آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برطانیہ میں بے گھر افراد کے لئے انوکھے گھر

لندن (جنگ نیوز) برطانوی ارب پتی نے بے گھر افراد کے سونے کیلئے انوکھے گھر ایجاد کر لیے۔ بریگزٹ پارٹی کے سیاسی رہنما ارب پتی پیٹر ڈاوی نے سڑکوں پر سونے والے بے گھر افراد کیلئے کوڑے دانوں سے بستر نما گھر تیار کیے ہیں ۔ پیٹر نے اپنی انوکھی ایجاد کی ویڈیو شئیر کی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس ’سلیپنگ پاڈ‘ کا آئیڈیا پلاسٹک کے کچرے کے ڈبے سے اپنی پہلی گاڑی بنانے کے بعد ملا۔انہوں نے بتایا کہ گاڑی بناتے وقت جب انہوں نے اس ڈبے کے اندر بیٹھ کر دیکھا تو وہ حیران ہو گئے کیونکہ وہ کافی آرام دہ تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ یقیناً بستر تو نہیں ہے لیکن بے گھر افراد کیلئے سڑکوں پر سونے سے تو کہیں بہتر جگہ ہے۔ پیٹر نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ میں نے لوگوں کو سڑکوں پر سوتے ہوئے دیکھا ہے جنہوں نے شکایت کی کہ انہیں کس طرح وہاں سے بھگادیا یا ہٹادیا جاتا ہے۔ اس صورت حال کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ان بے گھر افراد کیلئے سلیپنگ پاڈ میں سونا سڑکوں پر سونے سے کہیں بہتر ہے۔ وہ سڑکوں پر یا کھردرے فرش یا گیلے بستر پر سوتے ہیں جو تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بے گھر افراد کے مسائل کو حل تو نہیں کر پا رہا بس انہیں تھوڑی سی سہولت دینے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے بس میں ہے ۔ یہ منفرد سلیپنگ پاڈ دو

پلاسٹک کے کوڑے دانوں کو ملا کر بنایا گیا ہے جس میں ایک آدمی کے آرام سے لیٹنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جب پیٹر سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے خود اس میں لیٹ کر دیکھا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہاں میں اس میں ایک بار 10 منٹ کیلئے لیٹ چکا ہوں اور اس میں لیٹنا مجھے بہت اچھا لگا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ میرا یہ آئیڈیا سب کو پسند بھی آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اس ’سلیپنگ پاڈ‘ کا ڈیزائن کافی مختلف ہے ۔ کچھ لوگوں نے شاہکار قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے۔ اس انوکھی ایجاد سلیپنگ پاڈ کی وجہ سے پیٹر کو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں بے گھر افراد کے سڑکوں پر سونے کا مسئلہ سنگین ہے اور اور اس کا یہ حل کافی نامناسب ہے۔تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف میتھیو ٹیلر کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے یہ سب سے برا حل ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ گھٹیا ایجاد نہیں دیکھی۔ میرے خیال سے تو آپ اتنے پیسوں میں سستے ٹینٹ خرید کر بے گھر افراد کے سونے کا انتظام کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ بے گھر لوگوں کے لیے جہاز رانی میں استعمال ہونے والے کنٹیرز کو گھروں میں تبدیل کرنا تو سمجھ آتا ہے تاہم یہ تو کوئی بہت ہی آگے کی چیز لگتی ہے۔

یورپ سے سے مزید