آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سیالکوٹ میں چند روز قیام کے بعد میری منزل تو لاہور ہی تھا اور مقامی دوستوں کے ساتھ لاہور کے لیے روانہ بھی ہوئے تاہم راستے میں معلوم ہوا کہ کرتار پور میں باباگرونانک کی یادگار بھی قریب ہی واقع ہے لہٰذا فیصلہ ہوا کہ کرتار پور سے ہوتے ہوئے لاہور کا سفر کریں گے۔

مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کرتارپور تک پہنچنے کا سفر شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ اب جس علاقے سے گزر رہے ہیں یہ علاقہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں سے کافی مختلف ہے، یہاں کی سڑکیں بھی کافی معیاری ہیں، راستے میں صفائی ستھرائی کا بھی بہترین انتظام ہے۔

سڑکوں کے اطراف میں درخت اور شجر کاری بھی موجود ہے اور تجاوزات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوستوں سے معلوم ہوا کہ ہم اس وقت نارووال سے گزر رہے ہیں اور یہاں کے رکنِ اسمبلی سابق وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال ہیں جنھوں نے اپنے علاقے میں بہترین ترقیاتی کام کروائے۔

کرتارپور بھی ضلع نارووال میں ہی آتا ہے، ابھی کرتارپور جانے والی بہترین سڑک سے گزر ہی رہے تھے کہ بائیں ہاتھ پر یونیورسٹی آف نارووال کی خوبصورت عمارت نظر آئی جس کی تعمیرکی نگرانی خود احسن اقبال کرتے رہے ہیں۔ نارووال جیسے پسماندہ علاقے میں اتنی معیاری اور خوبصورت یونیورسٹی منفرد اقدام تھا۔

میں نے گاڑی رکوائی اور یونیورسٹی کے ساتھ موجود چائے کی دکان پر پڑائو ڈالا، گرما گرم چائے کا آرڈر کیا اور چائے والے سے ہی احسن اقبال کے مزید اقدامات کے حوالے سے بات چیت کی۔ چائے والے کا نام امام دین تھا جو احسن اقبال کو مسلسل دعائیں دئیے جا رہا تھا امام دین کے مطابق چند سال پہلے نارووال کھنڈر جیسا شہر تھا لیکن چھ سال میں یہاں بہترین سڑکیں، سرکاری اسپتال، اسکول، کالج اور یہ خوبصورت یونیورسٹی احسن اقبال کی مرہون منت ہے۔ اس نے بتایا کہ احسن اقبال اکثر اس یونیورسٹی کے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے آتے تھے۔

میں سوچ رہا تھا اگر ہر رکن اسمبلی اور وزیر اپنے حلقہ کیلئے اس طرح کام کرے تو پاکستان کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ احسن اقبال اس وقت اپوزیشن جماعت ن لیگ کے جنرل سیکرٹری ہیں اور کرپشن کے الزام میں نیب کی قید میں ہیں لیکن مجھے چند سال پہلے کے وہ مناظر یاد آگئے جب پروفیسر احسن اقبال بطور وفاقی وزیر منصوبہ بندی جاپان کے دورے پر تھے اور جاپانی حکومت اور سرمایہ کاروں نے پاکستان کے لیے شاندار خدمات کے صلے میں ان کو بہترین عزت و احترام سے نوازا تھا۔

آج اسی احسن اقبال کو ہم نے کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈال دیا۔ یہ اکتوبر دو ہزار سولہ کی بات ہے جب اس وقت کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال اہم دورے پر جاپان تشریف لائے تھے، یوں تو جاپان میں آنے والے ہر سرکاری مہمان کو عزت دی جاتی ہے لیکن احسن اقبال کی قابلیت اور پاکستان میں منصوبہ بندی کی وزارت میں شاندار خدمات کے باعث جاپان میں ان کو بہت اہمیت دی گئی تھی اور ان کی باتوں کو انتہائی غور و خوض کے ساتھ سنا گیا۔

اہم جاپانی کاروباری ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کرنے لگے تھے۔ اکتوبر 2016میں پروفیسر احسن اقبال کے دورہ جاپان کا مقصد پاکستان کے وژن 2025کے حوالے سے جاپانی حکومت اور سرکاری و کاروباری اداروں کو آگہی فراہم کرنا تھا، اس حوالے سے ٹوکیو میں اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ دو سو کے قریب اہم ترین جاپانی شخصیات سے ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا، جہاں کچھ ہی دیر میں پروفیسر احسن اقبال کو خطاب کی دعوت دی گئی۔

احسن اقبال کی آمد پر پورے ہال نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور پھر اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک ہال میں صرف احسن اقبال کی آواز ہی گونجتی رہی۔ جاپانی حکام انتہائی انہماک سے پاکستان کے وژن 2025سے آگاہی حاصل کرتے رہے۔

کئی اہم جاپانی سرکاری حکام بہت پر اعتماد تھے کہ اگر حکومت پاکستان اپنے وژن 2025پر عملدرآمد میں کامیاب ہوگئی تو 2025میں پاکستان ایشیا کے کئی ممالک کو ترقی میں پیچھے چھوڑ سکتا ہے لیکن بعض جاپانی حکام کی طنزیہ مسکراہٹ یہ بھی بتارہی تھی کہ پاکستان کے وژن 2025پر عملدرآمد مشکل ہی نظر آتا ہے۔

کانفرنس کے بعد میں نے احسن اقبال سے اپنے جاپانی دوستوں کی طنزیہ مسکراہٹ کا ذکر بھی کیا لیکن احسن اقبال نے بھی مسکرا کر جواب دیا کہ پاکستان میں اب سیاسی استحکام اور سیاسی جماعتوں میں سیاسی پختگی آگئی ہے لہٰذا امید یہی ہے کہ پاکستان تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھے گا۔

اگلے روز احسن اقبال دورہ مکمل کرکے واپس پاکستان روانہ ہوگئے لیکن جاپانیوں کی طنزیہ مسکراہٹ اور پاکستان کی ترقی کے حوالے سے ان کا خدشہ ٹھیک ثابت ہوا، 2017میں پاکستان کے سیاسی حالات خراب ہونا شروع ہوئے، نواز شریف کی حکومت ہچکولے کھانے لگی، پھر پاناما کیس میں نواز شریف عدالتی فیصلے سے فارغ ہوئے۔

شاہد خاقان وزیراعظم بنے لیکن اب پاکستان میں ترقی کا عمل رُک چکا تھا۔ نئے انتخابات ہوئے، الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگے، عمران خان کی حکومت کم مارجن کے ساتھ ،اتحادیوں کی مدد سے اقتدار میں آئی اور پھر سیاسی اختلافات اور کرپشن کے نام پر گرفتاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا آج اپوزیشن کے اہم ترین رہنما مختلف کیسوں میں جیلیں اور حوالات بھگت رہے ہیں اور پاکستان کی ترقی کا خواب پھر سے دھندلا سا گیا ہے۔

پاکستان کے وژن 2025کا کیا ہوگا کچھ پتا نہیں، لگتا ایسا ہے کہ آج کے حکمراں اگلی حکومت کے دنوں میں اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹنے کے لیے اندر ہوں گے کیونکہ یہی قانون قدرت ہے اور پاکستانی سیاست کی ریت بھی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید