آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عینی مراد

ترقی یافتہ ممالک کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی خواتین کو زیادہ سے زیادہ ملازمت کے مواقع فراہم کرنے پر غور وفکر کرنی چاہیے

جس طرح کسی بھی کمپنی کی مالی کارکردگی کا انحصار اس کے ملازمین کی کارکردگی پرہوتا ہے، بالکل اسی طرح ملک کی معیشت کا انحصار لوگوں کی صلاحیتوں اور ان کے مل جل کر کام کرنے پر ہوتاہے، جس میں بہتری کے باعث ملک کی معیشت میں انقلابی سطح کی تبدیلی آتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق صنفی مساوات اور فی کس مجموعی قومی آمدن کے درمیان باہمی تعلق موجود ہے۔ 

خواتین دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریبا ًنصف ہیں ۔اس کے باوجود مرد و خواتین کی پیشہ ورانہ سرگرمیوںمیں شرکت کے تناسب میں بہ دستور نمایاں فرق ہے۔ سال 2014 ءکے اعداد و شمار میں یہ انکشاف سامنے آیاہے کہ آبادی کے اعتبار سے مردوں کی شرح ملازمت 72.2 فی صداور خواتین کی 47.1 فی صد تھی۔

خواتین کی قوت اور ان کی صلاحیتوں کو صحیح طر ح سے استعمال نہ کرنے کے باعث بعض ممالک کے سماجی واقتصادی معاملات سمجھنے میں اہم خامیاں رہ جاتی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ایشیا اور پیسیفک خطے میں خواتین کی کام کے مواقع کی محدود رسائی کے باعث ہر سال 42 ارب ڈالرز سے 47 ارب ڈالرزضائع ہوجاتے ہیں۔ 

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کام کرنے والی وہ مائیں جن کی بیٹیاں 14 سال کی عمر کو پہنچ چکی ہیں، وہ مثبت قوت کی مالک ہیں اور اپنے بچوں، بالخصوص، لڑکیوں کے مستقبل کے لئےبہتر مواقع نکال سکتی ہیں اورکام کرنے والی مائیں گھر پر رہنے والی خواتین کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیںاور پہلے کے مقابلے میں زیادہ بااثر پوزیشن پر ہوتی ہیں۔

اگرچہ ترقی پذیر ممالک کی نسبت ترقی یافتہ ممالک میں صنفی مساوات کم نظر آتا ہے، تاہم تمام ممالک میں دونوں اصناف کے درمیان بہ دستور فرق موجود ہے۔ ترقی پذیر دنیا میں خواتین کی کم نمائندگی کے باوجود بعض ممالک میں خواتین کی آمدن پہلے سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔ 

مثال کے طور پر مزدوروں کی معیشت کے بارے میں مستند اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے ،ورلڈ آف لیبر آئی زیڈ اے 2014 کی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور جنوبی ایشیا میں 25 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین کے کام کرنے کی شرح 40 فی صد سے بھی کم ہے۔

تاہم1992 ءسے 2012 ءتک مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں خواتین کے کام کرنے کی شرح میں اضافہ اور جنوبی ایشیا میں کمی واقع ہوئی ۔اور اس خطے کے اعداد وشمار میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں صرف 20 فی صد خواتین کام پر جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف نیپال میں 80 فی صد خواتین گھر سےباہر کام کرتی ہیں۔ اسی طرح بنگلا دیش میں بھی تیار ملبوسات کی صنعت میں پھیلاؤ کے باعث خواتین کے روزگار میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان کو دیگر ممالک کو دیکھتے ہوئے خواتین کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے جنہیں مردوں کے مقابلے میں اس حوالے سے بہت کم سہولتیں اور مراعات حاصل ہیں۔ اگرچہ کسی ملک کے سماجی و اقتصادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے بہت سے راستے ہیں ۔تاہم صنفی مساوات کے فروغ کے لئے خواتین کو مائیکرو فنانسنگ کے ضمن میں بااختیار بنانا ہوگا۔ 

پاکستان میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جو خواتین کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق صلاحیتیں حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ،تاکہ وہ باآسانی ملازمت کرسکیں یا پھر انہیںمالی وسائل فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں،تاہم ان جیسے اداروں کو بھی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروباری اور مخیر افراد کے مناسب تعاون کے بغیر یہ بھی اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے قرضوں کی فراہمی سے نہ صرف ان خواتین کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے ۔ بلکہ اس کے نتیجے میں ان تمام خواتین کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی آمدن کے مزید ڈرامائی نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں جن میںسے ایک پہلو خوراک کے استعمال میں اضافہ ہے۔مائیکرو فنانسنگ سے مستفید ہونے والی تقریباً ~78 فی صد خواتین کے مطابق آمدن میں اضافے کے باعث ان کی غذا کی مقدار میں اضافہ ہوگیا ہے۔یہ خاندان بچوں کی تعلیم پر زیادہ خرچ کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ 

اسی طرح معاشرے میں خواتین کی تعلیم سے متعلق سوچ میں بھی اہم تبدیلی آئی ہے۔ مذکورہ خاندان اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر متوقع طور پر چار گنا تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جوبہ ذات خود صنفی مساوات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین کو مزید مواقع تک رسائی حاصل ہوگی، اختیار کی وسیع آزادی اور اس سب کے نتیجے میں بہتر طرز زندگی حاصل ہوئی ۔

نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔اس لیے فیصلہ سازی کی زیادہ استطاعت کے ساتھ خواتین اپنی آمدن ضرورت کے مطابق استعمال کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان گھرانوں کے بچوں کا بچپن زیادہ خوش اور صحت مند ہوتا ہے۔پاکستان کو خواتین کی صلاحیتیں مناسب انداز سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں سماجی و معاشی ترقی کے لئے بنیادی صنفی مساوات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ 

ہمیں ملک کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ،تاکہ وہ معاشرے کی مساوی اور متحرک رکن بن سکیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے خاندان پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔خاندان کا مطمئن اور آسودہ ہونا کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