آپ آف لائن ہیں
بدھ4؍ شوال المکرم 1441ھ 27؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دہشت گرد تنظیم کا حصہ و مالی معاونت اور غیرقانونی جائیداد کے2 مقدمات، انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو 11 سال قید کی سزا سنادی

انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو 11 سال قید کی سزا سنادی


لاہور(نمائندہ جنگ، جنگ نیوز، ایجنسیاں، مانیٹرنگ سیل )امیر کالعدم جماعت الدعوۃ حافظ محمد سعید کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہونے، غیر قانونی جائیداد رکھنے اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنادی۔

سزا انسداد دہشت گردی کی دفعہ11 ایف ٹو اور 11 این کے تحت سنا ئی گئی ،ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاسکے گی،ساتھی ظفر اقبال کو بھی 11 سال قید وجرمانہ کیا گیا ہے،دونوں سزائیں ایک ساتھ ہوں گی،لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کے خلاف 2 کیسوں میں محفوظ فیصلہ سنایا۔ 

حافظ سعید اور دیگر کے خلاف مقدمہ نمبر 30 اور 32 میں ٹرائل مکمل کیا گیا اور عدالت میں دونوں کیسوں میں امیر کالعدم جماعۃ الدعوۃ حافظ سعید کے خلاف 23 گواہوں نے بیانات قلمبند کرائے۔ 

عدالت نے حافظ سعید سمیت 2 ملزمان کو دہشتگرد تنظیم کا حصہ ہونے اور غیر قانونی جائیداد رکھنے کے مقدمات میں فی کس 5 سال 6 ماہ کی سزا سنائی جو کہ مجموعی طور پر 11 سال بنتی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمان پر 15 ہزار روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا۔ حافظ سعید کے وکیل عمران گِل نے بتایا کہ حافظ سعید کو کالعدم دہشتگرد تنظیم کا حصہ ہونے اور غیر قانونی جائیداد رکھنے پر مجرم ٹھہرایا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حافظ سعید کی دونوں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔

 جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کے وکیل محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ایف اے ٹی ایف کے دبائو کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید اور پروفیسر ظفر اقبال کے خلاف اگرچہ کالعدم تنظیم سے تعلق اور پراپرٹیز رکھنے کے جرم میں11 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے لیکن عدالت نے واضح طور پر یہ بھی قرار دیا ہے کہ حافظ محمد سعید و دیگر کے خلاف کسی قسم کی دہشت گردی کی معاونت اور غیرقانونی فنڈنگ کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ 

محمد عمران گل ایڈووکیٹ نے کہا کہ پراسیکیوشن کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے دوران جتنے بھی گواہ پیش کئے گئے وہ حافظ محمد سعید اور پروفیسر ظفر اقبال کے خلاف کسی طرح کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جلد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ الیون ایف ٹو اور 11 این کے تحت سزا سنائی۔

 قانونی ماہرین کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ الیون ایف ٹو کالعدم تنظیم سے تعلق کے بارے میں ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حکم دیا کہ دونوں سزاؤں پر عمل درآمد ایک ساتھ شروع ہو گا۔ 

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف قانونی داد رسی کے لئے ملزمان کے پاس اپیل کا حق ہے اور یہ اپیل متعلقہ ہائیکورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے جس کی ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل دو رکنی بنچ سماعت کرے گا۔ 

حافظ محمد سعید اور ظفر اقبال اس وقت گرفتار ہیں اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اور انھیں فیصلے کے وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش بھی کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید اور ان کی کالعدم تنظیم کے پروفیسر عبدالرحمن مکی سمیت 5اہم رہنماؤں کے خلاف مزید 4مقدمات پر بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔ 

حافظ سعید سمیت ان کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں پر غیرقانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید