آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈیفنس سے اغواء دعا منگی کی ڈرامائی واپسی، گھر والے خاموش

 دعا منگی کی ڈرامائی واپسی، گھر والے خاموش


کراچی (اسٹاف رپورٹر ) ڈیفنس سے8روز قبل اغوا ہونے والی لڑکی دعا منگی ڈرامائی طور پر خود ہی گھر پہنچ گئی ہے۔ دعا منگی کی رہائی بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد ہونے کا انکشاف ہواہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیفنس بخاری کمرشل سے30نومبر کی شب اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی 8روز بعدگھر واپس پہنچ گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق دعا منگی گزشتہ رات گھر واپس پہنچی تھی تاہم اس کے اہلِ خانہ اس حوالے سے کوئی بھی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دعا منگی کو بازیابی تاوان کے عوض عمل میں آئی ہے اور اس سلسلے میں بھاری رقم تاوان کی مد میں ادا کی گئی ہے تاہم پولیس نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کاموقف دینے سے گریز کیا ہے۔

دعا منگی کے ماموں وسیم منگی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا الحمدللہ دعا گھرپر خیریت سے ہے، کمیونٹی سے مشاورت کے بعد دعا منگی سے متعلق فیصلہ کرینگے، معاملے پر بہت سے پہلو ایک ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں، دعا منگی کی واپسی میں بہت سی چیزیں شامل ہیں،بات نہیں کرسکتے۔

دعا منگی کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹی کی واپسی پر میڈیا کی بہت زیادہ شکر گزار ہوں، میڈیا کی وجہ سے رہائی ممکن ہو سکتی، میری بیٹی کی طبیعت بہتر ہے۔

والد کا بھی کہنا تھا کہ میں بیٹی کی رہائی پر میڈیا اور سول سوسائٹی کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری بیٹی کے اغوا کے بعد ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ آپ سب کی مہربانی میری بیٹی گھر پہنچ گئی ہے۔

دیگر اہلخانہ کا کہنا تھا کہ میڈیا سمیت سول سوسائٹی اور سب لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ خصوصی طور پر سندھ کے لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں، تاوان کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

ذرائع کے مطابق اغواء کاروں نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو استعمال کیا، یہ ڈیوائس کراچی سے باہر سے خریدی گئی تھی۔ پولیس کیس کو بند کرنے کی حامی نہیں ہے، اس کیس کو کھولا رکھ کر مزید تفتیش کرے گی، تفتیش کے دوران جانچا جائے گا کہ ایسے کون سے محرکات تھے جسکے باعث دعا منگی کو اغوا کیا گیا۔

پولیس طالبہ کے ساتھ ملاقات کے دوران بیان ریکارڈ کریگی۔گذشتہ روز دعا منگی کے کیس میں زخمی ہونے والے حارث نے ابتدائی بیان ریکارڈ کرایا تھا ، جس میں زخمی حارث نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں گاڑی کو شناخت کرلیا تھا۔

تفتیش کاروں نے حارث سے تحریری سوال کیا کہ اغواء کاروں کی تعداد کتنی تھی جس پر حارث نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان کی تعداد 4 سے 5 تھی۔ اس حوالے سے ڈی آئی ساؤتھ آفس سے جاری کیئے گئے اعلامیئے کے مطابق مقدمہ میں تفتیش کی جاری ہے مزید تفصیلات سے جلد مطلع کیا جائیگا۔

یاد رہے کہ 30 نومبر کو بخاری کمرشل میں ایک ریستوران کے قریب سے کار سوار ملزمان نے دعا نامی طالبہ کو زبردستی اغوا کیا تھا جبکہ لڑکی کے ساتھ موجود نوجوان حارث فتح سومرو فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا۔بعدازاں دعا منگی کی بازیابی میں ناکامی اور کوئی سراغ نہ ملنے پر اہل خانہ اور سول سوسائٹی کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا جس میں دعا کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید