آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک بھارتی فلم کا ڈائیلاگ بڑا مشہور ہے کہ ’’گندا ہے، پر دھندہ ہے یہ‘‘۔ یہ سننے کے بعد مجھے اپنے شہرہ آفاق ناول ’’خدا اور محبت‘‘ کے خالق ہاشم ندیم کے الفاظ یاد آتے ہیں کیونکہ وہ بھی اکثر غلط کاموں کو دھندہ کہتے ہیں، اگرچہ وہ خود سرکار کے ملازم ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی کبھار اس دھندے کو رواج دیتے ہیں لیکن پھر بھی دھندے والوں کے خلاف ہیں اور دھندے والے نظام سے سخت اختلاف رکھتے ہیں۔ بھارتی فلم کے ڈائیلاگ اور ہاشم ندیم کے فلسفے کی تشریح بلوچستان میں نظر آتی ہے۔ بچپن کے گھروندے بنانے کی عادتیں بڑے ہو کر بھی کچھ چالاک بلوچستانیوں کے ساتھ رہیں اور بڑے ہو کر نظام کے کرتا دھرتا بننے کے بعد بھی صوبے کے انتظامی معاملات بھی گھروندوں کی طرز پر چلانے لگے جس سے صوبے کے عام آدمی کو جہاں پریشانیاں لاحق ہوئیں وہیں مسائل مزید بڑھنے لگے، یوں اقتدار اور بیوروکریسی کا حصہ بننا پُرکشش دھندہ بن گیا اور ہر شخص کی کوشش رہی کہ جائز و ناجائز طریقے سے دونوں دھندوں میں اپنی جگہ بنا سکے۔ اس طرح عام بندہ مذکورہ دھندوں سے بدظن ہوتا چلا گیا۔ کیونکہ ان دھندوں میں کیڈر پوسٹوں پر (متعلقہ اور غیر متعلقہ) نان کیڈر لوگ داخل ہوئے اور یوں جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسی صورتحال بن گئی۔ نان کیڈر لوگ کیڈر پوسٹوں پر بیٹھ کر حکومت اور ریاستی ملازمت کے نام پر ایسے فیصلے کرنے لگے جس کا خمیازہ سارے نظام کو صدیوں تک بھگتنا پڑے گا۔

نان کیڈر لوگ جب اقتدار میں آئے تو مسائل کا پورا الزام سابق نان کیڈر لوگوں پر لگا کر اپنے دھندے کو دوام دیا اور بلوچستان میں تھنک ٹینک کی عدم موجودگی اور مدلل بات برملا نہ کرنے والوں کی کمی نے اس نان کیڈر نظام کو مزید جلا بخشی۔ بلوچستان میں ہمیشہ سے ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے کہ یہاں جو اقتدار میں آیا، اس نے ماضی کی پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے اپنے پانچ سال اختلافی بیان پر ہی گزارے اور پھر اگلی حکومت نے ان سے یہی اختلاف جاری رکھا اور وقت گزار دیا۔ ادارے بنانے کے بجائے بلوچستان میں ہر سرکاری ادارے کا قیام بلڈنگ اور چار لوگوں کو روزگار دینا بن گیا۔ کچھ اسی سوچ کی حامل حکومتوں نے یہاں تعلیمی اداروں میں اصلات کرنے کے بجائے اُنہیں بڑی بلڈنگوں میں تبدیل کردیا۔

