آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے حال ہی میں بریگزٹ کی دستاویز پر دستخط کردیئے جس کی رو سے برطانیہ 31جنوری کو یورپی یونین سے الگ ہوجائے گا۔ معاہدے کے مطابق آئندہ گیارہ ماہ یعنی 31دسمبر 2020تک کے دور کو عبوری دور کہا گیا ہے ،جس کے تحت دونوں فریق آپس میں مذاکرات کرکے معاہدوں پر غور کریں گے کہ آیا کس پر کتنا عمل درآمد ہوچکا، اثاثوں اور قرضہ جات یا واجبات کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔ گیارہ ماہ کے بعد برطانیہ کی یورپی یونین سے حتمی علیحدگی عمل میں آجائے گی، تاہم 31جنوری کے بعد برطانیہ الگ اکائی بن چکا ہوگا۔ اپنے فیصلے اور پالیسی سازی خود کرے گا۔ اگر 31دسمبر کے بعد بھی معاملات میں کچھ پیچیدگیاں عود کر آئیں تب عبوری دور میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے مابین ایک عرصے سے یہ مسئلہ زیربحث تھا کہ آیا برطانیہ کو یونین کا حصہ رہنا چاہئے یا اس سے الگ ہوجانا چاہئے۔ برطانیہ کے عوام میں بھی یہ موضوع زیربحث تھا۔ اس حوالے سے جون 2016 میں لیبر پارٹی کی حکومت نے ریفرنڈم کرایا تھا جس میں برطانوی عوام نے یورپی یونین کے حق میں فیصلہ صادر کیا تھا،تب سے یہ مہم مزید زور پکڑ گئی، بعدازاں کنزرویٹو پارٹی برسراقتدار آئی تو ان کو سادہ اکثریت حاصل تھی ۔ہائوس آف کامن میں انہیں بل پاس کرانے میں دشواریاں پیش آتی رہیں۔ 

تاہم وزیراعظم بورس جانسن نے فوری انتخابات کا ارادہ کرلیا جس پر ان کی قدامت پسند جماعت بھی حیران تھی ،مگر چند ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں بورس جانسن کو مزید نشستیں حاصل ہوگئیں اور اب یہ بل بھی منظور ہوکر اپنے اختتام کو پہنچا۔ جو لوگ یونین سے علیحدگی کے خواہاں تھے انہوں نے جشن منایا۔ معاہدہ پر دستخط کے بعد اس پر برسلز میں یونین کے صدر نے دستخط کردیئے۔ اب یہ معاہدہ رسمی طور پر ملکہ ایلزبتھ دوم کے پاس پیش کیا جائے گا اور ان کے دستخط کے بعد یہ معاملہ حتمی طور پر طے پاجائے گا اور اس پر 31جنوری کے بعد سے عمل شروع ہوجائے گا۔ یورپی یونین کے ہنگامی اجلاس میں اس بار صرف 27اراکین شریک ہوں گے کیونکہ ایک رکن اب الگ ہوچکا ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے۔برطانیہ اپنے دوستوں سے تعاون جاری رکھے گا ،مگر اپنے فیصلے خود کرے گا، انہوں نے برطانوی عوام سے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں اپنی مزید ترقی اور معرکوں کو سر کرنے کے لئے جدوجہد ضروری ہے۔ یورپی یونین صدر چارلس مچل نے برسلز میں معاہدہ پر دستخط کے بعد ٹوئٹر پر بیان دیا کہ، تبدیلیاں ناگزیر ہوتی ہیں، مگر ہمارے مابین جو دوستی کے رشتے ہیں وہ استوار رہیں گے برطانوی عوام نے ایک نیا باب کھولا ہے جس کے تحت ہم اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ دیگر عالمی معاملات کو بھی فروغ دیں گے۔

بریگزٹ کی اصطلاح برطانیہ کی یورپی یونین کے بنیاد 1993 میں رکھی گئی تھی، جس کا مقصد یورپی ممالک میں رابطے، دوطرفہ تعاون اور تجارت کو فروغ دینا ہے۔ یورپ نے دو عالمی جنگوں کی تباہی، بربادی دیکھی ہے، جب یورپ لسانی، نسلی اور مفادات کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا،پھر اس دور کی دو سپرپاورز امریکا اور سوویت یونین کی سردجنگ میں بھی یورپ اہم فریق بنا رہا تھا۔ 

ایسے میں یہ سوچ ابھری کہ یورپ کو اپنی سلامتی، جمہوریت کی بقا اور مفادات کی تکمیل کے لئے ایک براعظم آواز بن جائے، تب یورپی یونین کی تشکیل عمل میں آئی اور یونین کے اٹھائیس ممبر ملک آپس میں جڑ گئے۔ یونین کا صدر مقام بلجیم کے شہر برسلز میں قائم ہے۔ یونین کے موجودہ صدر چارلس مچل ہیں جو کونسل کے صدر ہیں۔ برطانیہ اپر ہائوس جو ہائوس آف لارڈز بھی کہلاتا ہے اس نے یونین سے علیحدگی کے بل، بعض ترامیم کی تجاویز ہائوس کامن کو ارسال کیں مگر وزیراعظم نے ان تجاویز کو مسترد کردیا۔

