آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بیڈروم سونے اور آرام کرنے کی جگہ ہے، جہاں دن بھر کی مصروفیت کے بعد آپ تھکاوٹ اُتارنے کے لیے وقت گزارتے ہیں۔ گھر کا یہ حصہ جتنا پُرسکون اور منظم ہوگا، آپ ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو اتنا ہی مطمئن محسوس کریں گے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خواب گاہ کچھ گھٹن زدہ، چھوٹی اور بے ترتیب ہے؟ کمرے میں سامان کی زیادتی ہو یا جابجا چیزیں بکھری ہوں تو ذہن بھی الجھن کا شکار رہتا ہے۔ 

اگر آپ کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے اور آپ اپنے بیڈروم کو مناسب طریقے سے منظم نہیں کرپا رہے تو ڈی کلٹرنگ کے ذریعے بے ترتیب ا ور غیر ضروری اشیا کو کمرے سے نکالیں۔ ایسا کرنے سے آپ کا بیڈروم پہلے کی نسبت زیادہ کشادہ محسوس ہوگا۔ بیڈروم کو ترتیب (ڈی کلٹر) میں کرنے کے لیے آپ کو ذیل میں درج طریقوں پر عمل کرنا ہوگا۔

ہفتے میں صفائی کے لیے 30منٹ دیں

اگر آپ بیڈروم کو منظم کرنے کے لیے روزانہ وقت نہیں دے پارہے تو ہر ہفتے چھٹی والے دن صرف 30منٹ اس کام کے لیے مختص کریں۔ بیڈروم ڈی کلٹر کرنے کے لیے آپ کو ری سائیکل بن، ردی کی ٹوکری اور چند کچرے کی تھیلیوں کی ضرورت ہوگی۔ سب سے پہلے کمرے کا تمام غیر ضروری اور ٹوٹا پھوٹا سامان الگ کرلیں مثلاً نائٹ ٹیبل پر موجود تمام اشیا کا جائزہ لیں اور جو چیزیں آپ کو غیر ضروری یا اضافی معلوم ہوں انھیں بیڈروم سے نکال دیجیے۔ اس کے بعد ان تمام چیزوں پر غور کریں جو اپنی جگہ پر موجود نہیں ہیں۔ ان چیزوں کوبیڈروم میں ترتیب سے رکھنا شروع کریں اور تمام گندے کپڑوں کو کسی باسکٹ میں ڈالیں جبکہ دھلے ہوئے کپڑوں کو سلیقے سے الماری میں رکھیں۔

بیڈ سے آغاز کریں

ڈی کلٹرنگ ماہر سیلےوالفورٹ کے مطابق بیڈ روم کو منظم کرنے کا آغاز بیڈ سے کرنا چاہیے، کیونکہ عام طور پر بیڈ کمرے میں سب سے زیادہ جگہ گھیرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرش پر موجود سامان یا کمرے کی آرائشی اشیا کو ترتیب دینے سے پہلے بیڈ کو منظم اور ڈی کلٹر کرنا زیادہ ضروری ہے۔سامان کی درجہ وار ترتیب آپ کو ڈی کلٹرنگ کے مختلف طریقے فراہم کرے گی۔

ضروری اشیا رکھیں

ڈی کلٹرنگ ماہر کورٹنی کے مطابق بیڈروم کو پُرسکون، متاثر کن اور کشادہ رکھنے کے لیے اس میں صرف وہ سامان رکھیں جو بے حد ضروری ہو۔ اس حوالے سے پہلے غور کریں کہ وہ کون سی اشیا ہیں جو بیڈروم میں آپ کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ رواں برس منیملسٹ بیڈروم ڈیزائن کو بطور ٹرینڈ متعارف کروایا گیا ہے یعنی ایک ایسی خواب گاہ جو چھوٹی ہونے کے باوجود سجاوٹی ٹرینڈز کے مطابق کشادہ محسوس ہو۔ 

اس مقصد کے لیے فرنیچر میں صرف بیڈ، کافی ٹیبل اور الماری وغیرہ جبکہ بیڈروم کی سجاوٹ کے لیے ہلکے کپڑے والے پردے استعمال کریں۔ اس کے علاوہ تصویروں کے لیے بڑے بڑے فریمز کے بجائے سادہ یا بغیر فریم والی تصویریں لگائیں۔

مرحلہ وار کام کریں

ڈی کلٹرنگ ایکسپرٹ وکی سلورتھورن کے مطابق، بیڈروم منظم کرنے کے لیے تمام تر کام ایک ہی وقت میں سرانجام دیتے ہوئے خود کو ہلکان مت کریں کیونکہ اس طرح آپ مناسب انداز میں غیر ضروری سامان کو بیڈروم سے علیحدہ نہیںکرپائیں گے۔ 

اس کے لیے آپ کو توقع سے کہیں زیادہ وقت درکار ہوسکتا ہے۔ ہمیشہ چھوٹے چھوٹے حصوں سے آغاز کریں اور تمام توجہ ایک جانب مبذول کرتے ہوئے کام مکمل کریں۔ پھر دوسرے دن کسی اور حصے کو منتخب کرتے ہوئے اس پر کام کریں، اس طرح آپ تھکیں گے بھی نہیں اور کام بھی بہتر انداز میں مکمل کرپائیں گے۔

اسکرین ہٹائیں

ڈی کلٹرنگ کرتے ہوئے بیڈروم سے جن چیزوں کو ہٹانا سب سے ضروری ہے ان میں اسکرین سرفہرست ہے مثلاًٹیلی ویژن ،لیپ ٹاپ،ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون وغیرہ۔ یہ تمام ڈیوائسز نیلے رنگ کی روشنی خارج کرتی ہیں اور صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے پُرسکون نیند کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ کورٹنی کے مطابق ان ڈیوائسز کو بیڈروم سے نکال کر ایک صحتمند زندگی اور پرسکون نیند حاصل کی جاسکتی ہے ۔

الماری کو منظم کرنا

غیر منظم اور بے ترتیب الماری کسی بھی خوابگاہ کا حسن بگاڑنے میں بنیادی کردار اداکرتی ہے۔ عموماً اکثر گھروں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ الماری کے کھلتے ہی کپڑے گر پڑتےہیں ۔ کپڑوں کی بے ترتیبی کی وجہ سے مطلوبہ لباس ڈھونڈنے میں بھی کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا بیڈروم کو منظم کرنے کے دوران الماری میں موجود کپڑوں کی چھانٹی کرنے پر بھی خاص توجہ دیں۔ 

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل مشورے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ ٭ کپڑوں کی درجہ بندی سے آغاز کیجیے مثلاًتما م ٹاپس اور پینٹس علیحدہ علیحدہ کیجیے اور رنگوں کے پیش نظر ان کی گروپ بندی کیجیے۔٭ وہ کپڑے جنھیں جلد پہننا ہو انھیں اوپر رکھیں اور باقی کو اپنے موڈ کے حساب سے نیچے رکھتے جائیں۔٭ وہ کپڑے جو کسی بھی وجہ سے آپ پہننا پسند نہیں کرتے، انہیں کسی ضرورت مند دوست، رشتے دار یا غریب کو دے دیں۔ الماری میں صرف ضروری سامان رکھیں جسے استعمال کرنے کا آپ ارادہ رکھتے ہوں۔

گھر پیارا گھر سے مزید