آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فوکس اکنامکس جرنل ،ورلڈ پاپولرریویو،یو ایس نیوز اور گلوبل فنانس میگزین نے 2019ء کی دنیا کی دس بڑی معیشتوں اور طاقت ور ممالک کی فہرست جاری کی ہے، ذیل میں ان دس ممالک کا مختصراً جائزہ نذرِ قارئین ہے ۔

1-ریاست ہائے متحدہ امریکا

ریاست ہائے متحدہ امریکا پچاس سے زائد ریاستوں پر مشتمل ریاستوں کی یونین ہے۔ دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں یہ سر فہرست ہے ۔اس کا رقبہ بانوے لاکھ مربع کلو میٹر کے قریب ہے، جب کہ آبادی بتیس کروڑ ستر لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ اس کا الفور فی کس آمدنی ساٹھ ہزار ڈالر کے قریب ہے، مجموعی سالانہ آمدنی 20.5 ٹریلین ڈالر کو بین الاقوامی کرنسی کا درجہ ہے۔ امریکاامریکا دنیا کی مستحکم جمہوری روایات، آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کا پاسدار ہے۔ امریکی صنعتی، زرعی، معاشی، تعلیمی، تحقیقی، سماجی اور سیاسی شعبے مستحکم، ترقی یافتہ اور جدید سہولتوں سے لیس ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ، امریکا ترقی یافتہ دنیا سے پچیس سال آگے ہے اور ناسا امریکا سے پچیس سال آگے ہے۔عدلیہ آزاد ہے۔ قانون کی بالادستی ہے۔ قانون میں ٹیکس چوری کی سزا عمر قید ہے ،اس کو قتل سے بھی بڑا جرم تسلیم کیا جاتا ہے۔ امریکی وفاق کے قانون کے مطابق ہر ریاست اپنا بجٹ خود بناتی ہے اور آمدنی کے ذرائع تلاش کرکے کاروبار ریاست چلاتی ہے۔ خارجی معاملات، دفاعی معاملات اور سیکورٹی وفاق کی ذمہ داری ہے۔

تعلیم، صحت عامہ، بلدیاتی امور اور پولیس کے محکمے ریاست کی ذمہ داری ہے۔ امریکا تاحال سپرپاور ہے اس کی وجہ سائنسی اور خلائی تحقیق کے شعبے ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ نوبل انعام یافتہ افراد ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی اور تحقیق میں مصروف ہیں۔ 600 کے قریب ارب پتی خاندان آباد ہیں۔ امریکا کا بحری بیڑہ دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ ہے اور چھ سو زائد فوجی اڈے دنیا میں موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ’’امریکا پہلے‘‘ کا قومی نعرہ دیا ہے۔

2- چین

چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور سپرپاور ہے۔ گزری صدی کے آخری عشرے میں چین نے زبردست چھلانگ لگائی تھی اور پھر صف اول کے ممالک میں اپنی نمایاں جگہ بنالی۔ چین کی سالانہ مجموعی آمدنی 14.7 ٹریلین ڈالر ہے ۔آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مجموعی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ 

چینی مصنوعات کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ یہ سب سے بڑا درآمدکنندہ ہے۔ ہوائی جہاز سے لے کر ہوائی چپل تک دنیا کی ہرچیز یہاں بنائی جارہی ہے۔ چین کی بری فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ اب بحری اور فضائی طاقت کو بھی نمایاں ترقی دی جارہی ہے۔ 2023 تک چین کا ہدف ہے کہ ہر چینی باشندے کو غربت کی سطح سے اوپر لایا جائے کیونکہ شمال مشرقی چین کے باشندے سماجی اور معاشی طور پر کمزور ہیں ان کے لیے چین کی جدوجہد سے پوری آبادی چین کی زندگی گزار سکتی ہے۔ چینی محنتی اور اپنے ہدف کو پورا کرنے کی لگن رکھنے والی قوم ہے۔ سالانہ فی کس آمدنی انیس ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ 

چین کا نیا ہدف’’ ون روڈ ون روٹ‘‘ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی مستحکم اور مثالی ہے۔ گوادر پورٹ کا پروجیکٹ جس پر کام جاری ہے، علاقہ میں سب سے اہم تجارتی مرکز بن کر ابھرے گااور اس سے پاکستان کو بھی ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ چین نے دنیا کے دیگر بہت سے ممالک سے سرمایہ کاری کے معاہدے طے کئے ہیں اس حوالے سے چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عسکری قوت بن جائے گا۔ عالمی بینک آئی ایم ایف اور دیگر بڑے عالمی مالیاتی ادارے چین کی اقتصادی قوت میں مسلسل اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی چین میں سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

3-جاپان

جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل ہی سے جاپان جدید ترقی کی دوڑ میں شامل ہوچکا تھا مگر دو عالمی جنگوں نے جاپان کی کمر توڑ دی۔ لیکن جاپانی قوم نے اپنی مسلسل محنت لگن اور قومی جذبہ سے سرشار ہوکر جاپان کی ازسرنو جدید خطوط پر تعمیر کی اور پھر صف اول کی اقوام میں اپنی نمایاں جگہ بنالی۔ جاپان کی مجموعی سالانہ آمدنی 5.5 ٹریلین ڈالر ،جب کہ فی کس سالانہ آمدنی چھیالیس ہزار ڈالر ہے۔ جاپان کی صنعتی، سائنسی، خلائی شعبوں میں خاصی ترقی کی ہے، جب کہ روبوٹس ٹیکنالوجی بھی بہت ترقی یافتہ ہے۔

جاپان تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں دنیا میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ جامعات اور تحقیقی سائنسی اداروں میں آٹھ لاکھ سے زائد محققین، ماہرین، سائنس دان اور اساتذہ کام کررہے ہیں۔ صنعتی طور کاروں، مشنری، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، ادویات، روبوٹس اور خلائی شعبوں کے علاوہ انسانی فلاح و بہبود اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے بھی بہت نمایاں ہے۔ انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، اظہار رائے کی آزادی، تحمل مزاجی اور جمہوری روایات معاشرے میں بہت مستحکم ہیں۔ جاپانی صحت، صفائی اور انسانی احترام کو بہت اہمیت دیتے اس لئے جاپان کو خوشحال، مہذب اور صاف ستھرے معاشرے کے طور پر صف اول میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

جدید ترقی اور قدیم روایات کا امتزاج بھی جاپانی معاشرہ کا حصہ ہے۔ جاپان کو طوفانوں اور زلزلوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ دفاعی طور پر بھی مستحکم ہے۔ جدید ہتھیاروں کی صنعت بھی بہت ترقی یافتہ ہے۔ امریکا نے اپنا بحری بیڑہ جاپان میں رکھا ہے۔ جاپان سیاحت کے شعبے کو بہت اہمیت دیتا ہے، سالانہ تقریباً پندرہ لاکھ سیاح دنیا بھر سے جاپان کی سیر کرتے ہیں۔

4- جرمنی

وفاقی جمہوریہ جرمنی یورپی یونین کا اہم ترین ملک اور دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔ جرمنی دوسری عالمی جنگ میں پوری طرح تباہ ہوچکا تھا مگر جرمن قوم کی محنت، لگن اور صلاحیت نے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف اول میں نمایاں جگہ دلوائی ۔جرمنی کی مجموعی آمدنی 4.1 ٹریلین ڈالر جبکہ فی کس لاانہ آمدنی 48ہزار ڈالر کے قریب ہے۔

جدید انفراسٹرکچر اور نقل و حمل کی بنیادی سہولتوں کی وجہ سے جرمنی کا صنعتی شعبہ بہت مستحکم اور ترقی یافتہ بن گیا۔ سوشل اکنامی، سرمایہ کاری، اعلیٰ ٹیکنالوجی، جدید طرازی، ترقی کی لگن اور صفر کرپشن جرمنی کی ترقی اور بڑی معیشت کا راز ہے۔ پانچ سو سے زائد صنعتیں، سرمایہ کاری ادارے اور تجارتی ادارے جرمنی کی اقتصادی قوت ہیں۔ جرمن قوم کا معیار زندگی بلند تر ہے۔ 

تعلیم، صحت عامہ، میونسپل ادارے، جمہوری روایات، بنیادی حقوق کی پاسداری، تحمل مزاج اور اظہار آزادی معاشرے کا اثاثہ ہیں۔ جرمنی کی صنعتی ترقی میں موٹر کاروں کی صنعت، الیکٹرونکس، ادویات، کیمیکل کی صنعت، مشنری اور سولر انرجی نمایاں ہیں۔ معیشت کے ساتھ ساتھ جرمنی نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بھی بھرپور توجہ دی۔ 

