آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج کل پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کیلئے جھٹکے دیے جا رہے ہیں، ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ جو کام مولانا فضل الرحمٰن بغیر اپنے اتحادی دوستوں کی شمولیت کے انجام نہ دے سکے، یکایک ایم کیو ایم کے صرف 7سیٹ والوں (جو 16ماہ تک وزارتوں، عنایتوں کے مزے لوٹتے رہے) کے ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھنے سے ممکن دکھائی دینے لگا۔

 کراچی پہلے بھی کھنڈر ہو رہا تھا، پی ٹی آئی حکومت بننے کے بعد مزید تیزی آ رہی تھی، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، گٹر ابل رہے تھے، کچرے کا ڈھیر بڑھ رہا تھا۔ 

کراچی کے عوام گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بیزار تھے۔ پی ٹی آئی کے کراچی کے ایم این اے اور ایم پی اے جن کی بدولت عمران خان کو حکومت ملی تھی، نے وہی طرزِ حکومت اپنایا جو ماضی میں پی پی پی کی حکومت متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ کرتی آئی تھی۔ 

اگر اس الیکشن سے پہلے کی صورتحال پر غور کیا جائے تو متحدہ قائد پر پابندیوں کے بعد ان کو بہترین موقع ملا تھا۔ 

سب مہاجر تنظیمیں ایک ہو کر کراچی اور حیدر آباد میں اپنے متفقہ امیدوار لاتیں جیسے مہاجر قومی موومنٹ بنتے وقت یہ سب ساتھ تھے، بعد میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے آفاق گروپ الگ ہوا پھر اُن کے ساتھ عامر خان گروپ الگ ہوا اور آخر میں مصطفیٰ کمال نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ متحدہ سے الگ ہو کر اپنی نئی سیاسی جماعت PSPبنا کر ایک نیا نعرہ دیا کہ سندھ میں رہنے والوں کے حقوق برابر ہیں۔ 

اب عوام حیران اور پریشان تھے کہ چلو پہلے الطاف حسین نے مہاجروں کے نام پر سیاست چمکا کر بھتہ، قتل و غارت، ہڑتالوں اور اغواء کی آڑ میں ان سب کو ملوث کیا اور پھر مہاجروں کے نام پر دھبہ لگوایا، اب تو میدان صاف تھا۔ شہر میں امن و امان قائم ہو چکا تھا۔ 

پھر کیا ضرورت تھی کہ بہادر آباد اور پی آئی بی کی کمان الگ الگ گروپ کی شکل میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو۔ کوئی کامران ٹیسوری کو ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا تو کوئی فاروق ستار کی کمزوریاں گنوا رہا تھا۔ نائن زیرو ویران ہو چکا تھا۔ 

کچھ کہنے والوں نے یہ بھی کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے مصطفیٰ کمال کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ اس کا ووٹ بینک ختم کر کے PSPکا ووٹ بینک بنائے، اس سے مہاجر ووٹ بکھر کر تین گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ PSPتو بالکل ٹھکانے لگ گئی اور ایک بھی سیٹ نہ جیت سکی البتہ متحدہ قومی موومنٹ سمٹ کر 7سیٹیں مرکز میں جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔ 

قدرت ان 7سیٹوں پر مہربان ہوئی اور پی ٹی آئی کو آخر میں حکومت بنانے کے لئے انہی 7سیٹوں کی ضرورت پڑی۔ عمران خان جو متحدہ قومی موومنٹ کے ازلی مخالف تھے، تمام اصول چھوڑ کر متحدہ سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہو گئے۔ اس طرح متحدہ قومی موومنٹ ان کی اتحادی پارٹی بن گئی۔ 

اب پی ٹی آئی اور متحدہ والوں کو مل کر اس شہر کے لئے کام کرنا چا ہئے تھا مگر 16سترہ ماہ تک کچھ نہ ہوا۔ مہاجروں کو صرف دلاسے ملتے رہے کہ فلاں منصوبہ زیر غور ہے، K-4، ٹرانسپورٹ، نوکریاں سب دھرے کا دھرا رہ گیا۔ جنہوں نے ان گروپوں کو سیٹیں دلوانے کے وعدے کئے تھے وہ بھی پیچھے ہٹ گئے مگر 65ستر فیصد ٹیکس جمع کرتے رہے۔ 

ترقیاتی کام دوسرے صوبے میں ہوتے رہے۔ سندھ بالخصوص کراچی اور حیدر آباد کو نظر انداز کرتے کرتے عوام کو باور کروایا کہ نہ صوبائی حکومت ان کی خیر خواہ ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت۔ 

ایک طرف بدعنوان سیاست دانوں سے پیسہ نکلوانے میں نیب ناکام ہوئی تو دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت کے نااہل وزرا تبدیلی کے نام پر الیکشن جیت کر صرف ڈیڑھ سال میں ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا چکے ہیں۔ رہی سہی کسر ایف بی آر نے 6ماہ میں نت نئے قوانین پر عمل درآمد کرانے کے لئے تاجروں اور صنعتکاروں کو پریشان کرکے نکال دی۔ 

ہر طرف بے روزگاری بڑھ رہی ہے، اسٹیٹ بینک نے سود کی شرح اتنی بڑھا دی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے قوم بلبلا اُٹھی ہے۔ متحدہ والوں کو چاہئے عمران خان سے زیادہ سے زیادہ مراعات اپنے عوام کے لئے حاصل کریں اور اس نادر موقع کو ضائع نہ کریں۔ 

حالانکہ بلوچستان نیشنل پارٹی تو ایک عرصے سے نالاں ہے مگر وہ خاموش ہے۔ جی ڈی اے نے بھی ناراضی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ پی پی پی نے بھی حوصلے بڑھانے کے لئے متحدہ کو پھر لولی پاپ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

 چوہدری برادران بھی اب پی ٹی آئی کا اکیلے بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن حکمران وزرا اپنی نادانیوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ عمران خان ان کو نکال بھی نہیں سکتے کہ گنتی کم پڑ جائے گی۔ الغرض پی ٹی آئی حکومت چلانے کی اہلیت کھو چکی ہے۔

بقول بلاول بھٹو زرداری ان کو لانے والے خود پچھتا رہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن قومی حکومت بنانے کا پکا ارادہ کر چکے ہیں۔ جس دن ان کو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا اشارہ ملا وہ پھر سے میدان سیاست میں اُتریں گے، ایسے میں پی ٹی آئی کے ناراض اتحادی بھی ساتھ دینے پر مجبور ہوں گے، کاش وہ جلد از جلد فیصلہ کر لیں اور قوم کو عذاب سے نکالیں۔ 

وزیراعظم کے پاس ایران اور سعودیہ کی مشکلات کا حل نکالنے کے لئے وقت ہے مگر پاکستان کے عوام کی فکر نہیں، یہ کیسی تبدیلی ہے؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں 00923004647998)