آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سماجی برداشت کا فروغ اہم ضرورت ہے ،ڈاکٹر قبلہ ایاز

پشاور (لیڈی رپورٹر) معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین سماجی برداشت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، اساتذہ اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارڈاکٹر قبلہ ایاز سربراہ اسلامی نظریاتی کونسل نے "ملک میں تنوع اور مکالمے کے فروغ کے لئے اساتذہ کا کردار"کے موضوع پر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا رستہ ملک کے تمام اہم خطوں سے ہوکر گزرتا ہے ۔ ملک میں سماجی،مذہبی اور مسلکی ہم آہنگی کو فروغ دے کر ہی ہم پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں روشن کرسکتے ہیں۔ سماجی امن ملکی معیشت کی بہتری کا لازمی جزو ہے۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے پراجیکٹ منیجر احسن حمیددرانی نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے تحت ملک بھر کے منتخب تعلیمی اداروں کے یونیورسٹی /کالجز اساتذہ کو معاشرے میں تنوع اور مکالمے کے فروغ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کی سربراہ اور پنجاب کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن کی ممبر رومانہ بشیر نےکہا کہ درسگاہوں میں بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت ہی بہتر معاشرے کے قیام کی ضامن ہے۔نصاب میں بہتری ایک طویل مرحلے کے نتیجے میں آئے گی لیکن اساتذہ

کی جانب سے تنوع اور مکالمے کی روایت کو زندہ کرکے ہم جلد ہی ایک مثبت معاشرے کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اے ایچ نیئر نےکہا کہ تعلیم کا اصل مقصد نوجوان نسل میں تنقیدی شعور بیدار کرنا ہے اور نئی ایجادات اور تحقیقات اسی صورت ممکن ہوسکتی ہیں ۔ شیخ زید اسلامک سنٹر یونیورسٹی آف پشاور سے وابستہ ڈاکٹررشید احمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ صدیوں سے بہترین معاشرتی روایات کے امین ہیں۔ ہم سماجی انتہاء پسندی کے انسداد کے لئے مکالمے کی روایت کو زندہ کریں گے اور اساتذہ اس کوشش میں کلیدی کردار اداکریں گے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی فار وومن کے شعبہ علوم اسلامیہ کی سربراہ ڈاکٹر خدیجہ عزیز نے سماجی ہم آہنگی اور مثبت رویوں کے فروغ میں اساتذہ کے کردار کے متعلق بیان کیا۔

پشاور سے مزید