عام خیال یہ ہے کہ قدامت پسند پارٹی کی حالیہ فتح سے برطانیہ کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ پبلک میوچل فنڈ میں لگ بھگ دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے امید کی جاری ہےکہ برطانیہ کی معیشت بحال ہوگی،سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ برطانیہ مزید بڑے تجارتی معاہدے کرسکےگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ یونین سے علیحدگی کے بعد امریکا اور برطانیہ بڑے تجارتی معاہدے کریں گے۔ امریکابڑی ٹریڈ ڈیل کرے گا۔ اس ضمن میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے رہنمائوں کی خواہش ہے کہ امریکا پہلے ان سے نئے تجارتی معاہدے طے کرے۔

جرمن کی چانسلر انجیلا مرکل اور بڑے سرمایہ کاروں کو قدرے ملال ہے کہ برطانیہ نے یونین سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ اس سے جرمنی پر زیادہ بوجھ پڑجائے گا۔ فرانس کے صدر میخواں نے یورپی یونین کے رہنمائوں کو تجویز دی ہے کہ وہ برطانیہ سے اس کی سمندری حدود میں دیگر ممالک کے ماہی گیروں کو ماہی گیری کرنے کا پچیس سالہ معاہدہ طے کرے،تاکہ یورپی ممالک کے ماہی گیر برطانوی سمندری حدود میں مچھلیاں پکڑ سکیں،جب کہ حالیہ برطانوی انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کے وزیراعظم بورس جانسن کا برطانوی ماہی گیروں سے وعدہ تھا کہ اب دیگر یورپی ممالک برطانوی سمندر میں ماہی گیری نہیں کرسکیں گے،جس پر انہیں ووٹ ملے تھے۔ 

کہا جاتا ہے کہ برطانیہ جو ایک جزیرہ ہے اس کے اطراف کے سمندر میں بے تحاشہ مچھلیاں ہیں جو تمام برطانیہ کے ساحلی علاقوں کے ماہی گیروں کےروزگار کا ذریعہ ہے، مگر یورپی یونین کی تشکیل کے بعد برطانیہ کے ماہی گیر مشکلات کا شکار ہوتے چلے گے۔ سمندر سے اٹھائیس ممالک کے ماہی گیر سیکڑوں ٹن مچھلیاں پکڑ کرلے جاتے تھے۔ اب برطانوی ماہی گیروں نے سکھ کا سانس لیا ہے کہ ان کا روزگار انہیں حاصل ہوجائے گا۔

اس صورت حال میں یورپی یونین کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ عبوری دور کے ختم ہونے کے بعد جب برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدے طے کرے گا تب یہ مطالبہ اس کے سامنے رکھا جائے گا کہ برطانوی سمندری حدود میں یورپی یونین کے ماہی گیروں نے سکھ کا سانس لیا ہے کہ ان کا روزگار انہیں حاصل ہوجائے گا۔

اس صورت تحال میں یورپی یونین کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ عبوری دور کے ختم ہونے کے بعد جب برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ نئے معاہدے طے کرے گا تب یہ مطالبہ اس کے سامنے رکھا جائے گا کہ برطانوی سمندری حدود میں یورپی یونین کے ماہی گیروں کو بھی ماہی گیری کی سہولت فراہم کی جائے۔ فرانس کے صدر اور دیگر رہنما عبوری دور کے ختم ہونے کا انتظار کریں گے اور اس مطالبہ کو آئندہ سال دہرائیں گے، کیونکہ برطانیہ کے سمندر میں ہمیشہ ہمہ اقسام کی مچھلیوں کی بہتات رہی ہے۔

برطانیہ میں یورپی یونین سے الگ ہونے کی مخالفت میں آواز اٹھانے والے دلائل دیتے ہیں کہ اس مسئلے پر ریفرنڈم کرانے اور بحث و مباحث کا موضوع بناکر برطانوی رہنمائوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ شرح نمو جو ریفرنڈم سے پہلے 2.7تھی وہ کم ہوکر 1.5پر آگئی ہے۔ یورپی سرمایہ کار آہستہ آہستہ اپنا سرمایہ یہاں سے باہر منتقل کررہے ہیں۔ برطانوی شہری جو یورپی ممالک میں ملازمتیں کررہے تھے ان کی ملازمتوں کو خطرہ ہے۔ اس پر عمل ہوا تو ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

جو رہنما یورپی یونین سے تعلق رکھتے ہیں انہیں یہ خدشات ہیں کہ برطانیہ جو یونین کا سب سے اہم رکن ملک تھا یونین سے الگ ہوکر امریکا کے قریب ہوجائے گا۔ برطانیہ کے یونین سے الگ ہونے پر یورو کی قیمت 1.11کم ہوئی ہے جبکہ پونڈ کو بھی دھچکا پہنچے گا اور اس کی قیمت 1.36کم ہوجائے گی ،البتہ ڈالر کو فائدہ ہوگا۔ یورپی یونین کو اس مسئلے کی وجہ سے مزید نقصانات بھی برداشت کرنے پڑیں گے۔

اس تمام تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں فریقین کو بیشتر معاملات میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو مشترکہ مفادات سہولتوں اور تعاون کے زمرے میں آتے ہیں۔مثلاً ویزا سسٹم، ہوائی، بحری اور بری سفر، عالمی معاہدوں میں شرکت۔ اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، دفاعی مشقیں، یورپی ممالک کے اندرونی مسائل اور ان کے اثرات، دوطرفہ ملازمین کے مفادات، نیٹو معاہدہ اور اب نئے معاملات کا سوال، برطانیہ کے اپنے تجارتی معاہدوں اور دیگر عالمی معاہدوں کا براعظم یورپ پر کیا اثرات ہوں گے، ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ کہ کیا اب پھر یورپ مراجعت کے سفر پر گامزن ہوگا؟

عالمی منظر نامہ سے مزید