آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وائرسز کی کئی اقسام ہیں،جن میں سے بعض انسانی جان کے لیے خطرناک نہیں، مثلاً Rhino virus،لیکن کچھ مہلک ثابت ہوتی ہیں اورناول کورونا وائرس کا شمار بھی ان ہی میں کیاگیاہے۔ کورونا وائرس کو’’ کورونا‘‘کیوں کہا جاتا ہے؟ دراصل یہ مصری زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب سَر کا تاج یا ہالہ ہے۔ 

اصل میں مائکرو اسکوپ کے ذریعے جب اس وائرس کا مشاہدہ کیا گیا، تو اس کی اوپری سطح تاج کی مانند نوک دار دکھائی دی، اسی لیے اسے ’’کورونا‘‘ کا نام دیا گیا۔کورونا وائرس پہلی بار 1960ءمیںدریافت ہوا اور مختلف تحقیقات کے بعد اس بات کی تصدیق کردی گئی کہ یہ وائرس پرندوں اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کر بخار، نظامِ تنفس کے امراض اور پھیپھڑوں میں وَرم کا باعث بنتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی سے لےکر تاحال اس کی کئی اقسام دریافت ہوچُکی ہیں۔ 

تاہم، ان میں سے7ایسی ہیں، جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی کئی اقسام بےضرر ہیں، جو صرف نزلے اور گلے میں انفیکشن جیسی علامات ظاہر کرتی ہیں، لیکن رواں برس تیزی سے پھیلنے والی ایک نئی قسم کی، جسے طبّی اصطلاح میں"Novel Corona Virus" کہا جارہا ہے، بعض ایسی علامات بھی ظاہر ہورہی ہیں،جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ چمگادڑوں ہی کے ذریعے پھیلا ہے۔

نومبر2002ء میں بھی، چین میں کورونا وائرس کی ایک قسم سارس وائرس (SSAR:Severe Acute Respiratory Syndrome)نے وبائی صُورت اختیار کی تھی۔ واضح رہے کہ سارس وائرس نظامِ تنفس کو شدید متاثر کرکے نمونیا جیسی علامات ظاہر کرتا ہےاورایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً آٹھ ہزار افراد اس کا شکار ہوئے،جن میں سے774جان کی بازی ہار گئے۔2012ء میں ایک بار پھر کورونا وائرس حملہ آور ہوا،مگر اس مرتبہ اسے مرس وائرس (MERS:Middle East Respiratory Syndrome) سے موسوم کیا گیا۔مرس وائرس سے858اموات ہوئیں۔

اس کی علامات بھی نزلہ زکام، گلے میں تکلیف یا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری اور پھیپھڑوں کا انفیکشن ہی ر ہیں۔تاہم مرس وائرس کے حوالے سے جو تحقیقات کی گئیں، اُن کے مطابق وہ وائرس چمگادڑ کے ذریعےپہلے ایک خاص قسم کے اونٹوں میں پھیلا اور پھر انسانوں میں منتقل ہو گیا۔اُس وائرس سے بھی سعودی عرب، مڈل ایسٹ، افریقا، یورپ اور امریکا جیسے مُمالک متاثر ہوئے،لیکن یہ سارس وائرس کی نسبت کم مہلک تھا۔پھر 2014ء میںامریکی ریاست، انڈیانا کےایک اسپتال میںکوروناوائرس کا پہلا مریض داخل ہوا، تو دوسرا کیس فلوریڈا میں رجسٹرہوا۔

یہ دونوں ہی مریض سعودی عرب سے واپس آئے تھے۔2015ء میں کوروناوائرس ایک بار پھر کوریا میں حملہ آور ہوا ،لیکن 2017ء کے بعداس کا کوئی کیس منظرِ عام پر نہیں آیا۔گزشتہ برس2019ء کے آخر میں کورونا وائرس ایک بار پھر چین کےصوبے ،ہوبائی کے دارلخلافہ، ووہان کی سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وبائی صُورت اختیار کرگیا۔یہ اب تک دُنیا کےقریباً25 مُمالک تک، جن میں آسٹریلیا، کمبوڈیا،کینیڈا، فِن لینڈ، فرانس، انڈیا، اٹلی، جاپان، ملائیشیا، نیپال، فلپائن، روس، سنگا پور، شمالی کوریا، اسپین، سری لنکا، سوئیڈن، تائیوان، تھائی لینڈ، عرب امارات، امریکا، ویت نام اور سعودی عرب تک شامل ہیں، پہنچ چُکا ہے۔جب کہ کئی مُمالک میں اس کا خطرہ بدستور منڈلا رہا ہے۔ابتدا میں اسے کورونا وائرس ہی کہا گیا،بعد ازاں عالمی ادارۂ صحت نے اسے ’’Novel Coronavirus‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔اس وائرس کاجنس، عُمر سے کچھ خاص تعلق نہیں۔ 

یعنی یہ کسی بھی فرد کو، کسی بھی عُمر میں اپنا شکار بنا سکتا ہے۔تاہم، اب تک کے متاثرین کی زیادہ تعداد عُمر رسیدہ مَردوں پر مشتمل ہے،جب کہ کئی نو عُمربچّوں میں نہ صرف تشخیص کیاجا چُکاہے ،بلکہ کئی معصوم جانیں لقمۂ اجل بھی بن چُکی ہیں۔نیز، اب تک کے اعداد و شمارکے مطابق ناول کرونا وائرس کی شرحِ اموات 2سے4فی صد ہے۔واضح رہے کہ مرس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد33فی صد رہی، مگر وہ وائرس اس قدر تیزی سے نہیں پھیلا تھا، البتہ سارس وائرس نسبتاً تیزی سے پھیلا اور اُس سے مَرنے والوں کی شرح بھی10فی صد رہی(یاد رہے،سارس وائرس آج دُنیا سے تقریباً ختم ہوچُکا ہے)۔ 

عالمی ادارۂ صحت نے حال ہی میں ناول کورونا وائرس کو ایک اور نیا نام دیا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کےڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم(Dr Tedros Adhanom) کے مطابق، ’’پُراسرار کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرنے کے بعد اس مرض کو، ’’کووِڈ-19‘‘ (covid-19) کا نام دیا جارہا ہے۔‘‘اس ضمن میں عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسا نام تلاش کرنا پڑا، جو جغرافیائی محل وقوع، جانور، کسی فرد یا لوگوں سےملتا جلتا نہ ہو اور بیماری کو بھی واضح کرتا ہو۔ اسی لیےیہ نام رکھا گیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے۔

کورونا وائرس (کووڈ-19)عام طور پر کھانسنے یا چھینکنے سے پھیل رہا ہے۔ اصل میں متاثرہ فرد کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے لعاب کے ذرّات کے ذریعے یہ وائرس صحت مند فرد میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اور جب یہ وائرس کسی فرد کے جسم میں داخل ہوتا ہے، تو2سے14 روز کے اندر علامات ظاہرہونے لگتی ہیں۔ اس کی علامات بھی سارس وائرس سے ملتی جُلتی ہیں۔ یعنی ابتدا میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار کے ساتھ سانس پُھولتی ہے۔ بعض کیسز میں پٹّھوں میں درد اور ڈائریا کی بھی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

البتہ مرض بڑھنے کی صُورت میں نمونیا ہوجانے کے نتیجے میں پھیپھڑوں پر وَرم آجانے کے ساتھ اُن میں پانی بھی بَھرجاتا ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ناول کورونا وائرس کم زور قوّتِ مدافعت کے حامل افراد کو جلد نشانہ بناتا ہے۔واضح رہے کہ زیادہ تر کیسز میںجسم کا دفاعی نظام مضبوط ہونے کے سبب مریض خود بخود تن درست ہوجاتے ہیں،البتہ کم زور قوّتِ مدافعت کے حامل افراد کے لیے نمونیے کا شدید حملہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔اس حوالے سے حال ہی میں140مریضوںپر تحقیق کی گئی، جس کے مطابق اس وائرس کے شکار99فی صد مریضوں میں بخار،50 فی صد سے زائد میں شدید تھکاوٹ اور خشک کھانسی،جب کہ ایک تہائی میں پٹّھوں کے درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات دیکھی گئیں۔

زیادہ تر مریضوں کو ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے کے تقریباً5دِن بعد سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرناپڑا اور نسبتاً کم ہی مریضوں میں ابتدانزلہ زکام، سَردرد یا گلے میں تکلیف کی علامات ظاہر ہوئیں،جب کہ قریباً14مریضوں نے بخار اور سانس لینے میں دشواری سے قبل ڈائریا اور متلی کی بھی شکایت کی ۔نیز، حالت بگڑنے پر15فی صد مریضوں میں نمونیا تشخیص کیاگیا ۔اس رپورٹ میںمزید بتایا گیا کہ کوروناوائرس سے ایسے عُمر رسیدہ افرادجلد متاثر ہورہے ہیں،جو پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا تھے۔خیال رہے، ان140مریضوں میں سے54 فی صد سے زائد مَرد ہیں اور ان کی اوسط عُمر56برس ہے۔ 

