آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ27؍جمادی الثانی 1441ھ 22؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دینی مدارس کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے، علماء

لاہور ( وقائع نگار خصوصی)جامعہ اشرفیہ لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام پوزیشن ہولڈر طلبہ وطالبات کے اعزاز میں تقریب تقسیم انعامات ہوئی ،اس موقعہ پر پوزیشن ہولڈر طلبہ میں انعامات اور ان کے اداروں میں اعزازات تقسیم کیے گئے،سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے خصوصی شرکت کی اس موقعہ پر وفاق المدارس کے سینئر نائب صدر شیخ الحدیث مولانا انوار الحق، سیکرٹری جنرل مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا زبیر احمدصدیقی،علامہ ڈاکٹر خالد محمود،مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی،مولانا مفتی محمد طیب،مولانا عبدالمجید،مولانا ارشاد احمد،مولانا مفتی طاہر مسعود،مولانا طلحہ رحمانی،الحاج حافظ صغیر احمد اور دیگر نے اپنے خطبات میں دینی مدارس اور وفاق المدارس کی خدمات کو اجاگر کیا،مقررین نے اپنے اس دیرینہ عزم کا اظہار کیا کہ دینی مدارس کی حریت وآزادی پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے اور مدارس کے مالی،تعلیمی،امتحانی اور انتظامی ڈھانچے میں ہرگزکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔مقررین نے مطالبہ کیاحکومت اتحاد تنظیمات مدارس کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر طے شدہ

معاہدوں سے ذرا بھر بھی انحراف کیا گیا تو ہم کسی معاہدے کے پابند نہیں ہوں گے اور مدارس کی حریتِ فکر وعمل کے لیے میدان عمل میں نکلنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ قومی نصاب ِتعلیم کی تیاری میں دینی مدارس کے وفاقوں اور اسلامک اسکولز کے نمائندوں کو بھی شریک کیا جائے اور جب تک علماء کرام کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا تب تک کوئی نصاب بھی نہ قومی نصاب کہلائے گا اور نہ ہی ہمارے لیے قابل قبول ہوگا۔علماء کرام نے مساجد کی تعمیر اور نئے مدارس کے قیام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے طرز عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور پنجاب میں اس حوالے سے گردش کرتی پالیسی کو یکسرمسترد کر دیا،وفاق المدار س کے قائدین نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا،انڈیا میں منظور کیے گئے شہریت بل کو خطے کے حالات خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔ا اگر خدانخواستہ پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا تو پاکستان کے مدارس کے لاکھوں طلبہ پاک فوج کے شانہ بشانہ ہی نہیں بلکہ پاک فوج سے آگے بڑھ کر دفاع وطن کے لیے لڑیں گے۔اس موقعہ پرمولانا قاری احمد میاں تھانوی، مولانا مفتی عزیز الرحمن،مولانا مفتی خرم یوسف، مولانا پیر اسداللہ فاروق،مولانا عبداللہ مدنی،مولانا انیس احمد مظاہری، مولانا مجیب الرحمن انقلابی،مولانا عبدالغفار،مولانا قاری محمد رفیق وجہوی،مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا مفتی اویس عزیز،مولانایحیی عباسی،مولانا جواد قاسمی،مولاناقاری خالقداد عثمان،قاری عزیز الرحمن اور دیگر نے شرکت کی۔

لاہور سے مزید