آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’بہار کالونی‘ سیلاب کے بعد واپس آئے تو فضا سخت متعفن تھی (آخری حصّہ)

شکور پٹھان

سوسائٹی میں پھوپھی کے گھر والوں نے اپنے دل نکال کر بچھادیے۔ دراصل ہمارا صرف یہی رشتہ نہیں تھا، ہندوستان میں ہمارے آبائی گاؤں سے ہمارے گھرانے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے۔ میرے ابا اور پھوپھا اور ان کے بھائی بچپن کے ساتھی تھے۔ ساتھ پڑھتے ، ساتھ کھیلتے تھے۔ میرے دادا کا تو انتقال ہوچکا تھا ، پھوپھا کے والد ہی ہمارے بھی دادا تھے اور ان سے بھی ہم ایسے ہی ڈرتے اور ان کا احترام کرتے ،جیسے اپنے دادا کا کرتےتھے۔ 

پھوپھا کی والدہ کو ان کے گھر والے اور ہم سب “ بوا” کہتے تھے۔ بوا مجھ پر خاص مہربان رہتیں۔ دراصل ان کے اپنے پوتے کھیل کود میں لگے رہتے تو بوا اپنے کا موں کے لیے مجھے آواز دیتیں اور میں فوراً ان کی بات سنتا۔ دراصل اس میں ایک لالچ بھی تھا کہ اس کام کے صلے میں مجھے ایک یا دوپیسے یا کوئی مٹھائی یا ٹافی انعام میں ملتی۔

سیلاب کے بعد کوکن سوسائٹی سے ایک ایسی بات وابستہ ہے کہ آج جب سوچتا ہوں تو آنکھیں بھر آتی ہیں کہ کیا وقت تھا اور کیسے لوگ تھے اور کیا قدریں تھیں۔

پھوپھا کا گھرانا کوئی امیر کبیر گھرانا نہیں تھا۔ سب سے بڑے بھائی، جنہیں ہم کاکا کہتے تھے، جنرل پوسٹ آفس میں ملازم تھے، ان سے چھوٹے یعنی چاچا کے پی ٹی میں کام کرتے تھے، اور سب سے چھو ٹے یعنی میرے پھوپھا جان راشن کی دکان چلاتے تھے۔ چار کمروں پر مشتمل سترہ افراد کے اس کنبے میں ہم مزید آٹھ نہ افراد نجانے کتنے دن مقیم رہے۔ 

مجھے یاد نہیں کب بہار کالونی سے سیلابی پانی اترنے کی خبر آئی اور ہم نے واپسی کا ارادہ کیا لیکن پھوپھا کے گھر والے بضد تھے کہ ہم کچھ دن اور ٹھہریں۔ کسی نے ہماری امی اور دادی کے برقعے چھپا دئیے کہ ذرا واپس تو جاکردکھائیں۔ بڑی مشکلوں سے ہمیں واپس جانے کی اجازت ملی، شکریہ تو ہم کیا ادا کرتے۔ ایسے خلوص ، اپنائیت اور محبت کا بھلا کوئی مول بھی ہوتا ہے۔

بہار کالونی واپس آئے تو فضا سخت متعفن تھی۔ ایک عجیب سی بو سارے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔ بہار کالونی کی زمین شاید سطح سمندر سے نیچے ہے ۔ یہاں پانی جذب ہی نہ ہوتا تھا۔ یہاں کی مٹی بڑی عجیب تھی ، یہ ریت اور گارے کی طرح کیچڑ نہیں بناتی تھی بلکہ شاید چکنی مٹی تھی۔ قدموں کے نیچے یوں محسوس ہوتا جیسے اسفنچ پر چل رہے ہیں۔ ہر قدم کے ساتھ “ پھچ پھچ” کی سی آواز آتی۔

ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ یہاں کی گلیوں میں روڑی، مٹی اور ریت ڈال کر زمین کی نمی ختم کی جاتی اور زمین کی سطح بلند کی جاتی ( پکی گلی یا سڑک کا تو خیر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا) لیکن الا ماشاء اللہ ہماری شہری حکومتوں میں ہمیشہ سے ایک سے بڑھ کر ایک عالی دماغ موجود رہے ہیں۔ خدایان شہر نے اس کا علاج یہ نکالا کہ تمام شہر کا کچرا لاکر ان گلیوں میں پھیلا دیا ،جس سے زمین کی نمی اور پھچ پھچ کی آواز بند ہوگئی۔ 

وہ عجیب سی بساند بھی بند ہوگئی جو ہر وقت پھیلی رہتی تھی۔ اب اس کچرے کی بو نے دل دماغ کو متعفن و منغض کرنا شروع کردیا۔ بہرحال مرتا کیا نہ کرتا۔ شہریوں نے اسے بھی آہستہ آہستہ قبول کرلیا۔ پہلے ہی چمڑے کے کارخانوں کی بو کون سی کم تھی اور یہاں کے لوگوں کو خوشبو نام کی کسی چیز سے واقفیت ہی نہیں تھی۔

رہے بہار کالونی کےآس پاس کے علاقے تو ان کا تو حال اور بھی بدتر تھا، چاکیواڑہ اور رانگی واڑہ میں تو جھگیوں کے علاوہ کچھ نظر ہی نہ آتا۔ پکّی عمارت کوئی ہوتی تو وہ چمڑے کے کارخانےتھے۔ یہ علاقے اب بھی میرے دل ودماغ پر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح محفوظ ہیں۔ خدا جانے ان کے نصیب بدلے یا نہیں کہ لیاری والوں نے” عوامی حکومت” کی وفاداری میں تن من دھن سب لٹا دیا لیکن مجھے نہیں یاد کہ ان کی کبھی دادرسی کی گئی ہو۔

لیاری ندی کی دوسری جانب ’’شیرشاہ کالونی “ تھی جو دور سے دیکھنے پر بھی اچھی نہیں لگتی تھی اور اس کا حال بہار کالونی سے بھی برا نظر آتا تھا۔ اور میرا خیال ہے آج بھی اس کا وہی حال ہے۔ جہاں بہار کالونی سے سیلاب کے پانی کی یاد جڑی ہوئی ہے وہیں شیرشاہ سے ایک بھیانک آگ کی یاد وابستہ ہے۔ مجھے یاد ہے اس آگ کے شعلے ہمارے گھر سے بھی نظر آرہے تھے حالانک ہمارا گھر اس سے کوسوں دور تھا۔ یہ آگ کوڑے کے ایک ڈھیر میں لگی تھی لیکن اس کے شعلے آسمان کو چھوتے دکھائی دیتے تھے۔

لیاری ندی کے ساتھ ساتھ مرزا آدم خان روڈ تھا جو آگرہ تاج کالونی جاتا تھا۔ سنا ہے اب من و تو کا فرق مٹ گیا ہے اور آگرہ تاج اور بہار کالونی میں کوئی فرق نہیں رہا لیکن میرے ذہن پر آگرہ تاج کی ایک بہتر تصویر ہے۔ ہمارے ایک عزیز نے وہاں مکان لیا اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہاں مکانات بہار کالونی سے بھی زیادہ پرانے تھے اور شاید ہندوؤں کے چھوڑے ہوئے تھے ، گھر اندر سے روشن دار نہیں ہوتے تھے۔ 

لیکن یہ علاقہ بہت کھلا کھلا اور نسبتاً صاف ستھرا تھا۔ یہاں ایک مسجد کے ساتھ ناریل کے درخت تھے، جنہیں میں کھجوروں کے درخت سمجھتا تھا اور مسجد اور آس پاس کا علاقہ قرون وسطٰی کے کسی عرب نخلستان جیسا لگتا۔ آگرہ تاج کالونی یا مسان روڈ پر “ غازی محمد بن قاسم “ اسکول تھا، جہاں مجھے ایک دن کے لیے داخل کیا گیا تھا ، لیکن میری دادی جب مجھے دوپہر کو اسکول سے لینے آئیں تو وہیں ماسٹر کو کھڑے کھڑے فیصلہ سنا دیا کہ ہمارا بچہ اتنی دور نہیں آئے گا۔

آگرہ تاج سے آگے ماری پور کا علاقہ تھا ،جہاں ہم اپنے مکان مالک کے سب سے بڑے بیٹے عرفان کے ساتھ جہاں جاتے وہ اترا ہوا سمندر ہوتا تھا ،جس کی دلدلی زمین میں چھو ٹے چھوٹے کیکڑوں کے بِل ہوتے اور ہم ان سے بچ کر چلتے۔ یہیں ایک جگہ دور تک سمندر نے زمین چھوڑ دی تھی اور ایک وسیع وعریض میدان بن گیا تھا، جس کی زمین سپاٹ ، مسطح اور پختہ تھی اور یہاں بیک وقت بیس پچیس ٹیمیں کرکٹ کے میچ کھیلا کرتیں۔ 

کئی سال بعد جب میں بہت بڑا ہوگیا تھا تو کورنگی سے یہاں آکر ایک میچ کھیلا تھا۔ بالکل یہی نقشہ کبھی پولو گراؤنڈ میں نظر آتا تھا، جہاں کراچی کی نامی گرامی ٹیمیں کھیلا کرتیں اور حنیف محمد، علیم الدین، محمد مناف اور اکرام الہی جیسے کھلاڑی بھی یہاں نظر آتے۔

کولاچی کراچی سے مزید