آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بی ایس او پجار کی کابینہ تحلیل، اتفاق رائے سے آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی آرگنائزر زبیر بلوچ نےتنظیم کو فعال کرنے کیلئے کابینہ تحلیل کرکے دونوں دھڑؤں کے اتفاق رائے سے گیارہ رکنی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے ہمیشہ نہ صرف طلباء کو متحد کرکے سیاسی و تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کی ہے بلکہ ایک سیاسی انسٹیٹیوٹ کی حیثیت سے بلوچ قوم پرست جماعتوں کو کیڈر بھی فراہم کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نادر بلوچ ، کریم بلوچ ، ڈاکٹر طارق بلوچ ، ابرار برکت بلوچ و دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ زبیر بلوچ نے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والے کونسل سیشن کے دوران غلط فہمی کی بنیاد پر تنظیم دودھڑوں میں تقسیم ہوئی تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مزید تقسیم اور انتشار کی متحمل نہیں ہوسکتی انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر دونوں دھڑوں کے مرکزی رہنماؤں نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے اپنے دھڑوں کی کابینہ تحلیل کرکے گیارہ رکنی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر نادر بلوچ ہوں گے جبکہ ممبران میں کریم بلوچ ، ڈاکٹر طارق بلوچ ، اختر بلوچ ، ابرار برکت بلوچ ، حاتم بلوچ ، نعیم بلوچ ، دین جان بلوچ ،

گورگین بلوچ ، بوہیر صالح بلوچ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران تین ماہ بعد مرکزی کونسل سیشن کا انعقاد کرکے نئی قیادت کا انتخاب کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلباء یونین کے رہنماؤں کا داخلہ روکنے کیلئے یونیفارم لازم قرار دیا گیا ہے حالانکہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں ایسا نہیں ، طلباء سیاست پر قدغن لگانے کیخلاف لائحہ عمل طے کرکے جدوجہد کا آغاز کریں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تنظیم نے یونیورسٹی آف بلوچستان اسکینڈل کیخلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے ذمہ داروں کے کیخلاف کارروائی عمل میں لانے کامطالبہ کیا واقعے کی تحقیقات کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں پارلیمانی کمیٹی طلباء سے بات کرنے کی بجائے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرکے کارروائی کا آغازکرتی تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔

کوئٹہ سے مزید