آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پوائنٹس بیسڈ امیگریشن سسٹم سے یورپی یونین ملکوں سے لو سکلڈ ورکرز کی تعداد کم ہوجائے گی

لندن (پی اے) نئے پوائنٹس بیسڈ امیگریشن سسٹم کے نتیجے میں یورپی یونین کے رکن ملکوں سے لو سکلڈ مائیگرینٹ ورکرز کی تعداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ کمی 90000 سالانہ ہوگی۔ توقع ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نئی کابینہ کے پہلے اجلاس میں یورپی یونین سے فری موومنٹ کے متبادل نئے انتظام کو منظور کرانے کیلئے استعمال کریں گے۔ موجودہ قانون سازی کے تحت یورپی یونین اور یورپین اکنامک ایریا کے ملکوں سے لوگ کسی بھی ویزے کے بغیر برطانیہ آ کر کام اور قیام کر سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن اور ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں اس نئے سسٹم کو کس طرح پیش کیا جائے اور اس سسٹم کے آپریٹ ہونے سے لو سکلڈ مائیگرنٹس کا راستہ بند ہو جائے گا۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سٹاف کی کمی کے شکار پیشوں میں افرادی قوت کو پورا کرنے کیلئے شارٹ ٹرم ویزے جاری کرنے پر غور کیا جائے گا۔ برطانیہ آ کر کام کرنے کے خواہاں سکلڈ ورکرز کیلئے زیادہ تر کیسز میں ضروری ہوگا کہ انہیں

25600 پونڈ سے زیادہ اجرت کی جاب آفر ہو۔ ان کے ویزے میں اس کے پوائنٹس بھی ملیں گے کہ وہ کیسی انگریزی بولتے ہیں اور ان کی تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ اس موو سے یورپی یونین کے رکن ملکوں سے لو سکلڈ مائیگرنٹس کی تعداد میں سالانہ خاصی کمی آئے گی۔ جو 90000 سالانہ ہو سکتی ہے۔ ہوم آفس کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ اس طریقے سے طویل مدتی بنیاد پر برطانیہ آنے والے یورپی یونین کے شہریوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی واقع ہوگی۔ نیا پوائنٹس بیسڈ سسٹم اگلے سال یکم جنوری سے متعارف کروایا جائے گا اور اس کا اطلاق ان تارکین وطن پر ہوگا جو یورپی یونین سے یا دنیا میں کہیں بھی برطانیہ منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ بورس جانسن نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ 31 دسمبر کو جب یورپی یونین سے فری موومنٹ کے قواعد ختم ہوں گے تو آسٹریلوی سٹائل نئی امیگریشن اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ جنوری میں ایک یونین نے متنبہ کیا تھا کہ امیگریشن سسٹم کی بحالی کے چکر میں بیرون ملک سے عملے کی خدمات حاصل کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے سوشل کیئر کیلئے بہت بڑی مشکلات پیدا ہوں گی۔ یونیسن کی اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری کرسٹینا میکینا نے کہا کہ برطانیہ کا امیگریشن سسٹم سوشل کیئر کیلئے کار گر ہے لیکن تازہ ترین سفارشات کسی ایک سوشل کیئر ورکر کو برطانیہ آنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

یورپ سے سے مزید