آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل25؍جمادی الاوّل 1441ھ 21؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلا کے حملے اور قانون و طب جیسے ممتاز پیشوں کے وابستگان کی باہمی محاذ آرائی کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے ان کے معاملات کی درستی کے لیے خود احتسابی کی ضرورت واضح کر کے بلاشبہ وقت کے ایک اہم تقاضے کی تکمیل کی ہے۔ ہفتے کو اسلام آباد میں فوری اور سستے انصاف کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صراحت کی کہ معاملے کے عدالت میں زیر سماعت ہونے کی وجہ سے وہ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جوکچھ ہوا وہ بہت افسوسناک ہے، طب اور وکالت کے معزز پیشوں سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا اور امید ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔ چیف جسٹس نے قانون اور طب کے معاملات کے حوالے سے خود احتسابی کی جس ضرورت کا اظہار کیا ہے فی الحقیقت یہ عمل ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔ چیف جسٹس کی یہ بات اس بنا پر بہت لائقِ توجہ ہے کہ اس کی حیثیت اُس زبانی جمع خرچ جیسی نصیحت کی نہیں جو آج ہمارے معاشرے میں بالعموم ہر شخص دوسروں کو کرتا نظر آتا ہے لیکن اپنی ذات اور اپنے معاملات کو اس سے الگ ہی رکھتا ہے۔ ملک کی عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے محض

گیارہ ماہ کی مختصر مدت میں جسٹس کھوسہ نے عدالتی نظام میں انقلابی اصلاحات کرکے دکھا دی ہیں۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا ’’ماڈل کورٹس نے مردہ سسٹم میں جان ڈال دی ہے۔ ہم نے نظام میں رہتے ہوئے انصاف میں تاخیر کا عمل مختصر کیا،ایسا نظام بنایا ہے کہ 17دنوں میں چالان آجائے۔ گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، ہم نے کہا کہ مدعی کے بجائے پولیس اور ریاست گواہ پیش کرے گی‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ہم نے نیا نظام شروع کیا کہ اگر ٹرائل تین یا چار دن چلنا ہے تو جس دن جو ہوا جج اسی دن فیصلہ لکھنا شروع کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پچیس سال کا جو کرمنل اپیلوں کا بیک لاک تھا، وہ ٹوٹ چکا ہے، سپریم کورٹ میں بھی یہی صورت ہے جو اٹھائیس اضلاع کی ٹرائل کورٹ میں ہے کہ وہاں کوئی زیرالتوا اپیل نہیں‘‘۔ چیف جسٹس نے ایک اہم حقیقت کی نشان دہی ان الفاظ میں کی کہ ’’تبدیلی وہی لوگ لاتے ہیں جو خطرہ مول لینے کو تیار ہوتے ہیں، آپ کی نیت ٹھیک ہے تو اللہ کی مدد ساتھ ہوگی‘‘۔ عدالتی نظام میں بہت مختصر وقت میں یہ انقلابی اصلاحات اس امر کا یقینی ثبوت ہیں کہ جذبہ اور اہلیت ہو تو ہر مشکل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس خود احتسابی سے کام لے کر ہماری عدلیہ کے ذمہ دار اپنے شعبے میں یہ نمایاں بہتری لائے ہیں، قومی زندگی کے ہر شعبے کی اصلاح کے لیے اسی خود احتسابی سے کام لیا جائے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا منصب سنبھالنے کے موقع پر کیے گئے خطاب میں اس مقصد کے لیے ایک نہایت اہم تجویز ان الفاظ میں پیش کی تھی کہ ’’ملک میں حکمرانی کے انداز کو بہتر بنانے اور تمام اداروں کو ان کے آئینی دائرہ اختیار کے اندر رکھنے کے لیے ایک میثاق حکمرانی کی ضرورت ہے تاکہ ہم ماضی کی غلطیوںکو نہ دہرائیں‘‘۔ جسٹس کھوسہ نے اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے صدرِ مملکت کی سربراہی میں عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، مسلح افواج اور خفیہ اداروں کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس بلائے جانے اور ان کی باہمی مشاورت سے اس میثاق حکمرانی کی تشکیل کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔ قومی زندگی کے تمام شعبوں میں بہتری کے لیے اس تجویز کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائے جانے کی ضرورت محتاج وضاحت نہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ قومی اتفاق رائے سے اس سمت میں فوری پیش رفت شروع کی جائے کیونکہ مہذب اور ترقی یافتہ جمہوری معاشرہ بننے کے خواب کی تکمیل اس کے بغیر ممکن نہیں۔