آپ آف لائن ہیں
منگل13؍ذی الحج 1441ھ 4؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق!

(گزشتہ سے پیوستہ)

اسلام ایک ایسا دین ہے جو کسی بھی مذہب کو بری نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ تمام آسمانی مذاہب کی تصدیق کرتا اور ان کے پیروکاروں کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں یہودیت اور عیسائیت کی طرح وہ اپنا دروازہ طالب ہدایت کے لیے بند نہیں کرتا بلکہ ہر وقت کھلا رکھتا ہے، مگر کسی بھی غیر مسلم کو جو مسلم حکومت کے زیر نگیں زندگی گزار رہا ہو، مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اسلام قبول کرلے قرآن کریم میں واضح حکم ہے:دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’اپنے رب کے راستے کی طرف اچھی باتوں کے ذریعے بلائو اور بہت پسندیدہ طریقےسے بحث کرو‘‘۔اسی کے ساتھ اس کی بھی تلقین ہے :مسلمانو! جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں ،انہیں برا نہ کہو، یہ لوگ نادانی سے خدا کو برا کہنے لگیں گے۔ (سورۃ الانعام)نیزفرمایا گیا:’’جس نے اس کے رسولﷺ کی ہدایت کے مطابق سیدھی راہ اختیار کی، وہ تو اپنے ہی لیے اختیار کرتا ہے اور جو بھٹکا ،وہ بھٹک کر اپنا ہی راستہ کھوٹا کرتا ہے‘‘۔سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد رب العزت ہے:جو شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے وہ اپنے نفع کے لیے راہ پر چلتا ہے اور جو شخص بے راہی اختیار کرتاہے سو وہ بھی اپنے نقصان کے لیے بے راہ ہوتا ہے‘‘۔ ان آیتوں سے واضح ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ روگردانی کرنے والوں سے کوئی تعرض نہ کیا جائے، ان پر کوئی زور، جبر اور زبردستی نہ کی جائے۔

اس میں کچھ تردد شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم خداوندی کی پاس داری کی ہے، بلکہ ان احکام کے مطیع و فرماں بردار بن کر رہے اور ان کا پورا پورا حق ادا کیا۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدینؓ نے مختلف اقوام سے جو معاہدے کیے اور ان کے ساتھ جو صلح نامے کئے ،ان میں اسلام کی وسعت نظری کا اندازہ اور دریادلی کا ثبوت ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ غیر اقوام کے لوگوں نے بھی اس چیز کو تسلیم کیا ہے کہ اسلام کس طرح غیر مذاہب کے لوگوں کا ادب واحترام کرتا ہے، انہیں کس طرح سے مذہبی آزادی، معاشرتی و تجارتی آزادی کی چھوٹ دیتا ہے۔ 

اہل نجران کی درخواست پر نبی اکرم ﷺنے جو انہیں صلح نامہ لکھ کر دیا تھا، اس کے الفاظ یہ تھے۔’’نجران کے عیسائیوں اور ان کے ہمسایوں کے لئے پناہ اللہ کی اور محمد ﷺ کا عہد ہے ،ان کی جان، مذہب ، زمین، اموال، حاضر وغائب، قاصدوںاور ان کے مذہبی نشانات، سب کے لئے جس حالت پر وہ اب تک ہیں ،اسی پر بحال رہیں گے۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق اور نشانات میں سے کوئی نشان نہ بدلا جائے گا۔ (فتوح البلدان ص ۷۳)

حضرت عمرفاروقؓ نے اہل بیت المقدس کو جو صلح نامہ لکھ کر دیا تھا اس کے الفاظ اس طرح ہیں:’’انہیں امان دی، ان کی جان ومال اور ان کے کنیسوں اور صلیبوں اور ان کے تندرستوں اور بیماروں کے لئے یہ امان ایلیا کی ساری ملت کے لیے ہے۔عہد کیاجاتا ہے کہ ان کے کنیسوں کو مسلمانوں کا مسکن نہ بنایا جائے گا اور نہ ہی انہیں منہدم کیا جائے گا۔ نہ ان کے احاطوں اور ان کی عمارتوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے اموال میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا ان پر دین کے معاملے میں کوئی جبر نہ کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کسی کو ضرر پہنچایاجائے گا‘‘۔ (تاریخ طبری فتح بیت المقدس، ج۴، ص۱۵۹)

اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ عزت واحترام کا معاملہ کیا اور ان کا کتنا پاس ولحاظ رکھا، اگر انہوں نے اسلامی ریاست میں رہنا قبول کرلیا اور ان سے عہد وپیمان ہوچکا تو اب ان کی حفاظت مسلمانوں کی ذمے داری قرار پائی۔کسی طرح کی ظلم وزیادتی کا ان کو شکار نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کا اندازہ نبی کریمﷺ کے اس فرمان مبارک سے ہوتا ہے۔’’خبردار جس کسی نے معاہد (غیرمسلم) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اس کی استطاعت سے زیادہ اس سے کام لیا۔ اس کی رضا کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جھگڑوں گا۔ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن ج:۸، ص:۱۱۵)

دین ومذہب کے سلسلے میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری اقوام نے کیا سلوک و برتاؤ کیا، کس طرح سے انہیں مذہبی جبر واکراہ کا شکار بنایا ،اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آج تک محفوظ ہے کہ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے کئی سو سال تک حکومت کی اور وہاں کے چپے چپے پر اسلامی تہذیب وثقافت کی یادگاریں قائم کیں، لیکن جب حکومت واقتدار ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور دشمنوں نے انہیں آگھیرا توغیرمسلموں نے ان کے ساتھ کیسی سفاکی و درندگی کا مظاہرہ کیا۔

سنگدلی اور بے رحمی کی یہی تاریخ صقلیہ میں بھی دہرائی گئی۔ جہاں عربوں نے دوسوسال تک حکومت کی تھی۔ پانچ سو مسجدیں تھیں، انہیں منہدم کرکے گرجا گھر میں تبدیل کردیا گیا۔ وہاں علماء، صوفیا اور حکماء کی جتنی قبریں تھیں، سب نیست و نابود کردی گئیں۔ اسلام نے دوسرے مذاہب وادیان کے ماننے والوں کو کتنا عزت وتوقیر سے نوازا، انہیں کس طرح کی مذہبی آزادی دی اور کس طرح ان کے حقوق کا پاس ولحاظ رکھا۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں نے کیا طریقہ کار اپنایا۔ یہ ہے وہ واضح فرق اسلام اور دوسرے مذاہب میں ،اسلام جیسی رواداری ،وسعتِ قلبی دنیا آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حال ہی میں ناروے میںاسلام مخالف تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے قرآن کریم کی توہین اور نذرآتش کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔اس شرمناک واقعے کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ دنیا میں رواداری ، مذہبی احترام،بنیادی انسانی حقوق کے سب سے بڑا علمبردار بنےہوئے ہیں اور ساری دنیا کو اس کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم کی بے حرمتی دنیا کے کسی بھی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں ہے اور اس پر مسلمانوں کا غصہ میں آنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا ایک فطری ردعمل ہے جو ان کے ایمان اور قرآن کریم کے ساتھ ان کی وابستگی کا تقاضا ہے۔ 

اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم کو قرآن کریم کی بے حرمتی کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے باضابطہ طور پر احتجاج کرنا چاہیے اور اس کا باقاعدہ سربراہی اجلاس بلا کر اس مسئلے پرواضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے، مغربی طاقتیں ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کی عملی زندگی کا قرآن کریم کے ساتھ تعلق قائم نہ رہے اور مسلمان قرآن کریم کو اسی طرح نظرانداز کر دیں جس طرح دنیا کی مسیحی اکثریت نے بائبل کو اپنی عملی زندگی سے لاتعلق کر رکھا ہے لیکن ماضی کی طرح آج بھی مغربی دنیا کو اس مہم میں ناکامی کا سامنا ہے اور قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ بحمد اللہ تعالیٰ بڑھتی جا رہی ہے۔ 

امریکہ اور مغرب کی دیگر اقوام کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ مسلمان عملی طور پر کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں، فکر و عقیدے کے حوالے سے ان کی وابستگی، نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی اور قرآن کریم کے ساتھ آج بھی قائم ہے اور اسے ختم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