آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستانی فلموں کی موسیقار جوڑی ’موسیقار وزیر افضل‘

پاکستان کی فلمی اور غیر فلمی موسیقی کا ایک جانا پہچانا نام وزیر افضل، دراصل یہ دو موسیقاروں کی جوڑی کا نام ہے۔ وزیر جن کا پورا نام وزیر علی ہے۔ 4؍ جون 1934ء پٹیالہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد 1948ء میں لاہور آگئے۔ ’’سرود‘‘ بجانے کے ماہر یہ موسیقار ابتدائی طور پر فنی دنیا میں کراچی ریڈیو سے متعارف ہوئے۔ اپنے دور کے معروف موسیقار ماسٹر غلام حیدر کے کہنے پر ’’سرود‘‘ چھوڑ کر منڈولین بجانے کی طرف ر اغب ہوگئے۔ 1955ء میں پہلی بار ماسٹر عنایت حسین کی سنگت میں فلم ’’قاتل‘‘ کے اس مقبول نغمے ’’او مینا نجانے کیا ہوگیا‘‘ میں منڈولین بجا کر فلمی دنیا میں متعارف ہوئے۔ اسی اثناء میں ان کی ملاقات صاحب طرز موسیقار خواجہ خورشید انور سے ہوئی، جن کے ساتھ انہوں نے فلم ’’انتظار‘‘ میں بہ طور سازندہ نواز کام کیا۔ وزیر وہ واحد خوش نصیب موسیقار ہیں جنہیں، باقاعدہ خواجہ خورشید انور کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ باقاعدہ موسیقار بننے کے باوجود بھی خواجہ صاحب کے سازندے رہے۔

دوسری جانب افضل جن کا پورا نام محمد افضل تھا ، امرتسر میں پیدا ہوئے، ان کے والد بھائی ڈیسا اپنے زمانے کے خوبرو اداکار، گلوکار اور موسیقار معروف ہوئے۔ افضل بنیادی طور پر وائلن نواز تھے۔ سینٹرل پروڈکشن یونٹ (ریڈیو پاکستان، لاہور) میں ایک عرصےتک وہ ملازم رہے، ان کا ایک دانت سونے کا تھا۔ وہ وزیر صاحب کے رشتے میں بھتیجے تھے۔ فلمی دنیا میں چاچا بھتیجا کی یہ موسیقار جوڑی بے حد مقبول ہوئی۔ آج بھی اسی نام یعنی ’’وزیر افضل‘‘ سے ہی موسیقار وزیر کی پہچان ہے۔

افضل 2007ء میں انتقال کرگئے اور وزیر آج بھی بقید حیات اپنی فنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیر صاحب کو فنی خدمات کے صلے میں تمغۂ امتیاز بھی مل چکا ہے۔بہ طور موسیقار وزیر اور افضل کی جوڑی کا آغاز 1963ء میں نمائش ہونے والی پنجابی فلم ’’چاچا خامخواہ‘‘ سے ہوا، اس فلم میں وزیر افضل کے علاوہ جی اے چشتی بھی موسیقار تھے۔ انہوں نے چند نغمات کی دُھنوں کے علاوہ اس فلم کی پس پردہ موسیقی بھی دی تھی۔ اس جوڑی کو اصل شہرت 1965ء میں ریلیز ہونے والی اردو فلم ’’زمین‘‘ کے نغمات سے ملی۔ اس فلم میں شہنشاہ غزل خاں صاحب مہدی حسن کی آواز میں یہ درد و سوز سے بھر پور نغمہ ’’شکوہ نہ کر گلہ نہ کر‘‘  کراچی سے خیبر تک، ان کی پہچان بن گیا۔ 

فلم کے دیگر نغمات بھی خاصے مقبول ہوئے۔ اداکار علائو الدین کی ذاتی پنجابی فلم ’’دل دا جانی‘‘ کی موسیقی اس قدر سُریلی اور سپر ہٹ ثابت ہوئی کہ ہر طرف وزیر افضل کی جوڑی کی تعریفیں ہونے لگیں۔ یہ سپر ہٹ میوزک سے آراستہ فلم 1967ء میں ریلیز ہوئی۔ ’’سیونی میرے دل دا جانی‘‘ نورجہاں کے ترنم کی زندہ مثال بن کر آج بھی سماعتوں میں رس گھولتا ہوا محسوس ہوتاہے۔ اس فلم کا شمار بہترین میوزیکل پنجابی فلموں میں کیا جاتاہے۔ دل دا جانی ، کے بعد انہوں نے جن پنجابی فلموں میں موسیقی ترتیب دی، ان میں ’’دومٹیاراں‘‘، ’’اک سی ماں‘‘، ’’سوہنا‘‘، ’’ڈھول جانی‘‘، ’’جماں جنج نال‘‘ اور ’’مہندی‘‘ کے نام شامل ہیں۔ مہندی 1968ء میں ریلیز ہوئی اور اسی سال وزیر اور افضل کی جوڑی ٹوٹ گئی۔ جوڑی ٹوٹنے کے بعد افضل برسہا برس حیات رہے اور ریڈیو لاہور سے وابستہ ر ہے۔ 

