آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایچ آر ٹی کی کچھ اقسام چھاتی کے سرطان کے علاج میں مددگار

ایچ آر ٹی کی کچھ اقسام چھاتی کے سرطان کے علاج میں مددگار


ایچ آر ٹی کی کچھ اقسام درحقیقت خواتین میں چھاتی کے سرطان سے بچاؤ میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

برطانوی ٹیبلائیڈ کے مطابق ہارمون ریپلیسمنٹ تھیراپی (ایچ آر ٹی) سے متعلق جاری بحث و مباحثے میں اب نیا تجزیہ سامنے آیا ہے کہ اس طریقہ علاج کی وجہ سے خواتین میں چھاتی کے سرطان کی وجہ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ ایسی خواتین میں جو اوسٹروجین پروگیسٹوجن کی قسم کا ایچ آر ٹی لیتی ہیں ان میں کینسر کا خطرہ ان خواتین سے 26 فیصد زائد ہوتا ہے جو ڈمی دوائیں لیتی ہیں۔

یہی ایچ آر ٹی کی وہ قسم ہے جو زیادہ ترخواتین استعمال کرتی ہیں۔

لیکن صرف اوسٹروجین قسم کے ایچ آر ٹی کی وجہ سے اس خطرے کی شرح میں 24 فیصد کمی ہوتی ہے۔

امریکا میں 27 ہزار 300 خواتین پر ایک تحقیق کی گئی جو گزشتہ 19 سال سے جاری ہے، جو چھاتی کے سرطان کے خطرے سے بچنے کے لیے دوائیں لے رہی تھیں۔

اس تحقیق نے سائنسدانوں کو ایچ آر ٹی اور کینسر کے مابین رابطے کی تفہیم کو تبدیل کردیا ہے۔

تاہم یہاں اہم بات یہ ہے کہ خواتین کو اب تک علم نہیں ہے کہ انہیں کس قسم کا ایچ آر ٹی استعمال کرنا چاہیے۔

اوسٹروجین ایچ آر ٹی ان خواتین کے لیے صرف ایک آپشن ہے جو ہیسٹریکٹومی کرواچکی ہیں جو ایک ایسا آپریشن ہے جس میں رَحَم کو ختم کردیا جاتا ہے۔

چونکہ اوسٹروجین رحم میں کینسر کو بڑھانے کی وجہ جانا جاتا ہے تاہم اسی وجہ سے ایسی خواتین جو ہیسٹریکٹومی کرواچکی ہیں وہ صرف اوسٹروجین ایچ آر ٹی لے سکتی ہیں۔

صرف برطانیہ میں ہی ہر سال 60 ہزار کے قریب خواتین نے ہیسٹریکٹومی کرواتی ہیں لہٰذا ان کے لیے اوسٹروجین ایچ آر ٹی مفید ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے محقق، ڈاکٹر روون چلیبوسکی کے مطابق دہائیوں پر مشتمل تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ اوسٹروجین چھاتی کے سرطان کو کم کرنے میں کافی حد تک معاون ثابت ہوتا ہے جس کے باعث چھاتی کے سرطان کی وجہ سے شرح اموات میں کمی ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کو امریکی ریاست ٹیکساس میں سان انٹونیو بریسٹ کینسر سمپوزیم میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید