آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برلن: گائے چازن

برسلز مائیکل پیل

فوجی اتحاد کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے تناؤ کو اجاگر کرتی ہوئی نئی تحقیق کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکا اور یورپی یونین کے سرکردہ ممالک میں نیٹو پر عوامی اعتماد میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق 2017 ءاور 2019 ءکے درمیان امریکا،فرانس اور جرمنی میں نیٹو کیلئے اچھی رائے رکھنے والے افراد کا تناسب کم از کم 10 فیصد گرگیا۔

اس رائے شماری کے نتائج رواں ہفتے ہونے والی عالمی رہنماؤں،فوجی سربراہان،سفارت کاروں اور جاسوسوں کے سالانہ تین روزہ اجتماع میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے پہلے جاری کردیئے گئے کہ حالیہ برسوں میں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات نے نیٹوکی حیثیت کوماند کردیا ہے۔

سوویت یونین کے خلاف اجتماعی دفاع کی فراہمی کے لئے 1949 میں قائم کیے گئے ادارے نیٹو نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اپنے آپ کو روسی اثر و رسوخ کے خلاف ایک دفاعی مورچے کی حیثیت سے بحال کیا جبکہ عراق اور افغانستان جیسے دہشتگردی سے لڑنے والے ممالک کو تربیت اور مشورے دیے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’سب سے پہلے امریکا‘کیلئےتنہائی پسندی اور کثیر الجہتی ادارے پرعدم اعتماد نے تنظیم پر عوام کےاعتمادپر ضرب لگائی۔امریکی صدر نے اپنی صدارتی مہم کے دوران اسے متروک قرار دیا اور 2024 ءتک دفاع پر جی ڈی پی کا2 فیصد خرچ کرنے کے وعدوں پر زیادہ تیزی سے آگے بڑھنے میں ناکام رہنے پر یورپی ممالک کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اپنی تنہا کارروائی کی حکمت عملی کے ذریعے اتحادیوں کو بھی مشتعل کیا،جو گزشتہ سال امریکی فوجوں کو شمالی شام سے باہر نکالتے وقت پوری طرح نظر آرہا تھا اور گزشتہ ماہ امریکی ڈرون کے ذریعے ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیاتھا۔

گزشتہ سال شمالی شام میں شروع کی جانے والی یکطرفہ فوجی کارروائی سے بھی ترکی نے اتحاد میں کشیدگی پیدا کردی۔جزوی طور پر ترکی کے اس اقدام کے جواب میں ایمانوئیل میکرون نے نیٹو کو دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔

فرانسیسی صدر نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اس اتحاد کو روس مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔اس رائے نے پولینڈ اور بالٹک ریاستوں میں غم و غصہ کو جنم دیا۔

پیو کی اسٹڈی سے پتا چلا ہے کہ 16 ممالک میں کیے گئے 16 رکن ممالک میں 53 فیصد نیٹو کے حامی تھے، جبکہ محض 27 فیصد نے منفی خیالات کا اظہار کیا۔

تاہم 2017 سے 2019 کے دوران اتحاد کے بارے مثبت نظریہ رکھنے والوں کے تناسب میں امریکا میں 62 سے 52 فیصد،فرانس میں 60 سے 49 فیصد اور جرمنی میں 67 سے 57 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی عہدے سنبھالنے کے بعد فروری اور اپریل 2017ء کے درمیان، امریکا میں اعدادوشمار کے لئے فیلڈ کا کام انجام دیا گیا۔

برطانیہ میں جہاں بریگزٹ کے نتیجے میں نیٹو نے اور بھی اہمیت اختیار کرلی ہے، اس کے برعکس رجحان کام کررہا تھا،نیٹو کے موافق نظریات 62 سے بڑھ کر 65 فیصد تک اضافہ ہوا۔پیو سروے میں نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کے حوالے سے یورپ میں بہت سے لوگوں میں پائے جانے والے ابہام پر بھی روشنی ڈالی گئی ،جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایک رکن ریاست کے خلاف حملہ تمام رکن ممالک کے خلاف تصور کیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا ملک روس سے ہونے والے کسی ممکنہ حملے کے خلاف ساتھی نیٹو اتحادی کا دفاع کرے گا تو نیٹو کے 16 رکن ممالک میں اوسطاََ 50 فیصد نے کہا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ صرف 38 فیصد نے کہا کہ ایسا ہونا چاہیے۔

یہ ہچکچاہٹ خاص طور پر اٹلی میں نمایاں نظر آئی، جہاں 66 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ اٹلی کو روس کے ساتھ سنگین فوجی تصادم میں ملوث ملک کے دفاع کے لئے فوجی طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

سروے میں شامل 16 رکن ممالک میں سے صرف پانچ ہالینڈ، امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور لیتھوانیا میں نصف سے زائد نے کہا کہ ان کے ممالک کو نیٹو کے کسی رکن پر روسی حملے کی صورت میں طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید