آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سنیے آج کے کالم کا خلاصہ کالم نگار کی زبانی


اپریل 2016ء میں میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 6 فوجی افسران کو کرپشن کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا۔ جن افسران کو نکالا گیا اُن میں ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک میجر جنرل بھی شامل تھے۔

2018ء میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک ایڈیشنل اور سیشن جج کو ایک کیس میں رشوت لے کر ملزم کے حق میں فیصلہ دینے پر نوکری سے نکال دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے بار ہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے خلاف ریفرنس فائل ہونے پر موقع دیا کہ وہ چاہیں تو ریٹائرمنٹ لے لیں جس پر اُن کے خلاف کیس بند کر دیا جائے گا۔ ماضی میں کئی کیسوں میں ایسے ججوں نے کرپشن یا دوسری نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنے کے بجائے ریٹائرمنٹ لینا مناسب سمجھا۔

گویا اگر کوئی فوج میں کرپشن کرتا ہے تو اُس کی سزا نوکری سے برخاست ہونا ہے اور پنشن بھی اکثر ایسے کیسوں میں روک دی جاتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کرپشن کے الزامات پر پنشن سمیت تمام سہولتوں کے ساتھ ریٹائرمنٹ لینے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی سیاستدان یا کسی سول سرکاری افسر پر کرپشن کا کیس بن جائے تو اکثر اُنہیں الزام کی بنیاد پر ہی جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور اگر کرپشن کا الزام ثابت ہو جائے تو نہ صرف لوٹا ہوا پیسہ وصول کیا جاتا ہے بلکہ چودہ سال تک قید کی سزا بھی بھگتنا پڑتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی جرم میں سزا کی نوعیت یہاں اس لیے مختلف ہو جاتی ہے کیونکہ مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے قانون مختلف سزائیں تجویز کرتا ہے۔

گویا خواب ایک پاکستان کا دیکھا اور دکھایا جاتا ہے لیکن یہاں دو کیا، تین پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جا سکتی۔

موجودہ حکومت نے بھی ایک پاکستان کا وعدہ کیا تھا لیکن جو مرضی کر لیں پاکستان نہ ایک ہے، نہ ہی ایک ہوگا۔

ایک پاکستان اشرافیہ کا ہے اور ایک عام عوام کا۔ جب اشرافیہ اور بااثر طبقات کی بات ہوتی ہے تو وہاں بھی ہمیں دو پاکستان ہی نظر آتے ہیں، ایک وہ طبقہ جو کسی حد تک قابل گرفت ہے اور دوسرا وہ طبقہ جو قابل گرفت نہیں اور اگر ہے تو اُس طبقے کی گرفت ایسے کی جاتی ہے جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کرپشن کو کسی بھی معاشرے کے لیے ناسور تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی کرپشن ایک بڑی خرابی ہے جس کے علاج کے لیے احتساب کے نام پر بہت کچھ ہوا لیکن زیادہ تر احتساب کا نزلہ سیاستدانوں اور سرکاری افسروں پر ہی گرتا رہا۔ کبھی پروڈا تو کبھی ایبڈو اور کبھی نیب کے نام پر سیاستدانوں کا ’’احتساب‘‘ کیا گیا،سول بیورو کریسی کو بھی گاہے گاہے نشانہ بنایا جاتا رہا۔

تیرہ سو افسران کو ایک جھٹکے میں نوکری سے نکال دیا گیا لیکن کسی دور میں بھی احتساب بلاتفریق نہیں ہوا اور اکثر یہ شکایت رہی کہ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین اور ناپسندیدہ افسران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Across the Board Accountability کی بات ہمیشہ ہوتی رہی اور بولنے اور سننے والوں کو اچھی بھی لگتی رہی لیکن اس کو کبھی حقیقت نہیں بنایا جا سکا۔ جب احتساب انتقام میں بدل جائے، جب ایک ہی نوعیت کا جرم (کرپشن) کرنے والوں کے لیے سزا میں امتیاز برتا جائے، کیونکہ اُن کا تعلق مختلف اداروں سے ہو، جب حکمران جماعتیں اور مارشل لائی حکومتیں اپنے مخالفوں کو سبق سکھانے کے لیے احتساب اور کرپشن کے قوانین کا غلط استعمال کریں، جب احتساب کے ادارے کو سیاسی جماعتوں کو بنانے، توڑنے یا حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تو پھر ایسی ریاست اور ایسے معاشرہ کا وہی حال ہو گا جو پاکستان کا ہو رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)