تعلیم، تحقیق، طبی سہولتیں، صحت و صفائی، میونسپل ادارے، امن عامہ، انصاف کی فراہمی، انسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری روایات معاشرے کا خاصہ ہیں۔ جرمن قوم نے انسانیت کی فلاح اور ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ تعلیم، تحقیق، فنون لطیفہ کے شعبوں، طب اور سائنس کے شعبے اور ادب عالیہ جرمنی کا قیمتی اثاثہ تصور کئے جاتے ہیں۔ گزری صدی کے اولین پانچ عشرے جرمن قوم پر بھاری رہے۔ اڈلف ہٹلر کا فاشزم جس نے جرمن قوم کو نسل پرستی میں جھونک دیا تھا جرمن قوم اس آگ سے گزر کر مزید کندن بن گئی اور انسانی فلاح کی رہنمائی کررہی ہے۔

5- برطانیہ

برطانیہ یورپ کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ اس کی سالانہ مجموعی آمدنی 2.9 ٹریلین ڈالر، فی کس سالانہ آمدنی چوالیس لاکھ ڈالر سے کچھ زائد ہے۔ برطانیہ سترہویں صدی کے بعد دنیا کی سب بڑی قوت بن کر ابھرا۔ 

نو آبادیاتی دور میں اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد اس کو نو آبادیات سے ہاتھ دھونا پڑا اور امریکا سپر پاور بن کر ابھرا۔ برطانیہ کی معیشت تقریباً ستاون ارب پتی خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آبادی چھ کروڑ اسی لاکھ سے تجاوز کررہی ہے۔ برطانیہ کا اعزاز ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی اولین تحریکیں یہاں سے ابھریں ۔

اس حوالے سے برطانیہ کو’’ مدر آف ڈیموکریسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں جمہوریت شفاف اور اس کی جڑیں گہری ہیں۔ برطانیہ ہی میں پہلا صنعتی انقلاب رونما ہوا۔ وہاں کے عوام نے اب یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ صادر کردیا ہے۔ اب یہ ملک یونین سے الگ رہ کر اپنی شناخت اور سیاسی و معاشی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ کا صنعتی شعبہ بہت مستحکم اور وسیع ہے، وہاں جدید لڑاکا طیاروں سے لے کر کاغذ کی پن تک تیار ہوتی ہے۔

ٹیکسٹائل، ادویات، کیمیکل، کمپیوٹر، مشنری، بحری جہاز، بینکاری کے شعبے ترقی یافتہ ہیں۔ ماہی گیری کی صنعت پرافی اور وسیع ہے۔ سیاحت، تعلیم و تربیت کے لیے ہزاروں افراد برطانیہ آتے ہیں۔ برطانیہ جدید دنیا اور قدیم روایات کا حسین مجموعہ ہے۔ بادشاہت قائم ہے مگر جمہوریت سب سے زیادہ مستحکم یہ واحد ملک ہے جس کا آئین تحریری نہیں ہے۔ پاکستانی اور کشمیری یہاں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ اب لندن کا میئر اور وزیر داخلہ بھی پاکستانی ہے۔ لوئر ہائوس میں سات پاکستانی اراکین شامل ہیں۔

6- فرانس

فرانس دنیا کی چھٹی بڑی معیشت اور یورپ کی دوسری بڑی عسکری طاقت ہے۔ سالانہ مجموعی آمدنی 2.8 ٹریلین ڈالر فی کس سالانہ آمدنی 44 ہزار ڈالر اور آبادی چھ کروڑ نوے لاکھ کے قریب ہے۔ یہاںمشرق وسطی اور افریقہ کے باشندے اکثریت میں ہیں۔ فرانس تعلیم، تحقیق، صحت عامہ کے شعبوں کی ترقی کے لیے بڑی رقم خرچ کرتا ہے۔ نیٹو اتحاد کا اہم رکن ہے۔ فرانسیسی بحریہ، فضائی قوت اور بری افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے، خاص طور پر فوجی لڑاکا طیاروں کی ترقی نمایاں ہے۔ یہ زرعی طور پر بھی خوشحال ملک ہے۔

کاروں، مشینری، کیمیکل، ادویات، جدید مواصلات، پارچہ بانی، ہتھیاروں اور زرعی آلات کے شعبے جدید اور ترقی یافتہ ہیں۔ فرانس میں انقلاب فرانس کے بعد جمہوریت کی تحریک زور پکڑتی رہی۔ اب فرانس جمہوری اقدار، انسانی حقوق، مساوات، آزادی اور جدیدیت کا علمبردار ہے۔ فرانس نے ادب عالیہ، موسیقی، مصوری اور دیگر فنون میں نام پیدا کیا۔ 

یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق فرانس دنیا میں سیاحت کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس نے انسانی تہذیب و تمدن کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پیرس فرانس کا دارالخلافہ ہے اپنی تعمیر اور شہریات میں ایک منفرد مقام اور خوبصورت ترین شہروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ فرانس خاص طور پر پیرس کی سڑکیں رات میںبھی دن کا سماں پیش کرتی ہیں۔

7- بھارت

بھارت دنیا کی ساتویں بڑی معیشت اور دنیا کی دوسری بڑی آبادی والا ملک ہے۔ سالانہ آمدنی 2.7 ٹریلین ڈالر اور سالانہ فی کس آمدنی 2100 ڈالر ہے۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں میںاس کا شمار ہوتا ہے۔ ساٹھ فیصد کے قریب آبادی غربت اور پسماندگی کی زندگی گزار رہی ہے۔ 

بھارت کے دفاعی اخراجات اور اعلیٰ سطح پر کرپشن کی وباء نے عوام کی غربت اور مسائل میں اضافہ کیا ہے، تاہم بھارتی تارکین وطن جو امریکا، یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں میں ملازمت کرتے ہیں، وہ سالانہ تقریباً ستر ارب ڈالر زرمبادلہ بھجواتے ہیں، جو معیشت کا اہم ستون ہے۔ بھارتی معیشت بینکاری اور تجارتی شعبوں پر ایک سو سے زائد خاندان آباد ہیں، جو آزاد معیشت کے نام پر معیشت کا استحصال کررہے اور امیر روز مزید امیر اور غریب روز مزید غریب ہورہا ہے۔ 

ورلڈ بینک نے بھارت کی سالانہ پیداوار بتدریج کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافے اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب زرعی ترقی شدید متاثر ہورہی ہے۔ جنوبی ہند کے بیشتر علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ اس علاقے کے بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال کر واپس جارہے ہیں۔ بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی کاروں کی صنعت بھی شدید مندی کا شکار ہے۔ 

تاہم آئی ٹی اور فارما کے شعبے کام کررہے ہیں اور مستحکم ہیں۔ بھارت اور چین نے نئے تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، اس سے شائد بھارتی معیشت کو کچھ سہارا مل جائے، بصورت دیگر وزیراعظم نریندر مودی کی معاشی پالیسی بے ثمر ثابت ہورہی ہے۔

8- اٹلی

اٹلی دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اور یورپی یونین کی تیسری بڑی عسکری قوت ہے۔ سالانہ آمدنی 2 ٹریلین ڈالر ہے، جب کہ فی کس سالانہ آمدنی 38 ہزار ڈالر ہے۔ آبادی چھ کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ صنعتی طور پر اٹلی ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ صنعتی شعبہ کاروں، الیکٹرونکس، زرعی مشنری، ٹیکسٹائل، مواصلات کا سامان بحریری جہازوں کی صنعت و دیگر اہم مصنوعات پر مشتمل ہے۔ 

جدید انفراسٹرکچر، نقل و حمل کی جدید سہولیات، قدیم عمارتیں اور کلیسائوں نے اٹلی کو قدیم اور جدید کا حسین امتزاج بخشا ہے۔ دنیا بھر کے سیاح اٹلی آتے ہیں قدیم رومن شہنشاہوں کے دیس میں ماضی کے نشانات کو دیکھ کر محفوظ ہوتے ہیں۔ اٹلی کا دارالخلافہ روم تاریخی شہر ہے۔ کھیتولک عیسائیوں کا مرکز اٹلی کے شہر ویٹی کن میں واقع ہے ۔جہاں پوپ کی رہائش گاہ اور مرکزی کلیسا ہے۔ اٹلی اور ساحلی شہر سسلی کے باشندے خوبصورت ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہالی ووڈ کے بیشتر اداکاروں نے اٹلی سے امریکا جاکر دنیا میں نام کمایا۔ 

اٹلی میں جمہوری قدریں مستحکم ہیں اور یہاں پارلیمانی نظام متناسب نمائندگی کے طریقہ کار پر استوار ہے۔ اٹلی کی مسلح افواج جدید ہتھیاروں سے لیس ہے ۔اس کے علاوہ اٹلی بھاری اور ہلکے ہتھیار بھی تیار کرتا ہے، جو بیشتر ممالک کو درآمد کئے جاتے ہیں، جو اٹلی کی آمدنی کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ فیشن کی دنیا میں بھی اٹلی صف اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ملبوسات نےعطریات اس شعبے کا اہم حصہ ہیں۔

9- برازیل

برازیل جنوبی امریکا کا سب سے بڑا ملک ہے سالانہ آمدنی 1.9 ٹریلین ڈالر ہے جو دنیا کی نوی بڑی معیشت ہے۔ ہر چند کہ فی الفور ملک سیاسی اور معاشی مسائل کا شکار ہے مگر سیاسی پارٹیاں بہتری کے لیے خاص تگ و دو میں مصروف ہیں۔ برازیل کی مسلح افواج جو جدید ہتھیاروں، فضائی طاقت، بحری اور بری قوت سے لیس ہے، خطے کی بڑی طاقت ہے۔ صنعتی شعبہ جدید کاروں، مشروبات، ادویات، کیمیکل، ٹیکسٹائل، زرعی آلات اور جدید طیارے و دیگر ہتھیار سازی میں نمایاں ہے۔ 

کافی، فٹ بال اور کوکین کے حوالے سے بھی برازیل کو دنیا میں خاصی شہرت حاصل ہے۔ یہاں پرتگیزی زبان بولی جاتی ہے۔ ملک کی آبادی اکیس کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے، جب کہ رقبہ پچاس لاکھ مربع کلو میٹر سے زائد ہے۔ امیزون کا دریا یہاں بہتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں جنگلات کی بھرمار ہے۔ بارش بھی بہت ہوتی ہے۔ برازیل میں منشیات کے اسمگلروں کے ڈین موجود ہیں جو کوکین اور ہیروئن فروخت کرکے کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔ 

برازیل کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے ،جس کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم بہت ہوتے ہیں۔ غربت، پسماندگی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا فقدان ہے۔ ملک میں کرپشن عام ہے۔ فوجی حکومتوں کے دور میں برازیل ظلم زیادتی، کرپشن، ناانصافی اور شدید بے روزگاری کا شکار رہا اس کی باقیات کو جرائم پیشہ گروہوں کی پشت پناہی حاصل ہے مگر اس کے باوجود برازیل کے عوام کی جدوجہد جاری رہے۔

10- کینیڈا

کینیڈا دنیا کی دسویں بڑی معیشت ہے۔ مہذب، پرامن، اعتدال پسند اور خوشحال ممالک کی صف میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے ۔ آبادی چھ کروڑ بیاسی لاکھ کے قریب ہے۔ فی کس سالانہ آمدنی 1.8 ٹریلین ڈالر ہے۔ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں اس کا شمار پندرہویں نمبر پر ہوتا ہے۔ یہاں جمہوری پارلیمانی نظام رائج ہے۔ برطانیہ کی طرح ملکہ برطانیہ ملک کی علامتی سربراہ ہیں۔ کینیڈا اب بھی برطانیہ کو اپنا ملک اور سربراہ تسلیم کرتا ہے۔ 

ملک کے نوجوان وزیراعظم، جسٹن ٹروڈو کو اعتدال پسند اور انسان دوست رہنما تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطی اور افریقہ تارکین وطن کی حمایت کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ پناہ گزینوں کو کینیڈا میں پناہ دی تھی، جس پر امریکی صدر نے کینیڈا سے احتجاج کیا تھا کیونکہ نوے فیصد زیادہ پناہ گزیں مسلمان تھے۔ کینیڈا معاشرہ انتہائی مہذب، پرامن اور اعتدال پسند ہے۔ تعلیم، صحت عامہ، میونسپل کا نظام بہت اعلیٰ ہے ۔

حکومت انسانی فلاح و بہبود پر کثیر رقم صرف کرتی ہے۔ قانون کی بالادستی، اظہار رائے کی آزادی، انسانی بنیادی حقوق کا احترام، پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات، صفائی ستھرائی اور لبرل ازم کینیڈا کے معاشرہ کا طرہ امتیاز ہیں۔ مساجد، گردوارے، مندر، کلیسا، بدھوں کی عبادت گاہ سمیت دیگر اہم مذاہب کی بھی عبادت گاہیں یہاں نظر آتی ہیں۔ ان تمام حوالوں سے کینیڈا ایک مثالی ملک ہے۔