آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وطن عزیزمیں بحرانوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نااہل اربابِ اقتدار ہیں۔ بدقسمتی سے قوم نے 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف پر جس اعتماد کا اظہار کیا تھا وہ بری طرح مجروح ہوا ہے۔ بعض وفاقی وزراء کی جانب سے قومی اداروں کی تضحیک قابل مذمت اور لمحہ فکریہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومتی ارکان اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ دوسروں پر ڈال کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ عوام پریشان ہیں کہ یہ ملک میں کیسی تبدیلی آئی ہے کہ ریلوے میں 10ہزار نوکریاں ڈیڑھ لاکھ روپے فی نوکری کے عوض فروخت کرنے کا الزام خود حکومتی لوگ ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ کی جانب سے 3ماہ میں نیا نیب قانون لانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ حکمرانوں نے نیب آرڈیننس لاکر احتساب کے سارے نظام کو ہی مشکوک بنا دیا تھا۔ ملک میں بلا تفریق احتساب سے ہی تبدیلی آ سکتی ہے مگر بدقسمتی سے حکمرانوں نے اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے نیب آرڈیننس لاکر احتساب بیورو کے پر کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے 22غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپے کے اخراجات کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تبدیلی کی تمام باتیں محض جھوٹ تھیں۔ موجودہ حکمران بھی سابق حکمرانوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کرنے، مختصر کابینہ رکھنے اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے دعویداروں نے اپنا کوئی وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کے بیانیے سے بھی یو ٹرن لے چکے ہیں۔ حکومتی وزراء کی کارکردگی محض زبانی جمع خرچ اور بیانات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قوم کو وزیراعظم کا سلیکٹڈ احتساب قابل قبول نہیں۔ تمام اداروں کو آزادانہ طور پر اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف حکومت کی ساری توجہ اپوزیشن پر تنقید اور ناراض اتحادیوں کو منانے پر مرکوز ہو چکی ہے جبکہ دوسری جانب ملک میں عوام کو درپیش مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی مسائل کے حل کی جانب سرکاری ادارو ں اور حکومت کی توجہ کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جو فنڈز اداروں کیلئے مختص کیے جاتے ہیں وہ بغیر استعمال کے ہی پڑے رہتے ہیں۔ پورا صنعتی شعبہ بدحالی کا شکار ہے۔ کاشتکاروں کے استحصال کی بدولت ہم ملک میں مقامی ضرورت کے مطابق بھی کپاس کی پیداوار حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے۔

کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے معاشرے میں عدم برداشت کے رویوں کو ختم کرنا ہوگا۔ اسی تناظر میں معروف سماجی تنظیم میڈیا فائونڈیشن نے گزشتہ دنوں لاہور کے مقامی ہوٹل میں ’امن سیمینار‘ کا انعقاد کیا۔ مجھے بھی اس اہم سیمینار میں مدعو کیا گیا تھا۔ امن سیمینار سے ملک کی ممتاز سماجی و صحافتی شخصیات صائمہ جاسم، رفیق احمد قریشی، خواجہ عزیز الحسن، عامر سہیل، عادل یعقوب سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ میں نے تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسلام دینِ رحمت ہے اور معاشرے میں امن، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ہم سب کو مل کر سوسائٹی سے فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ سماجی رہنما صائمہ جاسم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا فاؤنڈیشن جو گزشتہ کئی سالوں سے بین المذاہب و مسالک ہم آہنگی کیلئے ملک بھر میں مختلف عنوانات کے تحت کام کر رہی ہے، اسی تنظیم کے زیر تحت چلنے والے مختلف پروجیکٹس میں اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں رہنے والے تمام انسانوں کے درمیان کسی بھی قسم کے تفرقات سے الگ مشترکات کو عام کیا جا سکے اور ان کے مذاہب اور رسوم کے ساتھ ساتھ ایک پُرامن معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنایا جا سکے تاکہ پاکستان میں ایک پُرامن معاشرے کی بنیاد کیلئے راہیں ہموار کی جا سکیں۔ جنوبی پنجاب میں جاری پروجیکٹس کمیونٹی پیس لیڈرز میں بھی اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ تمام مسالک کے ماننے والے ایک امن کے نکتے پر اکٹھے ہو جائیں اور فروغ امن کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس پروجیکٹ میں دو حصوں میں سر انجام دیا گیا ہے۔ مختلف مسالک سے 30مذہبی اکابرین و سماجی قائدین کو سر پرستی کے لیے چنا گیا ان میں 15،15افراد ہر حصے میں شامل کیے گئے۔ پروجیکٹ کے دونوں حصوں میں 90علاقائی و مذہبی قائدین کو تربیت دی گئی جن میں تمام مسالک اور مذاہب کے لوگ شامل ہیں ان میں ایک حصہ میں 60اور دوسرے حصہ میں 30افراد کو حصہ بنایا گیا۔ ہر علاقائی و مذہبی قائد نے ایک علاقائی امن کمیٹی بنائی جو علاقہ کے 7افراد پر مشتمل ہے۔ ان کمیٹیوں کی مجموعی تعداد 90ہے۔ ا س طرح اس پروجیکٹ کے دونوں حصوں سے 630افراد کی ایک کثیر تعداد امن کے بیانیے کے فروغ کیلئے عملی طور پر کوشاں ہے۔ نیز علاقے کے تمام افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنے اور نفرت انگیز گفتگو اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے اور بہت سی سرگرمیوں کو اس پروجیکٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جن میں مختلف امن واک/ علاقائی کھانوں کے مقابلے/ فنون اور ثقافتی سرگرمیاں/ سیمینارز/ اسپورٹس کے مقابلے وغیرہ شامل کیے گئے ہیں تاکہ علاقے کے لوگوں کو صحت مند سرگرمیوں کے ساتھ امن کی طرف راغب کیا جائے۔ رفیق احمد قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہم سب کے سامنے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری محنت نہ صرف رنگ لا رہی ہے بلکہ ایک خوشگوار تبدیلی کی ضمانت بھی بنتی جا رہی ہے کہ جنوبی پنجاب میں جاری پروجیکٹس کمیونٹی پیس لیڈرز کے ثمرات اب اس علاقے میں نمایاں طور پر نظر آرہے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہماری محنت کا پھل ہمیں مل رہا ہے۔ خواجہ عزیز الحسن نے کہا کہ لوگوں کے بود و باش میں تبدیلی آئی ہے، وہی لوگ جو صرف مذہبی منافرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملنے سے بھی گریزاں رہتے تھے ان کے رویوں میں اب واضح تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ تمام اہل علاقہ ان تمام اختلافات سے الگ ہوکر ایک دوسرے سے گھل مل رہے ہیں، ان کے رویوں میں مثبت تبدیلی آرہی ہے جو یقیناً پاکستان کی سالمیت کے لئے بہترین ہے۔ قصہ مختصر! ملک میں امن کے قیام کے لیے یہ تقریب خاصی اہم تھی۔ ایسی تقریبات کے انعقاد سے ملکی حالات بہتر ہوں گے اور معاشرے میں عدم برداشت ختم ہوگی۔ حکومت پاکستان، سماجی، سیاسی اور دینی تنظیموں کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید