آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاک ترک تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، کشمیر اور FATF پر پاکستان کیساتھ ہیں، صدر اردوان

پاک ترک تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق


اسلام آباد(ایجنسیاں)پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت، سیاحت، دفاع اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے تعاون، معاہدوں، پروٹوکول اور مفاہمت کی یادداشتوں کی 13 دستاویزات پر دستخط کئے گئے ہیں جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم 5ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ، پاکستان کی خوشی ہماری خوشی ہے‘کشمیراور ایف اے ٹی ایف پر پاکستان کے ساتھ ہیں ‘پاکستان کے قانون ساز ادارے مجلس عاملہ، عدالتوں اور فوجی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے ماحول میں جاری جدوجہد کا ثمر عنقریب ملنا شروع ہو جائے گا۔ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے‘مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ‘ پاکستان کے ساتھ ازل سے جاری ہمارے برادرانہ تعلقات تا ابد قائم رہیں گے‘سرحدیں اور فاصلے مسلمانوں کے دلوں کے درمیان دیوار نہیں بن سکتے ، دنیا بھر کے مسلم بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف ان کا ساتھ دینا ہم سب کا فرض ہے، ہمارا ایمان ہے کہ ظلم کا مقابلہ نہ کرنا ظلم کرنے کے مترادف ہے، مسلم امہ دہشت گردی، جنگوں، مذہب پرستی، مفلسی اور غربت کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، پاکستان ترقی و خوشحالی کے سفر کی جانب رواں دواں ہے، اقتصادی ترقی کا عمل دنوں میں نہیں آتا‘افغان امن عمل میں پاکستان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس‘پاک ترک بزنس فورم اور عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی و کامرانی کو اپنی کامیابی و کامرانی کے طور پر دیکھتے ہیں‘پاکستانی حکام نے دہشت گرد تنظیم فیتو سے منسلک اسکولوں کو ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کرکےحقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔پاکستان نے ترکی کی حق بجانب جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔ہم پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں پاکستان پر ڈالے جانے والے سیاسی دباؤ کے باوجود ہم پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے کا آپ کو پختہ یقین دلاتے ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ پاکستان کے قانون ساز ادارے مجلس عاملہ، عدالتوں اور فوجی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے ماحول میں جاری جدوجہد کا ثمر عنقریب ملنا شروع ہو جائے گا۔ کشمیری بھائیوں کو سالہا سال سے درپیش مشکلات میں حالیہ ایام میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی اور حاصل شدہ حقوق کو چھیننے پر مبنی پالیسیاں کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوں گی۔

دریں اثناءعمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان کا کہناتھاکہ ترکی پاکستان کے ساتھ کل کی طرح آج بھی کھڑا ہے ۔ہم برادر ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں، ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ہمیں یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی خراب ہونے والی صورتحال پر انتہائی تشویش ہے، ہم مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری بھائیوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں پاک ترک بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدرنے کہاکہ ترکی کو بھی مشکل حالات کا سامنا رہا ہے، عزم و ہمت کے ساتھ ہم نے اپنی مشکلات پر قابو پایا‘ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم حقیقی صلاحیت سے کم ہے، پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر اور پھر بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے جہاں آ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے‘ہمیں اپنے تجارتی تعلقات کو اس سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ ترکی کی کمپنیاں دفاع، صحت اور دیگر شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔طیب اردوان نے کہا کہ ترکی کا قرضہ 72 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد تک لائے ہیں، عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا ہے۔ہم نے ترکی میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اسپتال بنائے ہیں ‘ پاکستانی عوام بھی علاج کیلئے ترکی آ سکتے ہیں۔پاکستان اور ترکی کو مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی کمپنیاں بھی مختلف شعبوں میں ترکی میں سرمایہ کاری کریں۔

اہم خبریں سے مزید