آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہزاد رائے کی درخواست پر تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم

شہزاد رائے کی درخواست پر تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم


اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے معروف گلوکار اور زندگی ٹرسٹ کے صدر شہزاد رائے کی درخواست پر وفاق کے تمام تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور وزارت داخلہ بچوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آئین بچوں کو عزت نفس اور وقار دیتا ہے ، سکولوں میں داخل بچوں کی تضحیک اور تذلیل نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے ، سکولوں کے بچوں کی تضحیک اور تذلیل آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے حکومت سمیت تمام فریقین سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت انسانی حقوق اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔ فاضل عدالت نے وزارت داخلہ کو وفاقی دارالحکومت میں قائم سکولوں میں بچوں پر تشدد کے حوالے سے شکایات وصولی اور ازالے کا انتظام کرنے اور حکومت کو پیرا کو نجی سکولوں کو گائیڈ لائنز جاری کرنے کی ہدایت کرنے کا حکم بھی سنایا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت انسانی حقوق سے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کنونشن پر حکومتی ذمہ داریوں اور عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ شہزاد رائے کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر ان کے وکیل شہاب الدین اوستو عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ پینل کوڈ کی دفعہ 89 میں بچوں پر تشدد کی گنجائش بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، سکولوں میں بچوں کو بری طرح مارا پیٹا جاتا ہے اور بعض کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، قومی اسمبلی نے بچوں پرتشدد کے خلاف ایک بل کی منظوری بھی دے رکھی ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جب تک قانون سازی ہو نہیں جاتی تشدد کو تو روکا جائے ۔فاضل عدالت نے سماعت 5 مارچ تک ملتوی کر دی۔سماعت کے بعد گلوکار شہزاد رائے نے اسلام آباد ہائی کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے دفتر کا دورہ بھی کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر عامر عباسی نے دیگر ممبران کے ہمراہ شہزاد رائے کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر شہزاد رائے نے صحافیوں کو بچوں پر تشدد کے خلاف مہم سے تفصیلی آگاہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے شہزاد رائے کی عوامی مفاد کے لئے کاوشوں کو سراہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ بچے پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں تو والدین پٹائی کرتے ہیں ، سکول جاتے ہیں تو استاد اچھے انسان بنانے کے لئے پٹائی کرتے ہیں جبکہ معاشرے میں ایس ایچ او بھی مارتا ہے۔تحقیق کے مطابق تشدد سے صرف تشدد ہی بڑھتا ہے اور جب بچے پر تشدد ہوتا ہے تو دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو جنسی زیادتی سے ہوتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید