آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دیر سے عشائیہ، امراض قلب کا اہم سبب، تحقیق میں انکشاف

اب صرف یہ اہم نہیں کہ آپ نے کیا کھایا جس سے آپکو امراض قلب لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جائیں۔اب محقیقین کہتے ہیں کہ کھانے کا وقت بھی اس حوالے سے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی تحقیق کاروں نے ایک سال کے عرصے کے دوران اپنی  تحقیق سے پتہ چلایا کہ جو خواتین شام چھ بجے کے بعد رات کا کھانا کھاتی ہیں انھیں مہلک اور موت سے ہمکنار کرنے والی خطرناک بیماریوں کے لاحق ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

انکا کہن تھا کہ وہ افراد جو اس کے بھی بعد یعنی چھ بجے سے بھی زیادہ دیر سے کھاتے ہیں ان میں ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون)، ہائی باڈی ماس انڈیکس (جسم کا تناسب سے زیادہ پھیلائو) اور بلڈ شوگر پر کمزور گرفت جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے اس سلسلے میں 112خواتین پر تحقیق کی اور بتایا کہ امراض قلب سے بچنے کا سب سے سادہ طریقہ شام کو جس قدر جلد ممکن ہو ڈنر یا رات کے کھانے(عشائیہ) سے فارغ ہوجانا چاہیے۔

امراض قلب کو چانچنے کے حوالے سے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن  نے سات آسان طریقے استعمال کیے ہیں۔اس میں تمباکو نوشی نہ کرنا، متحرک رہنا، صحت بخش خوراک اور دبلا پتلا اور وزن کم رکھنا، خون میں کم کولیسٹرول، کم بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کی سطح کو کم رکھنا شامل ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ بتائے گئے اقدامات پر جتنی سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں وہ اتنا ہی امراض قلب اور اسٹروک جیسی بیماریوں کے خطرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل افراد کی اوسط عمر 33برس تھی، اور انھیں تحقیق کے آغاز پر ایک ہارٹ ہیلتھ اسکور دیا گیا تھا، ایک سال بعد اسے دوہرایا گیا۔اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے فلاڈیلفیا اجلاس میں نتیجہ پیش کیا گیا اس میں پتہ چلا کہ چھ بجے کے بعد عشائیہ تناول کرنے والوں کے عارضہ قلب کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نہیں تھی۔

  وہ خواتین جنھوں نے شام چھ بجے کے بعد اپنی روزانہ کی کیلوریز کا زیادہ بڑا حصہ عشائیہ کے دوران استعمال کیا انھیں زیادہ تر ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ تھا۔اور یہ خواتین کافی فربہ یعنی انکا وزن زیادہ تھا اوریہ اپنا بلڈ شوگر بھی کنٹرول نہیں کرپارہی تھیں۔

یہ دونوں صورتحال امراض قلب کے لیے کافی خطرناک ہوتی ہیں۔یہ نتائج عمر اور سماجی و معاشی حیثیت میں ایڈجسٹمنٹ کے بعد بھی برقرار رہے، یعنی اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ گو کہ تحقیق میں مردوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا،  تاہم اس سے قبل کی تحقیق میں مردوں کے بھی بالکل ایسے ہی نتائج سامنے آئے تھے۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر نور مکرم نے کیلوریز کے استعمال کے حوالے سے کوئی خاص حد تو مقرر نہیں کی، تاہم جو ایک محفوظ حد ہونا چاہیے وہ شام چھ کے بعد دن بھر میں استعمال کا تیس فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔یعنی خواتین کے لیے 600اور مردوں کے لیے 750کیلوریز سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید