آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ماضی کے لیجنڈری اداکار سدھیر کی 23ویں برسی 19 آج منائی جائیگی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان فلم انڈسٹری میں 40سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے جنگجو ہیرو لالہ سدھیر کوہم سے بچھڑے 23سال بیت گئے۔پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کا خطاب پانے والے شاہ زمان المعروف سدھیر زندہ دلان کے شہر لاہور میں 1922کو پیدا ہوئے۔معاملہ فہم اور درد مند انسان ہونے کے باعث انہیں فلم انڈسٹری میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اورفلم انڈسٹری سے وابستہ لوگ انہیں لالہ سدھیر کہہ کر پکارتے تھے، وہ اداکاروں کی تنظیم کے چیئرمین بھی رہے۔قیام پاکستان کے بعد سدھیر کی پہلی فلم’ہچکولے‘ تھی، اسی دور میں ان کی فلم ’دوپٹہ‘ مقبول ہوئی، جس میں وہ نورجہاں اور اجے کمار کے مقابل جلوہ گر ہوئے جبکہ 1956 میں فلم’ماہی منڈا‘ اور’ یکے والی‘ نے سدھیر کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ اس دور کی ہیروئین شمی کو سدھیر نے اپنا شریکِ حیات بنایا۔لالہ سدھیر کو جنگ و جدل پر مبنی فلموں میں بہترین پرفارمنس پر جنگجو ہیرو کا خطاب بھی دیا گیا۔ سدھیر نے 200 سے زائد فلموں میں اپنے وقت کی معروف ہیروئینوں کے مقابل مختلف کردار کئے، جن

میں نورجہاں، صبیحہ خانم، مسرت نذیر، یاسمین، آشا بھوسلے، لیلیٰ، راگنی، زیبا، دیبا، شمیم آرا، ریحانہ، نیئر سلطانہ، حسنہ، نیلو، نجمہ، فردوس، نغمہ، سلونی، شیریں، بہار بیگم اور رانی نمایاں ہیں۔ان کی مقبول فلموں میں دوپٹہ، سسی، کرتار سنگھ، بغاوت، یکے والی، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، ابا جی، چٹان، جانی دشمن، لاٹری اور ان داتا شامل ہیں۔ انہیں 1970 میں پنجابی فلم ’ماں پتر‘ اور 1974 میں ایک اور پنجابی فلم ’لاٹری‘ پر بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔ لالہ سدھیر 19 جنوری 1997 میں اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔

دل لگی سے مزید