وزیر بہ طور موسیقار فلموں کے ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور اور ٹیلی ویژن پر بھی مصروف فن رہے اور آج بھی کام کررہے ہیں۔ افضل صاحب نے ایم افضل کے نام سے دو فلموں میں موسیقی ترتیب دی، جس میں ایک ’’ماجھے دا شیر‘‘ ریلیز نہ ہوسکی، جب کہ دوسری فلم ’’بدلہ یار دا‘‘ غالباً 1978ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ وزیر افضل کی جوڑی میں بننے والا آخری سپر ہٹ گانا ’’کہندے نے نیناں تیرے کول رہنا‘‘ فلم ’’جماں جنج نال‘‘ کا تھا، جسے میڈم نور جہاں نے اس چاہ اور خُوب صورتی سے ریکارڈ کروایا کہ یہ دُھن آج بھی سدابہار ہے۔ 

یہ جوڑی ٹوٹ جانے کے بعد وزیر صاحب نے اپنے ساتھی موسیقار افضل کا کبھی بھی کوئی خاص تذکرہ نہیں کیا، بلکہ وہ تمام گانوں کا کریڈٹ آج بھی خود ہی لیتے ہیں، حالاں کہ 1968ء تک جتنے بھی گانے ہٹ ہوئے ہیں، ان کی اصل کمپوزیشن بنانے والے افضل ہی تھے، یہ بات اس دور کے کئی سازندے کہتے ہیں۔بلاشبہ وزیر نے بہ طور موسیقار 1968ء کے بعد بہت معیاری میوزک دیا ہے۔ ان میں بھائیاں دی جوڑی، سو دن چور دا، پردیسی، بھائیاں باج نہ جوڑیاں، یار مستانے، دھن جگر ماں دا، گاما بی اے، سر عام، لکھا، حراست اور اندھیر نگری کے نام شامل ہیں۔

موسیقاروزیر افضل کے چند غیر فلمی سپرہٹ نغمات میں چھاپ تلک سب چھین لی، آواز ناہید اختر۔ آج یہ کون سا، آواز حامد علی خان۔ رنگوادے چنریا، آواز ناہید اختر۔ میرا لونگ گواچا، آواز مسرت نذیر۔ رکھ دلدے تے اکھ نئیں لگدی، آواز افشاں۔ گھنڈ کڈھن کرماں والڑیاں، آواز حامد علی بیلا۔ رانجھا رانجھا کردی، آواز ثمر اقبال۔ حادثے کیا کیا تمہاری بے رخی، آواز رجب علی۔ گورے ساگر نیلی آنکھیں، آواز اقبال بانو۔ غم کی بارش نے بھی، آواز زاہدہ سلطانہ۔ متاع بے بہا ہے، آواز پرویز مہدی۔فلم یار مستانے کے گانے بہت ہی مقبول ہوئے ان میں خاص طور پر ’’وے توں قرار میرا پیار میرے جانیاں‘‘، ’’جا اج توں میں تیری‘‘ ملکہ ترنم نورجہاں کے یہ دونوں گانے اپنی مقبولیت آج بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ’’جا اج توں میں تیری‘‘ وہ گانا ہے، جسے نور جہاں نے بھارت میں اپنے دورے کے درمیان جب گایا تو پورا ہال جھوم اٹھا۔ ممتاز موسیقار نوشاد صاحب بھی وہاں تشریف فرما تھے ۔انہوں نے اس گیت کی طرز کے بارے میں وزیر افضل کی تعریف میں ایک خط لکھ کر نورجہاں کو دیا کہ یہ اس گانے کے موسیقار کو ضرور دیجیے گا۔ راگ ایمن میں اس قدر خُوب صورت گانا بنا کر انہوں نے کمال کیا ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید