آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مشکل وقت میں دوست اور دشمن کی اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ کچھ لوگ آپ سے ہمیشہ دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ جب کبھی آپ پر مشکل وقت آ جائے تو پیچھے سے وار کر دیتے ہیں۔ 

کچھ لوگوں کو آپ ہمیشہ اپنا دشمن سمجھتے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں اکثر غلط فہمیوں کا شکار رہتے ہیں لیکن مشکل وقت میں وہ آپ کی مدد کو آتے ہیں۔ مشکل وقت میں مدد کو آنے والوں کا بلند آواز میں شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

 آج میں بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے ایک ایسے وقت میں اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجا جب بھارت دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور مودی حکومت کی کوشش ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں دھکیل دے۔ 

بھارت نے بہت کوشش کی کہ بنگلہ دیش اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہ بھیجے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بنگلا دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نئی دہلی کے حکم پر اپنی ٹیم کو پاکستان نہیں جانے دیں گی لیکن اُنہوں نے اپنی ٹیم کو تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان بھیج دیا۔

یہ بھی دیکھئے: پاکستان نے بنگلادیش کو دوسرے ٹی20 میں بھی ہرا دیا


پاکستان نے یہ سیریز جیت لی اور بنگلہ دیشیوں نے اہلِ پاکستان کے دل جیت لیے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں دوسرا ٹی ٹونٹی میچ ختم ہونے کے بعد جیو نیوز کے رپورٹر عدنان ملک تماشائیوں سے بات چیت کر رہے تھے تو ایک بچے نے بڑی معصومیت سے کہا کہ میں پاکستان کے جیتنے پر خوش ہوں لیکن اگر بنگلہ دیش کی ٹیم جیت جاتی تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ 

یہ بچہ اُن بزرگوں سے زیادہ دانشمند نظر آیا جو آج بھی بنگلہ دیش کا ذکر دشمنوں کے طور پر کرتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آج بھی ماضی میں زندہ ہیں اور نفرتوں کی آگ میں جلنے جلانے کو ہی قومی غیرت سمجھتے ہیں لیکن نئی نسل اِن نفرتوں کو محبتوں میں بدلنا چاہتی ہے۔ 

پاکستان میں کچھ لوگ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو دی جانیوالی سزائوں کی بہت مذمت کرتے ہیں لیکن کیا پاکستان نے کبھی ایسے حالات پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی کہ بنگلا دیش میں پاکستان کے حامیوں پر مقدمے چلانے کے بجائے پاکستان سے دوستی کی ضرورت پر غور کیا جائے؟

بنگلہ دیش کے لوگ اتنے ہی بُرے ہیں کہ اُن سے دوستی کی بات آپ کی غیرت کو گوارا نہیں تو پھر آپ بنگلہ دیشیوں کو بار بار پاکستان آ کر کرکٹ سیریز کھیلنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟ 

بنگلہ دیش کی حکومت کے لئے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ جس طرح پاکستان میں بنگالیوں سے نفرت کو کچھ اپنی قومی غیرت کے لئے بڑا ضروری سمجھتے ہیں اسی طرح بنگلا دیش میں بھی پاکستان سے نفرت کرنے والوں کمی نہیں۔ 

یہی وہ نفرتیں اور غلط فہمیاں تھیں جن کے بارے میں فیض احمد فیضؔ نے ڈھاکا سے واپسی پر کہا:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مدارتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

اچھا ہوا کہ 1971میں گرنے والے خون کے دھبوں کو دھونے کے لئے 25جنوری 2020کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کچھ پاکستانی نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں بنگلہ دیش کے پرچم اٹھا کر لہرائے اور یہ پیغام دیا کہ کرکٹ میچ میں پاکستان جیتے یابنگلہ دیش لیکن ہمارے لئے یہ جیت کسی ملک کی نہیں بلکہ دوستی اور امن کی جیت ہے۔ 

ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ پچھلے سال 2019میں مقبوضہ کشمیر جموں و کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک ناراض کشمیری نوجوان کے فدائی حملے میں بھارت کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے چالیس جوانوں کی ہلاکت کے بعد انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ نے پاکستان کرکٹ ٹیم پر پابندی لگوانے کی بھرپور کوشش کی۔ 

انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو ایک کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز چلاتی ہے جس کے سربراہ ونود رائے نے کھلم کھلا یہ اعلان کیا کہ جس طرح جنوبی افریقہ کی سابق نسل پرست حکومت کی پالیسیوں کیخلاف جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم پر 1970سے 1991تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد رہی اسی طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم پر پابندی لگوانے کیلئے کوشش کی جائے گی۔ 

بھارت میں اس مطالبے نے بھی زور پکڑا کہ 2019کے ورلڈ کپ میں بھارت کی ٹیم پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردے۔ بھارت کی حکومت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہ ششانک منوہر کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جو انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں لیکن ششانک منوہر اس معاملے سے دور رہے اور پاکستان پر پابندی کی سازش کا حصہ نہ بنے۔ 

2009میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہو چکی تھی۔ 2015میں بڑی مشکل سے زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کو ایک روزہ میچوں کی سیریز کیلئے لاہور آنے پر آمادہ کیا گیا۔ اسٹیڈیم میں تو امن رہا لیکن اسٹیڈیم کے قریب ایک خودکش حملہ ہوگیا۔ 

2018میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کراچی آئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ پھر 2019کے آخر میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئی۔

جس ٹیم پر 2009میں حملہ ہوا وہی ٹیم 2019میں پاکستان آئی اور یوں دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان واپسی ہوئی۔ 2020کے پہلے مہینے میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا بہت اہم ہے۔ 

25جنوری کو انگریزی اخبار ’’دی نیوز‘‘ میں مشرف زیدی نے اپنے کالم میں تجویز دی ہے کہ 1971کی تلخیوں کو فراموش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے بنگلا دیش کے عوام سے معافی مانگ لی جائے۔ ذرا سوچئے! کیا معافی مانگنے سے پاکستان کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟

 یہ معافی صرف بنگلہ دیش کے لوگوں کو نہیں بلکہ ان پاکستانیوں کو بھی مطمئن کریگی جو آج بھی 1971ءکے سانحے سے رنجیدہ ہیں۔ اس معافی سے اس سوچ کو شکست دی جا سکتی ہے جو وارکرائمز کے ٹربیونلز سے پھانسیوں کے فیصلے حاصل کرکے اپنے انتقام کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

میں جانتا ہوں بنگلا دیش سے معافی ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن قومیں مشکل فیصلے کرکے آگے بڑھتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بنگلہ دیش نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے اور مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا کھلے دل سے اور بلند آواز میں شکریہ ادا کرنا ہر سچے پاکستانی کا فرض ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید