آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب تم کوئی بڑا کام نہ کر سکو تو کم سے کم چھوٹے ہی کرتے رہو۔ یہاں کام سے مراد خدمت، نیکی اور بھلائی ہے۔ اس کہاوت کے پس پردہ فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہئے۔ جب نیت نیک ہو تو پھر توفیق الٰہی بھی مل جاتی ہے۔ 

بزرگ سمجھتے تھے کہ خدمت اور نیکی کی توفیق اللہ پاک کی طرف سے ملتی ہے اور یہ توفیق اپنی اپنی اہلیت اور قابلیت کے مطابق عملی شکل اختیار کرتی ہے۔ 

اس لئے جب کوئی عظیم کارنامہ سرانجام نہ دے سکو تو چھوٹی چھوٹی خدمات سرانجام دیتے رہو کیونکہ آخرت میں صلہ اور اجر نیت کا ملےگا۔ نہ ہر کوئی قائداعظم ہوتا ہے کہ تاریخ کے صفحات پر اَنمٹ نقوش ثبت کر دے اور عالمی رہنمائوں میں اعلیٰ مقام پائے، قوم اسے بابائے قوم کہے اور شکرگزاری کے جذبے کے تحت ایصالِ ثواب کرتی رہے اور نہ ہی ہر کوئی علامہ اقبال ہوتا ہے کہ اپنی پریشان، بکھری ہوئی اور منزلِ گم گشتہ کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتی قوم کو نہ صرف نیند سے بیدار کرے بلکہ منزل کی نشاندہی کرکے قوم کو یکسو بھی کر دے۔ 

سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی نوعیت کے اعلیٰ کارنامے ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتے۔ نہ ہر لیڈر اتنی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی اتنی توفیق نصیب ہوتی ہے۔

اس لئے جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہو۔ نگاہ بلند رکھو، مقصد عظیم رکھو اور مستقل مزاجی سے منزل کی جانب گامزن رہو۔ چوٹی تک نہ سہی کہیں نہ کہیں تو پہنچ جائو گے۔ اس طرح تم ان لاکھوں سے بہتر رہو گے جو بجھی ہوئی چنگاریوں کی مانند ہوتے ہیں اور بغیر کچھ کیے زندگی گزار دیتے ہیں۔

اپنی 72/73سالہ قومی زندگی پہ نگاہ ڈالیے یہاں کتنے ہی صاحبانِ اقتدار بڑے طمطراق کے ساتھ حکومت کے تخت پہ بیٹھے، قوم کے رہنما بنے، بلند بانگ دعوے کیے اور بغیر نقش چھوڑے رخصت ہو گئے۔ 

ہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب اقتدار خدمت کا نقش چھوڑنے کے بجائے صرف اپنی ذات کا نقش چھوڑ جائے اور لوگ اُس کی مال ودولت بنانے کی کہانیاں سن سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتے رہیں۔ 

وگرنہ یہ قوم ناشکری نہیں، جس قوم کو وزیر اعظم جونیجو کی یہ ادا نہیں بھولتی کہ وہ راتوں کو وزیر اعظم ہائوس کی بتیاں گل کیا کرتے تھے۔ وہ قوم کیسے ناشکری ہو سکتی ہے جس قوم کو یہ بات سات دہائیوں کے بعد بھی یاد ہے کہ طاقتور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو چینی راشن کارڈ پر ملتی تھی جو عموماً تین ہفتوں کے لئے کافی ہوتی تھی اور مہینے کے بقایا دن سارا خاندان پھیکی چائے پیتا اور سویٹ ڈش سے محروم رہتا تھا۔

اس قوم کو کمزور حافظے کا طعنہ نہیں دیا جاسکتا۔ مطلب یہ کہ قوم نہ ناشکری ہے اور نہ ہی کمزور حافظے کی مریض ہے۔ جو کوئی جتنی خدمت کرتا ہے اُسے اسی قدر یاد کرتی ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں میں عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ حزبِ مخالف اور تنقید کرنے والوں کی باتوں کو گھاس نہ ڈالو اور جو ہو سکتا ہے وہ کرتے رہو۔ آپ نہ قائداعظم ہیں نہ قائد ملّت۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہاں خواجہ ناظم الدین بھی گورنر جنرل اور پھر وزیر اعظم رہا ہے جس کی ذاتی ایمانداری متاثر کن تھی لیکن قوم کو آج اس کی ایک بھی خدمت یا کارنامہ یاد نہیں۔ 

سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائی کو کم کرنا، لاکھوں گھر بنانا، کروڑوں ملازمتیں دینا، اربوں درخت لگانا، ملک کا سیاسی اور انتظامی کلچر بدل کر تبدیلی کا نقارہ بجانا، کرپشن اور غربت کو ختم کرنا، ڈھائی کروڑ تعلیم سے محروم بچوں کو اسکولوں میں لانا، قانون کی حاکمیت قائم کرنا، آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات حاصل کرنا، میرٹ کو خلوص سے نافذ کرنا۔

غریبوں کو انصاف فراہم کرنا، پولیس کلچر کو ٹھیک کرنا وغیرہ وغیرہ ممکن نہیں یا قدرت نے ان پہاڑ جیسے مسائل اور جانکاہ چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت ودیعت نہیں کی تو فکر نہ کریں کیونکہ اس میں انسان کا اپنا قصور نہیں ہوتا۔ نیت کا اجر تو بہرحال ملے گا، اس لئے جو ہوسکتا ہے وہ کرتے رہو مثلاً پناہ گائیں بناتے رہو اور اگر مخیر حضرات اپنے علاقوں میں یہ صدقہ جاریہ جاری کریں تو اس کا افتتاح کرتے رہو۔ 

چلیے اگر حکومت بائیس کروڑ میں سے سات آٹھ کروڑ بھوکوں کا پیٹ نہیں بھر سکتی تو کم سے کم چار پانچ ہزار افراد کو تو کھانا مہیا کرے، پچاس لاکھ گھر نہیں بناسکتی تو چند ہزار کو ہی رات گزارنے کی سہولت فراہم کرے، اسی طرح اگر حکومت صنعت کاری اور خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ دے کر اربوں ڈالر فارن ایکسچینج نہیں کما سکتی تو کم سے کم مرغی انڈے کی صنعت کو فروغ دے کر چند ہزار ڈالر ہی کمالے۔ 

رہے فارن ایکسچینج ریزرو تو فکر کی بات نہیں۔ ہمارے عرب دوستوں نے پاکستان کے چار پانچ چکر لگالئے تو فی پھیرا بیس کروڑ ڈالر کے حساب سے ایک ارب ڈالرتو ان شاءاللّٰہ مل ہی جائیں گے۔ 

ویسے بھی اگر ایران امریکہ بحران بڑھتا ہےتو یہ پھیرے بڑھ جائیں گے اور ہاتھ بھی کھلا ہو جائے گا۔ میری تمام دوستوں کو نصیحت ہے کہ بزرگوں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنی نیت کو مضبوط اور پُرخلوص رکھیے۔ 

کوششیں کرتے رہیں، اگر اس کے باوجود اللّٰہ پاک بڑے کارناموں کی توفیق نہ دیں تو کم سے کم چھوٹی چھوٹی نیکیاں ضرور کرتے رہیں۔ قوم ناشکری ہے نہ کمزور حافظہ رکھتی ہے اس لئے آپ کی ایمانداری اور خلوصِ نیت کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور دعائیں دیتی رہے گی۔

شعر کو ضرورت کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے تھوڑی سی تبدیلی کے لیے معذرت

یہ چمن یونہی رہے گا اور ’’بہت سے لیڈران‘‘

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے

ادارتی صفحہ سے مزید