صوبے میں بلوچستان یونیورسٹی، آئی ٹی یونیورسٹی، سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی، لورالائی یونیورسٹی، تربت یونیورسٹی، میر چاکر یونیورسٹی سبی، لسبیلہ یونیورسٹی آف میرین سائنسز وجود رکھتی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کے صوبے کے زیادہ تر اضلاع میں سب کیمپسز بنائے گئے ہیں جو ایک دوسرے سے انتہائی کم فاصلے پر واقع ہیں۔ سب نے ان کیمپسز پر الگ الگ اخراجات کئے ہیں جبکہ مقصد بظاہر تو ایک نظر آتا ہے۔ درحقیت یہ یونیورسٹیاں صرف ٹھیکیداری کے حصول، کنسٹرکشن اور چند لوگوں کو سرکاری نوکری دینے کا ذریعہ بنائی گئی ہیں۔ حکومتی سطح پر پلاننگ کا فقدان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں اصلاحات کے لئے رولز آف بزنس میں ترامیم کی جائیں اور صوبے بھر میں یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ماتحت لانے کی پالیسی بنائی جائے اور قانون سازی کی جائے۔ یونیورسٹی کا مقصد بڑی بلڈنگ نہیں بلکہ ریسرچ ورک ہوتا ہے لیکن کیا بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں اکیڈمک ریسرچ ورک ہوتا ہے؟ یونیورسٹی ریسرچ کی آماجگاہ ہوتی ہے لیکن بلوچستان میں قائم یونیورسٹیز میں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں ہے کوئٹہ سے صرف 45منٹ کی مسافت پر واقع دو اضلاع مستونگ اور پشین میں بھی بلوچستان یونیورسٹی اور سردار بہادر خان یونیورسٹی کوئٹہ نے اپنے کیمپسز کھولے ہیں، بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس میں زیر تعلیم مستونگ کے طلبہ و طالبات کی رہائش بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں ہے، صبح وہ کوئٹہ سے یونیورسٹی کی بس میں بیٹھ کر مستونگ جاتے ہیں اور چھٹی کے بعد وہ واپس یونیورسٹی کی بسوں میں بیٹھ کر کوئٹہ آتے ہیں۔ آئی ٹی یونیورسٹی کے ژوب کیمپس میں جب تدریسی عمل شروع کیا گیا تو فیکلٹی ممبران کی تعداد 18جبکہ طلبہ کی تعداد صرف 7تھی۔ لورالائی یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کی تعداد 665جبکہ پڑھانے والے 40ہیں۔ یہاں پر وفاقی حکومتیں بھی صوبائی حکومتوں کے اس جرم میں برابر کی شریک ٹھہرتی ہیں کہ انہوں نے کیا اس سلسلے میں منظوری دیتے ہوئے کوئی فیزبیلٹی رپورٹ بنائی یا سروے کیا کہ ان یونیورسٹیز کے کیمپسز کے قیام کے بعد کتنے بچے یہاں تعلیم حاصل کرنے آئیں گے؟

تربت یونیورسٹی کا کیمپس پنجگور اور گوادر میں جبکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کا کیمپس لسبیلہ میں کھولا جا رہا ہے جبکہ مزید دو یونیورسٹیز یونیورسٹی آف گوادر اور شہید سکندر یونیورسٹی خضدار کا قیام آخری مراحل میں ہے جبکہ یونیورسٹی در یونیورسٹی بنانے والے صوبے کی یہ حالت ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے ایکٹ میں اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ وائس چانسلر کس طرح لگانا ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ ہم خصوصی اداروں کے قیام کی طرف جاتے، صوبے کے دیگر اضلاع میں یونیورسٹیوں کے نام پر بلڈنگ بنانے کے بجائے ضرورت تھی کہ کوئٹہ میں یونیورسٹیوں میں ہاسٹلز بناتے اور پورے بلوچستان سے زیادہ طلبہ کی گنجائش رکھی جاتی تاکہ فیکلٹی، انفراسٹرکچر کے معیار کو یقینی بنایا جا سکتا اور معیاری نتائج برآمد ہوتے۔ صوبے میں جب تک اداروں کو مضبوط نہیں کیا جاتا، صوبہ تعلیمی میدان میں شکست در شکست کا شکار ہوتا رہے گا۔ عالیشان بلڈ نگز بناکر آپ صوبے کی تعلیمی استعداد نہیں بڑھا سکتے، آپ کو ماہرین، ڈاکٹر اور عالمی معیار کے اساتذہ بنانے کے لئے راہ ہموار کرنی ہے نہ کہ کھوکھلی بلڈنگز آپ کے صوبے کو مستقبل کے ماہرین فراہم کریں گی۔