آپ آف لائن ہیں
منگل13؍ذی الحج 1441ھ 4؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ون، ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ٹو کے بعد حاضر ہے اگلی فخریہ پیشکش، جعلی کمپنیاں، جعلی ٹرانزیکشنز،پیسہ گھماؤ، کالا دھن سفید بناؤ، ٹی ٹی پارٹ ٹو میں آپ پڑھ چکے کہ کس طرح شہباز شریف نے مبینہ طور پر اپنی ہرے رنگ کی بلٹ پروف لینڈ کروزر ٹی ٹی رقمیں لانے، لے جانے کیلئے وقف کر رکھی تھی.

کس طرح ٹی ٹی رقموں سے مبینہ طور پر حمزہ شہباز نے جو ہر ٹاؤن لاہور میں پلاٹ خریدے، کس طرح ٹی ٹی رقموں سے شہباز شریف نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ تہمینہ درانی کو ولااور کاٹیج خرید کر دیا، آب آئیے آج کے موضوع پر، کیسے کالادھن سفید ہوا.

کیسے ٹی ٹی رقمیں مبینہ طور پر مختلف کاروباروں میں لگیں، ویسے تو بیسیوں جعلی کمپنیاں، سب کمپنیوں کا بتانے لگ جاؤں تو 50کالم لکھنے پڑ جائیں،لہٰذا نمونے کے طور پر صرف ایک کمپنی گڈ نیچر ٹریڈنگ کی مبینہ طور پر دو چار موٹی موٹی وارداتیں، گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی نثار گل کی.

یہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کا ڈائریکٹر پولیٹکل افیئر بھی، یہ وہی کمپنی جس کے ذریعے مبینہ طور پر 7ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی،یہی کمپنی کمرشل بینکوں کے قرضے غبن کرنے،کالا دھن سفید کرنے کیلئے بھی استعمال ہوئی، نیب کے مطابق 2016سے 2018کے دوران گڈنیچر ٹریڈنگ کمپنی نے ایک نجی بینک سے 9سو ملین قرضہ لیا.

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ گڈ نیچر ٹریڈنگ تو ایک جعلی کمپنی، اسے قرضہ کیسے مل گیا،تو سنیے، اس کاغذی کمپنی کو قرضہ دلوانے کیلئے میدان میں آئی ایک اور کمپنی اور اس کمپنی کا نام تھا رمضان شوگر ملز.

 جی ہاں وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ڈائریکٹر پولیٹکل افیئرز کی گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی کو قرضہ دلوانے کیلئے بینک گارنٹی دی شریف خاندان کی مشہور ومعروف رمضان شوگر ملز نے۔

رمضان شوگر ملز نے نجی بینک سے کہا، گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی ہم سے گنے کی ٹریڈنگ کر رہی، ہم اسکی گارنٹی دیں، اسے قرضہ دیا جائے،ثبوت کے طور پر رمضان شوگر ملز نے بینک کو وہ رسیدیں دکھائیں، جن رسیدوں کے مطابق رمضان شوگر ملز نے گڈ نیچر ٹریڈنگ سے گنا خریدا ہوا.

یوں خالی رسیدیں دکھانے پر بینک نے قرضہ دیدیا، چلیں قرضہ مل گیا، اب اس 9سو ملین قرضے کا کیاہوا، کیا نثار گل کی گڈنیچر ٹریڈنگ نے اس قرضے سے کوئی کاروبار کیا،گنا خریدا، چینی خریدی، نہیں بالکل نہیں، بلکہ 3سالوں کے دوران ملے اس قرضے کی پہلی قسط 21اپریل 2016 کو 2 سو ملین بینک سے گڈنیچر ٹریڈنگ کے اکاؤنٹ میں آئی، تو ایک دن بعد 22 اپریل 2016 کو شہباز شریف خاندان کا پرانا ملازم شعیب قمر ایک ملین چھوڑ کرباقی 199ملین نکلو ا کر لے گیا.

سال2017، 10مارچ کو قرضے کی دوسری قسط 350 ملین گڈ نیچر ٹریڈنگ کے اکاؤنٹ میں آئی، پانچ دن بعد 15مارچ 2017 کو 100ملین شریف خاندان کا ذاتی ملازم شعیب قمر نکال کر لے گیا، اگلے دن 16مارچ کو شعیب قمرمزید 2سو ملین نکال لے جائے.

