آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پارلیمنٹ ڈائری ،کورم کا آسیب بدستور اسکا تعاقب کررہا ہے

اسلام آباد(محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں کورم کا آسیب بدستور اس کا تعاقب کر رہا ہے، حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مناقشہ جاری ہو تو ایوان کا پرسکون طور پر چلنا دشوار ہو جاتا ہے، جب فریقین میں نفرتیں بام عروج پر پہنچ چکی ہوں تو کارروائی کا شروع ہونا اور جاری رہنا بھی محال بن جاتا ہے۔ حکومت اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی اب کھلی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے ان میں سماجی راہ و رسم بھی دائو پر لگ گئے ہیں، وہ تمام باتیں اور امور جنہیں قومی اسمبلی کے ایوان میں زیربحث ہونا چاہئے یا انہیں اٹھانا مستحب ہے، پارلیمنٹ سے باہر ہوتی ہیں۔وہ تمام الزامات جو ایک روز قبل وفاقی حکومت کے کل پرزوں نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے خانوادے کے دیگر ارکان کے خلاف زوروشور سے عائد کئے گئے اس موقع پر ایک وفاقی وزیر جو قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں، گفتگو کے دوران اس کی تائید اور حوصلہ افزائی کے لئے موجود رہے۔ حزب اختلاف جس کے مرکزی رہنما پروفیسر احسن اقبال نے اعلان کر دیا تھا کہ ان کی پارٹی تمام گرفتار شدہ ارکان کو ایوان میں لائے جانے تک کارروائی کا بائیکاٹ کرے گی، لاتعلقی کے اس اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر چوہدری برجیس طاہر نے مسند نشین نائب اسپیکر سے دریافت کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے رہنما اور پنجاب کے سابق سینئر وزیر رانا ثناء اللہ خان کو ایوان میں لانے کے لئے پروڈکشن آرڈر کا اجراء کیوں عمل میں نہیں لایا گیا اور ان کے حلقہ نیابت کے رائے دہندگان کو حق نمائندگی سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔ مسند سے کوئی جواب نہ آنے پر انہوں نے اعلان کیا کہ اس صورتحال میں وہ اپنے فیصلے کے مطابق ایوان میں نہیں بیٹھ سکتے اور کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ حزب اختلاف کے دیگر ارکان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ حزب اختلاف کے ارکان کے ایوان کے باہر کی راہ لیتے ہی ایوان میں ویرانیاں چھا گئیں۔ حکومتی ارکان کی دلچسپی پہلے ہی واجبی رہ گئی ہے اب قومی اسمبلی اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہی تھی، دو تین وزراء ایوان میں ضرور موجود تھے لیکن کارروائی سے دلچسپی عنقا تھی۔
اسلام آباد سے مزید