وائرس کی تشخیص کے لیے حلق اور ناک کا کلچر (Nose And Throat Culture)اور خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔چوں کہ یہ ایک نیا وائرس ہے، تو تاحال کوئی مستند، کام یاب طریقۂ علاج سامنے نہیں آیا ، لیکن اُمید کی جارہی ہے کہ جلد ہی ویکسین متعارف کروا دی جائے گی،جب کہ چینی حکومت پُرعزم ہے کہ وہ جلد ہی اس وَبا پر قابو پاکر’’کورونا فِری زون‘‘ کہلائے گی۔

ناول کورونا وائرس سے بچاؤ کے ضمن میں عالمی ادارۂ صحت نےجو احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں،ان میں سرِ فہرست تو یہی ہے کہ جن شہروں میں یہ وائرس پھیل چُکاہے، وہاں جانے سے گریز کیا جائے۔ علاوہ ازیں، صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، ہاتھوں کو بار بار جراثیم کُش صابن یا لیکوئیڈ سوپ سے دھوئیں۔ یا Sensitizer Liquid سے صاف کریں۔ناصاف ہاتھوں سے منہ، ناک، آنکھیں حتیٰ کہ گھریلو اشیاء، دروازوں کے ہینڈلز اور موبائل فونز وغیرہ تک چُھونے سے اجتناب برتیں،جب کہ باہر سے گھر آنے کے بعد بھی لازماً ہاتھ دھوئے جائیں۔ 

کھانستے اور چھینکتے ہوئے منہ پر کپڑا رکھیں۔جب بھی گھر سے باہر جائیں، تو ایک خاص ماسک،جو این95کہلاتا ہے، استعمال کریں۔ اگرخدانخواستہ بخار، نزلہ زکام یا فلو جیسی علامات ظاہر ہوں، تو بغیر کسی تاخیر کے ماسک پہن لیں اور فوری طور پر سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن(Centers For Disease Control And Prevention)سے رابطہ کیا جائے۔فی الوقت، علاج کے ضمن میں گرم پانی سے نہانا، زائد مقدار میںپانی پینا، بہت آرام کرنا اور بخار کی صُورت میں ایک عام دوا پیراسیٹامول کا استعمال مؤثر ثابت ہورہاہے۔

(مضمون نگار،فیملی فزیشن اور کارڈیالوجسٹ ہیں اور آغا خان یونی ورسٹی اسپتال کلینکس ، کورنگی ،کراچی سے منسلک ہیں)

ناول کوروناوائرس کی زَد میں.........

اب تک کی رپورٹس کے مطابق ناول کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد64,435ہے،جن میں سے1,383مریض ہلاک ہوئے۔جب کہ ماضی میں سارس وائرس کے8096اورمرس وائرس کے2494کیس رپورٹ ہوئے، جن میں سے774افراد سارس وائرس کے سبب اور858مرس وائرس کے سبب ہلاک ہوگئے۔اس اعتبار سے ناول کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ 

اب تک اس وائرس سے سب سے زیادہ اموات چین ہی میں ہوئی ہیں،جب کہ دیگر مُمالک میں جاپان میں161،تائیوان میں18، جرمنی میں14،برطانیہ میں8،سنگاپور میں45، ملائشیا میں18،امریکا میں13، کینیڈا میں7، روس میں2،تھائی لینڈ میں32، آسٹریلیا میں15،فرانس میں11،بھارت میں 3، اسپین میں2،جنوبی کوریا میں28، ویت نام میں15،متحدہ عرب امارات میں8، فلپائن میں3، نیپال،سری لنکا،کمبوڈیا اور سویڈن میں1،1کیس رپورٹ ہوچُکا ہے۔ماہرین کے خیال میں وائرس کے پھیلاؤ کو شہروں میں آمدورفت کے مختلف ذرائع( برّی، فضائی، بحری) بند کرکے ہی روکا جا سکتا ہے۔

یہاں تک کہ جاپان کیDiamond Princess Cruise Shipکو بھی ساحلی پٹّی پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ جہاز میں سوار مسافروں کی کُل تعداد3,700تھی، جن میں سے اس وقت جہاز کے عملے سمیت531افراد ابھی جہاز ہی میں موجود ہیں اوراُن میں سے219میں ناول کورونا وائرس کی حتمی تشخیص کی جاچُکی ہے۔ واضح رہے کہ اس ڈائمنڈ پرنسز کروز شپ میں موجود ہانگ کانگ کے ایک80سالہ بزرگ شہری میں سب سے پہلے یہ وائرس تشخیص ہوا،جس کے بعد دیگر مسافر بھی اس وائرس کی زَد میں آتے چلےگئے۔

سنڈے میگزین سے مزید