آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا کا خطرناک ترین جانور کون سا ہے؟

ساتھیو! آپ کے خیال میں دنیا کا خطرناک ترین جانور کون سا ہے؟ شارک؟ چیتا؟ یا پھر مگرمچھ؟

ہم آج آپ کو دنیا کے چند خطرناک ترین جانوروں کے بارے میں بتارہے ہیں۔

مچھر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً سات لاکھ 25 ہزار افراد مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہوتے ہیں۔ صرف ملیریا 20 کروڑ افراد کو متاثر کرتا ہے جن میں سے اندازاً چھ لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مچھر ڈینگی بخار، زرد بخار اور دماغ کی سوزش کا باعث بھی بنتے ہیں۔

سانپ

ایک اندازے کے مطابق سانپ سالانہ 50 ہزار افراد کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ دنیا کا سب سے زہریلا سانپ انلینڈ ٹائیپن ہے جو ویسٹرن ٹائیپن بھی کہلاتا ہے۔ اس کے زہر سے انسان کی 45 منٹ کے اندر موت واقع ہو سکتی ہے۔ انلینڈ ٹائیپن کے ڈسے ہوئے 80 فیصد افراد کی موت ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ سب سے بڑا قاتل نہیں کیونکہ یہ انسانوں کو شاذ و نادر ہی کاٹتا ہے۔

کانٹوں جیسی جلد والے سانپ کو ’سا سکیل وائپر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا شمار دس زہریلے ترین سانپوں میں نہیں ہوتا اور اس کے کاٹے ہوئے صرف دس فیصد افراد کی موت ہوتی ہے۔ یہ آباد علاقوں کے قریب رہتا ہے اور بہت تیزی سے کاٹتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سا سکیل وائپر سے سالانہ پانچ ہزار افراد کی موت ہوتی ہے، جو کسی بھی دوسرے قسم کے سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔

انلینڈ ٹائیپن کا آبائی گھر وسطی آسٹریلیا ہے جبکہ سا سکیل وائپر پاکستان، انڈیا، سری لنکا، مشرق وسطی کے کچھ حصوں اور افریقہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ کریٹ نسل کے سانپوں کے شمار بھی دنیا کے خطرناک ترین جانوروں میں ہوتا ہے جو مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں۔

کتے

انسان کے سب سے اچھے دوست؟ شاید، لیکن انسانیت کے نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق باؤلے کتے سالانہ 25 ہزار افراد کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

وہ ممالک ،جہاں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے بشمول بھارت اور پاکستان، سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 55 ہزار سالانہ اموات میں 20 ہزار اموات باؤلے کتوں کے کاٹنے سے ہوتی ہیں، جن میں بیشتر نشانہ بچے بنتے ہیں جو متاثرہ کتوں کی زد میں آجاتے ہیں۔

سیسی مکھی یا خون چوسنے والی مکھی

سیسی مکھی عام مکھی کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ اپنے لمبے ڈنگ سے جانوروں اور انسانوں کا خون چوستی ہے۔

یہ مکھی افریقی ٹریپانوسومیاسس نامی بیماری کا باعث بنتی ہے جسے سلیپنگ سکنیس یا سونے کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری سے بخار، سر درد، جوڑوں کا درد، قے، دماغ کی سوجن اور سونے میں مشکل ہوتی ہے۔ سب صحارا خطے میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد ہر سال اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس بیماری سے دس ہزار افراد کی موت ہوتی ہے۔

مگرمچھ

ضروری نہیں کہ مگرمچھ انسانوں پر حملہ کریں لیکن وہ موقع ملنے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ صرف افریقہ میں ہر سال مگر مچھوں کی جانب سے انسانوں پر حملوں کے کئی سو واقعات سالانہ پیش آتے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد جان لیوا ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کا انحصار حملہ کرنے والے مگرمچھ کی نسل پر ہے۔ بہت سے حملے دور دراز کے علاقوں میں ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں زیادہ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔

دنیا بھر میں مگرمچھ سالانہ ایک ہزار انسانوں کی جان لیتے ہیں، یہ تعداد شارک کے حملوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

دریائی گھوڑا

اس بے ڈھنگے جانور کا شمار زمین پر خطرناک ترین ممالیہ جانوروں میں ہوتا ہے جو افریقہ میں سالانہ تقریباً پانچ افراد کو موت کے منہ میں دھکیلتا دیتا ہے۔ دریائی گھوڑے جارحانہ مخلوق ہیں اور ان کے بہت تیز دانت ہوتے ہیں۔یہ انسان کو کچل سکتے ہیں۔