آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دہلی میں تازہ آکسی جن فراہم کرنے والا بار قائم

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جو ان دنوں شدید فضائی آلودگی کے باعث ایئر کوالٹی (غیر معیاری یا غیر صحت بخش و آلودہ آکسیجن) جیسے مسائل کا شکار ہے، اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیےجو اقدامات کیے گئے اس میں اب ایک اور آپشن پر کام جاری ہے۔

جی ہاں یہ ایک بار ہے جہاں پر ہوا کو پیور (خالص) کیا جاتا ہے۔ یہ بار آریہ ویر کمار اور مارگریٹا کوریٹسیانا نےدہلی کے نیشنل کیپٹل ریجن میں قائم کیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا آکسیجن بار ہے، اور اسے آکسی پیور کا نام دیا۔

یہ پندرہ منٹ کے لیے 80 سے 90 فیصد خالص آکسیجن فراہم کرنے کی پیشکش کرتا ہے جس کے نرخوں کا آغاز 299 بھارتی روپے سے ہوتا ہے۔ اس بار کا آغاز رواں سال مئی میں ہوا تھا، یہ اپنے کسٹمرز کو متعدد خوشبویات بھی پیش کرتا ہے۔

یہ خوشبو تازہ اور خالص آکسیجن جذب کرنے کے لیے آنے والے کسٹمرز کی پسند سے بار کو مہکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس میں لیمن گراس، لیونڈر، چیری، یوکلیپٹس(بام کے پتے کی خوشبو) اور دیگر خوشبویات شامل ہیں۔

یہاں آنے والے کسٹمرز کو نوزل کینولا دیا جاتا ہے  جو کہ  ایک ہلکے سے وزن والا ٹیوب ہوتا ہے اور انہیں سپلیمنٹری آکسیجن لینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ آلہ کسٹمرز کے نتھنو کے قریب لگادیا جاتا ہے اور انہیں ہدایات کی جاتی ہے کہ وہ خوشبو ملا آکسی جن اس سے جذب کریں۔

اس خوشبو ملے آکسیجن کو جذب کرنے کے ہر سیشن کے بعد استعمال کنندہ شخص کے سائنس(ناک کے اندر موجود جھلی) میں بہتری آتی ہے، جبکہ ساتھ ہی ساتھ اچھی نیند، بہتر نظام ہاضمہ، سر درد اور مائیگرین جیسے عوارض سے نجات بھی حاصل ہوتی ہے، اسکے علاوہ اس سے ڈپریشن میں بھی کافی افاقہ ہوتا ہے۔

ایک بھارتی نیوز ویب پورٹل سے گفتگو کرتے ہوئے منجول مہتہ نامی ایک کسٹمر نے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ یہاں سے گزررہا تھا تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ آزمایا جائے، لہٰذا اس نے لیمن گراس فلیور آکسی جن آرڈر کیا، جس سے اسے کافی تازگی کا احساس ہوا۔

بار کے سینیئر سیلز اسسٹنٹ بونی آئرنگبام نے بتایا کہ سیشن استعمال کرنے والے کسٹمرز کا رسپانس کافی مثبت ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں تو لوگوں کا رویہ منفی تھا لیکن بعد میں بہتر ہوا۔

وہ افراد جو اسے پہلی بار استعمال کرتے ہیں وہ اس سے کافی پرسکون محسوس کرتے ہیں، تاہم اس کا اصل فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کہ اسکےسیشن پابندی سے استعمال کرینگے۔ ہم مسلسل سیشن کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے اور مشورہ دیتے ہیں کہ ایک دن میں دس سے پندرہ منٹ کا سیشن کریں۔

اس حوالے سے دہلی کے اندرا پرستھا اپولو اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ برائے امراض تنفس ڈاکٹر راجیش چائولہ نے کہا، گوکہ اس کے کوئی مضر اثرات تو نہیں ہوتے، لیکن پھر بھی یہ طویل المیعاد فوائد فراہم نہیں کرتا۔ چاہے آپ روزانہ اس نام نہاد آکسیجن بار میں دو گھنٹے بھی گزار لیں، لیکن آپکو اپنے بقیہ بائیس گھنٹے پھر اسی آلودہ فضا میں ہی گزارنا ہے۔ لہٰذا اسے دولت مندوں کا ایک چونچلہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید