد عمر کے 17,88,996 ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو شامل کیا گیا۔ ان مریضوں کا 2015 سے 2016 کے دوران معائنہ کیا گیا تھا اور ان کی اسکریننگ 2022 تک کی گئی۔
ٹائپ 2 ذیابیطس، جو اس مرض کے تمام کیسز کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے، اس وقت ہوتی ہے جب جسم معمول کی سطح پر خون میں شوگر برقرار رکھنے کے لیے یا تو کافی مقدار میں انسولین پیدا نہیں کر پاتا یا انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔
اس تحقیق میں شرکاء کو باڈی ماس انڈیکس کی بنیاد پر آٹھ گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور ان تمام گروہوں کے درمیان تمام وجوہات سے ہونے والی اموات کی شرح کا موازنہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کم وزن والے گروہ میں اموات کا خطرہ نارمل وزن سے لے کر شدید موٹاپے والے گروہوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 3.8 گنا زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ ذیابیطس، امراض قلب اور دماغی شریانوں کی بیماریوں سے متعلق مخصوص اموات کی شرح بھی کم وزن والے گروہ میں 1.9 سے 5.1 گنا زیادہ پائی گئی۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