چند دن بعد شہباز خاندان کا دوسرا ذاتی وفادار مسرور انور باقی رقم نکال کر لے جائے، سال2018، 13 اپریل، قرضے کی آخری قسط 350 ملین گڈ نیچر ٹریڈنگ کے اکاؤنٹ میں آئے، اسی دن شہباز خاندان کا ملازم مسرور انور 150ملین نکلوا لے، باقی 2سو ملین مسرور انور 17اپریل کو نکلوا لے.

مطلب گڈ نیچر قرضہ لینے کیلئے درخواست دے، گارنٹی دے رمضان شوگر ملز، پیسے اکاؤنٹ میں آئیں اور پیسے نکلوا کر لے جائیں شہباز شریف خاندان کے ملازمین شعیب قمر، مسرور انور وغیرہ... کیوں... کیسا ہے؟

اب کہانی یہ، رمضان شوگر ملز مبینہ طور پرگڈنیچر ٹریڈنگ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے کالے دھن کو قرضہ ظاہر کرے، پھر یہی رقم بینک واپس کرکے کالے دھن کو سفید کر لے، مطلب ایک جعلی کمپنی کو قرضہ دلوا کر،اپنے اکاؤنٹ میں رقم کی ریکور ی اور بینک کی رقم بینک کو واپس،یہی نہیں.

اسی طرح دسمبر 2016میں شریف ڈیری فارمز ایک نجی بینک سے رننگ فنانس لے، اس رننگ فنانس کے 70ملین گڈ نیچر ٹریڈنگ کے اکاؤنٹ میں آئیں، یہ رقم بھی شعیب قمر،مسرور انور نکلوا لیں۔

آگے سنیے،2015سے2018کے دوران گڈ نیچر ٹریڈنگ کے اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر 2ہزار 264 ملین کی ٹرانزیکشنز ہوئیں اور شریف گروپ کے کاروباری یونٹس خوشی برادرز، چنیوٹ پاور، رمضان شوگرملز، گلف شوگر ملز، شریف ڈیر ی فارمز، العربیہ شوگر ملز، وقار ٹریڈنگ،رمضان انرجی ملز اس رقم سے مستفید ہوئے اور سنیے، گڈنیچر ٹریڈنگ نے رمضان شوگر ملز سے 591ملین وصول کئے مگر کمپنی ریکارڈ میں اس رقم کا کوئی ذکر نہیں.

گڈ نیچر ٹریڈنگ نے چنیوٹ پاو ر کو 3ارب ادا کئے، کمپنی ریکارڈ کے مطابق گڈ نیچر ٹریڈنگ نے 1.7ارب کے زرعی اجزا چنیوٹ پاور کو دیئے مگر یہ زرعی اجزا کیا،کچھ پتا نہیں، باقی 1.3ارب گڈ نیچر نے چنیوٹ پاور کو کیوں دیئے.

کچھ پتا نہیں، گڈ نیچر کا ریکارڈ بتائے کمپنی نے گلف شوگر ملز میں 375ملین کی سرمایہ کاری کر رکھی مگر گلف شوگر ملز کی سیکورٹی ایکسچینج کو دی گئی دستاویزات میں سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں جبکہ بینک ریکارڈ بتائے،رقم گڈ نیچر ٹریڈنگ سے گلف شوگر ملز میں ٹرانسفر ہوئی اور اس میں سے بھی 340ملین شعیب قمر،مسرور انور نکال کر لے جائیں۔

یہ پیسے گھماؤ، کالا دھن سفید بناؤ فلم کے چند مبینہ ٹریلر، یہ دوست ارشد شریف تفصیل سے بتا چکا، یہ آسانی سے سمجھ میں آنے والے نہیں، یہ ایسا گورکھ دھندا کہ اسے سمجھنے کیلئے نیب کو ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان کی مدد لیناپڑی.

اب ایک طرف یہ کرتوت، یہ لچھن،دوسری طرف خادم اعلیٰ،ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو مجھے الٹا لٹکا دیں، پھر سے استاد حسن نثار یاد ا ٓجائیں، دامن بھی صاف، خزانہ بھی صاف،اللہ اللہ خیر صلا۔