آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کسی زمانے میں عروس البلاد کہلانے والا کراچی برسوں سے شدید کسمپرسی کا شکار ہونے کے باعث ہر پہلو سے رو بہ زوال ہے۔ خوبصورت ساحل رکھنے والے اس شہر کی آبادیاں ہی گندگی کا ڈھیر بنی ہوئی نہیں، سمندر بھی غلاظت سے لبریز ہو چکا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق چالیس کروڑ گیلن صنعتی فضلہ، سیوریج کا پانی اور دیگر اقسام کی غلاظتیں ہر روز سمندر میں شامل ہوکر سمندری حیات کو موت کا پیغام دینے کے علاوہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گندے پانی کی صفائی کے لیے بارہ سال پہلے شروع کیا گیا گریٹر سیوریج پلان آج تک مکمل نہیں ہو سکا اور ستم ظریفی یہ کہ کوئی بھی تاخیر کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اس موضوع پر گزشتہ روز جیو نیوز کے خصوصی پروگرام میں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا موقف تھا کہ ڈھائی سال تک منصوبہ وفاق کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا، پھر جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا اس کی طرف سے بھی تاخیر کی گئی۔ مشیر ماحولیات سندھ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ساحل وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے لیکن جب سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی وفاق کو خط لکھتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہم آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پرقائم کیے گئے واٹر کمیشن نے انڈسٹریل یونٹ کو کہا کہ اپنے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں اور

ساتھ ہی صوبائی حکومت بھی کمبائن واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے۔ مرتضیٰ وہاب نے بالکل درست کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ساتھ مل کر مسئلہ کا حل تلاش کریں گے تب ہی مثبت تبدیلیاں آسکتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ہو کیوں نہیں رہا اور کیا محض ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے سے کوئی نظام چل سکتا ہے؟ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کو سمندری آلودگی سمیت کراچی کے تمام مسائل کے حل کے لیے بلاتاخیر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی کیونکہ لیت و لعل کی یہ روش مزید جاری رکھی گئی تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا نہیں جا سکے گا۔

ادارتی صفحہ سے مزید