آپ آف لائن ہیں
جمعہ9؍ شعبان المعظم1441ھ 3؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پولیو کیسز میں اضافہ، ڈینگی، ریبیز سے ہلاکتیں، ادویہ پہنچ سے باہر

دُنیا کے بیش تر ترقّی یافتہ مُمالک میں عوام النّاس کے لیے نہ صرف جدید طبّی سہولتیں میسّر ہیں، بلکہ اُن تک رسائی بھی خاصی سہل ہے۔یہاں تک کہ طبّی سہولتوں کے اعتبار سے انھیں’’ فلاحی مملکتیں ‘‘کہا جاتا ہے۔(ایک حالیہ خبر کے مطابق تو جاپان میں بیمار کھلونوں تک کا اسپتال کھل گیا ہے،جہاں ٹوٹے ہوئے کھلونوں کی مرمّت کرکے اُنھیں دوبارہ بچّوں کے سُپرد کردیا جاتا ہے)۔ اس کے برعکس، ترقّی پذیر مُمالک کے افراد آج تک بنیادی طبّی سہولتوں ہی کو ترس رہے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی مُمالک میں ہوتا ہے، جہاں سستے، تسلّی بخش علاج معالجے کی فراہمی محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ 

ماضی کی طرح سال2019ء میں بھی اس ضمن میں کچھ خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ صُورتِ حال مزید مایوس کُن ہی ہوئی۔ سال کے آغاز ہی میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)نے ادویہ کی قیمتوں میں9سے15فی صد اضافہ کردیا۔ اگرچہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس پر سخت ردِّعمل کا اظہار کیا اور وزیرِ اعظم، عمران خان کے معاون، خصوصی، ڈاکٹر ظفر مرزا نےبھی اعتراف کیا کہ 464ادویہ کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئیں، تاہم، اس کے باوجود دوا ساز کمپنیز نے 395ادویہ کی قیمتیں کم کرنے سے انکار کر دیا۔ 

جب کہ زیادہ تر میڈیکل اسٹورز ادویہ کی پُرانی پیکنگز پر نئی قیمتوں کے لیبل لگا کر فروخت کرتے رہے۔ پھر بھارت سے بھی کثیر تعداد میں ادویہ درآمد کی گئیں، حالاں کہ پاکستان میں ادویہ سازی کے لگ بھگ 675کارخانے ہیں۔

گزشتہ برس عالمی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق وائرس سے پھیلنے والے امراض مثلاً پولیو، ڈینگی، کانگو، ہیپاٹائٹس اور خسرے میں مبتلا مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے پاکستان دُنیا بَھر میں پہلے نمبر پر آگیا، جس پر جرمنی کی جامعات نے کراچی میں ’’پنجوانی سینٹر فار وائرولوجی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ پاکستان کا پہلا سینٹر ہوگا، جو وائرس سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں پر تحقیق کرے گا۔ اگر ہیپاٹائٹس کا ذکر کریں،تو دُنیا بَھر میں مریضوں کے اعتبار سے پاکستان، ہیپاٹائٹس سی میں دوسرے اور بی میں آٹھویں نمبر پر شمار کیا گیا۔ 

عالمی ادارۂ صحت کی جولائی 2019ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سے(جن میں50لاکھ ہیپاٹائٹس بی اور ایک کروڑ ہیپاٹائٹس سی کے مریض شامل ہیں)متاثرہیں۔مُلکی اعدادوشمار کے مطابق صرف صوبۂ پنجاب میں ہر ایک سو میں سے9افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں۔ سالِ گزشتہ ایچ آئی وی کی وجہ سے بھی پاکستان کا تذکرہ عالمی خبروں میں رہا۔ ’’نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام ‘‘کے مطابق مُلک بَھر میں ایڈز سے ایک لاکھ 65ہزارافراد متاثر ہیں، مگرجب ضلع لاڑکانہ کے علاقے رتّو ڈیرو میں سیکڑوں افراد کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں90فی صد سے زائد بچّے شامل تھے، تو دُنیا بَھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ 

بعدازاں عالمی ادارۂ صحت نے وہاں گریڈII ایمرجینسی کا اعلان کردیا اور ہزاروں متاثرہ افراد کے طبّی ٹیسٹس کیے گئے، جن میں سے بڑی تعداد کی رپورٹ پازیٹیو آئی۔ مظفر گھانگرو نامی ایک مقامی ڈاکٹر کو ایڈز وائرس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اُس کے حوالے سے کئی کہانیاں بھی سامنے آئیں، تاہم عوامی نوعیت کا یہ اہم کیس بھی سال کے آخر تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔نیز، سندھ کے تقریباً23اضلاع میں ایکس ڈی آر ٹائی فائیڈ نے بھی وبائی صُورت اختیار کی اور لگ بھگ ساڑھے 13ہزار بچّوں کے متاثر ہونے کے بعد حکّام نے بین الاقوامی ڈونر ایجینسیز کے تعاون سے بھارتی ویکسین کی بڑی مقدار درآمد کی، جو ماہِ نومبر میں2سے15سال کے بچّوں کو مفت لگائی گئی۔ 

نیز، انسدادِ ٹائی فائیڈ مہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر حکومت نے کارروائی کرنے کے ساتھ یہ وضاحت بھی پیش کی کہ مذکورہ ویکسین عالمی ادارۂ صحت سے تصدیق شدہ ہے،جس کے قطعاً کوئی مضر اثرات نہیں۔ اس حوالے سے یہ امر بھی خوش آیند رہا کہ ٹائی فائیڈ ویکسین اب باقاعدہ قومی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کر لی گئی ہے۔ ڈینگی تقریباً پورے سال مُلک بھر، خاص طور پر صوبۂ سندھ میں خوف و ہراس کی علامت بنا رہا اور ڈینگی وائرس کی ٹائپ وَن، ٹو اور تِھری کے کیسز بھی سامنے آئے۔ 

وزراتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق(تادمِ تحریر) مُلک بَھر میں، بشمول گلگت بلتستان، 52,485افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے،جن میں سے91 انتقال کرگئے۔’’ڈینگی پِری وینشن اینڈ کنٹرول پروگرام‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس صوبۂ سندھ میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد 15ہزار، 963تھی۔سندھ حکومت نے ڈینگی سے نمٹنے کے لیے ایک پلان بھی تیار کیا ،جو تقریباً 40صفحات پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود ڈینگی پر قابو نہ پایا جاسکا، جب کہ صوبۂ پنجاب میں خاتون ڈپٹی کمشنر، صالحہ سعید کو لاہور میں ڈینگی کنٹرول نہ کرنے پر او ایس ڈی بنادیا گیا۔

اگرچہ پاکستان گزشتہ دو عشروں سے تسلسل کے ساتھ پولیو کے خاتمے کی جدوجہد کررہا ہے، لیکن اس کے باوجود ’’پولیو فِری زون‘‘میں داخل نہیں ہوسکا اور 2019ء میں بھی مُلک بَھر سے پولیو کے 104کیسز رپورٹ ہوئے۔ سب سے زیادہ کیسز خیبر پختون خوا سے سامنے آئے،جن کی مجموعی تعداد 75تھی۔سال2019ء میں پاکستان میں منہ کے سرطان کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا، تو بریسٹ کینسر کے عالمی یوم کے موقعے پر جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا بَھر میں ہر نو میں سے ایک خاتون کو، جب کہ پاکستان میں ہر آٹھ میں سے ایک کو بریسٹ کینسر کا خطرہ لاحق ہے۔ 

نیز، صوبۂ سندھ میں سگ گزیدگی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور تادمِ تحریر متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرچُکی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی عدم دست یابی کے مسئلے پر سندھ ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی۔ ہائی کورٹ نےآوارہ کُتّوں سے نجات کے لیے پُرانا طریقۂ کار اپنانے، کُتّوں اور سانپ کے کاٹے کی ویکسین کی تیاری کے لیے لیبارٹریز کے قیام اور ٹڈّی دَل کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ دیگر مُمالک پر انحصار نہ کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ 

وفاقی حکومت کی جانب سے غذائی قلّت کے شکار دو سال کی عُمر کے لگ بھگ 3کروڑ بچّوں کے لیے ایک’’نیوٹریشن پروگرام‘‘ کا بھی اعلان ہوا،جس کے لیے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فنڈز فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکومتِ سندھ سالِ گزشتہ بھی تَھر میں غذائی قلّت کے سبب چالیس سے زیادہ بچّوں کی اموات کے سامنے بے بس نظر آئی۔

نیز، حکومت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کاؤنسل (پی ایم ڈی سی) ختم کرکے ایک نیا ادارہ ’’پاکستان میڈیکل کمیشن‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر طبّی حلقوں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ علاوہ ازیں، شعبۂ صحت میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈاکٹرز کی مستقل بنیادوں پر بھرتیوں کا مربوط نظام وضع کرنے کی بجائے حکومت نے ایڈہاک تقرّری کے لیے بھی مدّت کا تعیّن کیا، جس کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کے لیے ایڈہاک کی مدّتِ ملازمت تین سال کردی گئی۔

بلوچستان کے20-2019ء کے بجٹ میں صحت کی مَد میں 34 ارب، 18 کروڑ روپے مختص کیے گئے اور اسپیشل چلڈرن پروگرام کے اجراء اور ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ صوبے میں ڈاکٹرز کے اغوا برائے تاوان کا سلسلہ2019ء میں بھی جاری رہا۔ ڈاکٹرز کی مختلف تنظیموں کے مطابق اب تک تقریباً 33ڈاکٹرز اغوا اور 18ٹارگٹ کلنگ میں مارے جا چُکے ہیں۔

90ڈاکٹرز، خاندانوں سمیت بلوچستان سے ہجرت کرگئے۔ صوبۂ خیبرپختون خوا میں ایک افسوس ناک واقعہ خیبر ٹیچنگ اسپتال، پشاور میں صوبائی وزیرِ صحت اور اسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین، وزیرِ اعظم کے کزن، ڈاکٹر نوشیرواں بَرکی اور ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے درمیان تلخ کلامی کی صُورت سامنے آیا۔ ایک اجلاس کے دَوران ڈاکٹر نوشیرواں بَرکی پر انڈے پھینکے گئے، جس پر اسپتال میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔بعد ازاں، اسی معاملے پر اسسٹنٹ پروفیسر کو صوبائی وزیرِصحت، ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کے محافظوں نے زدوکوب کیا۔علاوہ ازیں، ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

سندھ نے صحت کا بجٹ2,79ارب روپے مختص کیا۔ نیز، مختلف شہروں میں چالیس ارب روپے کی لاگت سے جدید طبّی سہولتوں سے لیس9اسپتال تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔نیز، صحت انصاف کارڈ کا دائرہ صوبے کے36 اضلاع تک وسیع کرنے کا بھی اعلان ہوا۔ گزشتہ برس وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر کراچی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں کا دس سالہ آڈٹ کروانے کے بعد جناح اسپتال،کراچی میں تیمارداروں کے لیے شیلٹر ہوم بنانے کی منظوری دی گئی ۔

وفاقی حکومت نے سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں کو وفاق کی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔کراچی کے ایک نجی اسپتال میں غلط انجیکشن لگنے کے سبب ایک معصوم بچّی، نشوہ کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کے باوجود غلط انجیکشنز لگائے جانے کے مزید واقعات بھی سامنے آئے، مگر سندھ حکومت اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدام نہ کرسکی، جب کہ لاڑکانہ میں سگ گزیدگی کا شکار ہونے والا چھے سالہ بچّہ، حسنین کراچی کے ایک نجی اسپتال میں 27دِن تک زیرِ علاج رہ کر دَم توڑ گیا۔ افسوس ناک امر یہ رہا کہ ڈاکٹرز نے اس بات کی تصدیق ہی نہیں کی کہ بچّے کو ریبیز کا مرض لاحق تھا۔

صوبۂ پنجاب کا صحت کا بجٹ 308ارب، 50کروڑ روپے مختص کیا گیا،مگر سرکاری اسپتالوں کو پھر بھی ادویہ کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہ ہوسکے، جب کہ جناح اسپتال، لاہور کے میڈیسن بجٹ میں سے 55کروڑ روپے کی کٹوتی بھی کی گئی، جسے بعدازاں سرطان سے متاثرہ مریضوں کی ادویہ کی عدم دست یابی کے باعث بحال کرنا پڑا۔ پنجاب ہیلتھ کمیشن نے مختلف شکایات کے بعد منشّیات اور نفسیاتی امراض کے83مراکز پر چھاپے مار کر ایسے 710افراد کو شناخت کیا، جو مریض نہیں تھے۔ 

ان میں سے بیش تر کو اُن کے رشتے داروں نے جائیداد پر قبضے کی خاطر نفسیاتی مریض بنا کر ایڈمٹ کروا رکھا تھا۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے ایک طرف 8کروڑ افراد کو صحت کارڈ جاری کیے،تو ادویہ فروخت کے 15ہزار لائسنس جعلی اور بوگس ہونے پر مستردکردیئے۔ نیز، ساہی وال کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں ائیرکنڈیشن خراب ہونے کے باعث 8نومولود بچّوں کی ہلاکت اور میو اسپتال، لاہور میں دِل کے مریضوں کے لیے اسٹنٹ ختم ہونے جیسے واقعات بھی شہہ سُرخیوں میں رہے۔

پنجاب حکومت نے ایم ٹی آئی ایکٹ 2019ء کا بھی نفاذ کیا،جس کے خلافپنجاب بَھر کے ڈاکٹرز نے ہڑتال کی، جو بعد ازاں حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کردی گئی،مگر ہڑتال کرنے پر پانچ ہزار سے زائد پی جی ڈاکٹرز کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے۔تاہم، ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری اسپتالوں کو انتظامی اور مالی امور میں خود مختاری حاصل ہو گئی، ٹیچنگ اسپتالوں کے تمام معاملات سیکرٹریٹ کی بجائے اسپتالوں کے ڈینز میڈیکل اور ڈائریکٹرز کے سپرد کردیئے گئے۔جب کہ اسپتالوں کو کسی بھی قسم کی خریداری کے لیے سیکرٹریٹ کی منظوری سے بھی استشنا مل گیا۔

نیز،سرکاری اسپتالوں میں شام اور رات کے اوقات میں بھی او پی ڈی کی اجازت دے دی گئی۔مزید یہ کہ اب اس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز اپنی خواہش پر اسپتال کی حدود میں پرائیویٹ پریکٹس بھی کر سکیں گے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جناح اسپتال، لاہور میں میڈیکل ٹاور اور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام اور تھیلیسیمیا سے متاثرہ مریضوں کے لیے صحت کارڈ کا اجرا خوش آیند رہا۔ 

علاوہ ازیں،پنجاب کے اسکولز میں صحت سے متعلق پروگرام شروع کرنے کے لیے محکمۂ صحت اور تعلیم نے ایک مفاہمتی یاد داشت پر بھی دست خط کیے اور حکومتِ پنجاب نے مختلف اسپتالوں میں(بشمول ٹیچنگ اسپتال) 279نئے وینٹی لیٹرز فراہم کرنے، کئی اسپتالوں کو اَپ گریڈ کرنے سمیت جدید ٹراما سینٹرز کے قیام اور ائیر ایمبولینسز کی فراہمی کے بھی اعلانات کیے، جب کہ راول پنڈی کی تقریباً 5ڈسپنسیریاں 24گھنٹے کُھلی رہنے کے بھی احکامات جاری کیے۔

لاہور میں لگ بھگ 67سرکاری اسپتالوں کے فضلے کو جلانے کے لیے کوئی بڑا پلانٹ موجود نہیں، مگر اس سنگین مسئلے کے حل کے ضمن میں سالِ گزشتہ بھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا، البتہ صوبائی وزیرِ صحت، ڈاکٹر یاسمین راشد نے پنجاب بَھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں سہولیاتی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا، جس کے ذریعے زکوٰۃ اور سوشل ویلفیئر فنڈ کے ذریعے طبّی سہولتیں حاصل کرنے والے مستحق افراد کی ہر قسم کی شکایت کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے گا۔ 

سال کے آخر میں پنجاب سے سال کی جو بدترین خبر سامنے آئی، وہ لاہور میں دِل کے سب سے بڑے اسپتال، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز اور وکلاء کے درمیان ہونے والی چپقلش تھی۔جس کے نتیجے میں وکلاء کی ایک کثیر تعداد نے پی آئی سی پر دھاوا بول دیا۔اسپتال کے بیرونی گیٹس توڑ کر وارڈز میں گھس کے توڑ پھوڑ کی،جس کے نتیجے میں کئی مریض جاں بحق ہوئے۔ایک دِل کے اسپتال کا اس طرح میدانِ جنگ میں تبدیل ہوجانا، بہرحال 2019ء کا ایک سخت دِل خراش اور الم ناک ترین واقعہ تھا، جو مُلک کی طبّی تاریخ کو داغ دار کر گیا۔

سنڈے میگزین سے مزید