آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان بننے کے فوراً بعد بےمثال میگا کرپشن نے ملک کے چپے چپے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہاں پر میں اپنے شہر کراچی کا ذکر کروں گا۔ لاہور کا ذکر اس لئے نہیں کروں گا کہ تب میں کراچی میں تھا۔

لاہور میں موجود نہیں تھا۔ لاہور میں بےانتہا دولت مند سکھ رہتے تھے۔ بٹوارے کے بعد سکھوں نے نقل مکانی کر کے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح مسلمانوں کے لئے مکہ اور مدینہ اور ہندوئوں کیلئے کاشی اور ہریدوار مقدس مقام ہیں، عین اسی طرح ننکانہ صاحب اور حسن ابدال ہم سکھوں کے لئے مقدس مقام ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ ویسے بھی برصغیر کا بٹوارہ ہندو اور مسلمانوں کے بیچ کا معاملہ ہے۔ ہم سکھوں کا معاملہ نہیں۔ ہم ہندوستان نہیں جائیں گے۔ اس نوعیت کے چشم دید قصے آپ کو تب لاہور میں موجود میری عمر کے بوڑھے بتائیں گے۔

سکھوں کے جانے سے انکار کے بعد لاہور بلکہ پورے پنجاب میں کیا ہوا تھا؟ ہولناکیوں کی تہہ تک پہنچنے کیلئے آپ کو اُس دور کے آرکائیوز کے ریکارڈ میں موجود اخبار پڑھنا پڑیں گے۔ اس دور کے افسانے اور ناول پڑھنا ہوں گے۔ خاص طور پر آپ کرشن چندر کا ناول غدار اور خوشونت سنگھ کا انگریزی میں لکھا ہوا ناول A Train to Pakistanضرور پڑھیں۔

آپ خون میں نہایا ہوا ایک دور اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔ اسی نوعیت کے بھیانک فسادات ہندوستان کے حصہ میں آئے ہوئے پنجاب میں ہوئے تھے۔ فسادات میں مرنے والے ہندو اور سکھ ہندوستان کیلئے قربانی نہیں دے رہے تھے۔ فسادات میں مرنے والے مسلمان پاکستان کیلئے قربانی نہیں دے رہے تھے۔

فسادات انسانی جبلتوں میں بربریت کی ناقابلِ انکار صفتوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ فسادات اس قدر بھیانک تھے کہ صرف دو برس پہلے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کی ہولناکیاں دنیا بھول گئی۔ مگر کراچی میں ہم نے ایسی سفاکی نہیں دیکھی۔ ہم نے انسان کو انسانیت سے محروم ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔

اس کا سب سے بڑا ایک سبب یہ تھا کہ کراچی میں صرف ہندو اور مسلمان نہیں رہتے تھے۔ کراچی میں سکھ، عیسائی، یہودی، بہائی، پارسی، جین اور بدھ مت کے پیروکار بھی رہتے تھے۔ کوئی کسی پر حاوی ہونے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ سب ایک دوسرے کا تحفظ کرتے تھے۔

مندروں، مسجدوں، کلیسائوں، گردواروں اور سیناگاگ کو آگ نہیں لگائی جاتی تھی۔ تب کراچی کی شہرت ایک صاف ستھرے شہر ہونے پر منحصر نہیں تھی۔ کراچی کی وجہ شہرت بھائی چارے اور بےمثال ہم آہنگی بھی ہوتی تھی۔

ایسے میں کراچی، برصغیر کے بےشمار بڑے بڑے شہروں کی طرح فسادات کی ہولناکیوں کا اکھاڑا نہیں بنا تھا۔ بڑے بڑے شہروں سے لوگ جان بچانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے تھے مگر کراچی سے جانے والوں کو پیچھے رہ جانے والوں نے گلے لگا کر پُرنم آنکھوں سے رُخصت کیا تھا ہاں، برنس روڈ اور فریئر روڈ پر اِکا دُکا ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، وہ بھی عالی شان بلڈنگوں میں فلیٹ خالی کرانے کیلئے یا پھر خالی پڑے ہوئے فلیٹوں پر قبضہ کرنے کیلئے۔

میں اپنے پرانے شہر کراچی کی لفظوں میں تصویر کشی کرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ کو صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی ایک آسودہ اور ہر لحاظ سے خوش حال شہر تھا۔

ہندو اور سکھ شہر سے گئے تو اپنے پیچھے بیش بہا اور قیمتی املاک چھوڑ کر گئے۔ حکومت نے متروکہ املاک ہندوستان سے آنیوالے افراد کو ایک پالیسی کے تحت الاٹ کرنے کے قوانین بنائے۔

افسران نے جب املاک کی سرسری فہرست بنائی، تب ان کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہوش و حواس بھی چکا چوند ہو گئے۔

متروکہ املاک میں دس پندرہ سینما، بندر روڈ پر ولایتی سامان سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہزاروں دکانیں، پتھروں سے تراشے ہوئے بلاکوں کی بےانتہا خوبصورت سیکڑوں کوٹھیاں، بولٹن مارکیٹ سے صدر تک فریئر روڈ اور برنس روڈ پر بنی ہوئی دیدہ زیب عمارتیں اور ان عمارتوں میں بےشمار جدید اپارٹمنٹ، تالے لگے ہوئے گودام، جو کراکری، ولایتی کپڑے کے تھانوں، بجلی کے سامان سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ اس دور کی جدید گاڑیاں، جیولری کی دکانیں، کاروباری مراکز اور اعلیٰ گھریلو فرنیچر۔

افسران اور ان کے عملے نے دو گواہوں کے دستخطوں سے تصدیق شدہ قسم نامے کی مطلوبہ شرط کی دھجیاں اُڑا دیں، بےایمانی کا ایسا دور دورہ تھا کہ جو لوگ ہندوستان میں فسادوں میں سب کچھ بھسم ہوتا ہوا چھوڑ کر پاکستان آئے تھے، ان کو الاٹمنٹ میں کچھ نہیں ملا۔

اور جو لوگ پاکستان میں بہتی ہوئی دودھ اور شہد کی ندیوں اور درختوں پر پتوں کے بجائے اشرفیاں اور لگے ہوئے نوٹوں کی باتیں سن کر پاکستان آئے تھے، انہوں نے دونوں ہاتھوں سے متروکہ املاک سمیٹی تھیں۔ اچھے لوگوں کے ساتھ ایسے لوگ بھی پاکستان میں داخل ہوئے تھے جو جرائم پیشہ تھے، شاطر تھے، افسروں نے ملی بھگت سے ایسے لوگوں کی اور اپنی چاندی کر دی تھی۔

سچ تھا، یا لطیفہ، اُن دنوں چل نکلا تھا۔ کسی نے دو گواہوں کے دستخط کے ساتھ قسم نامے میں کلیم کیا تھا کہ وہ ہندوستان میں تاج محل چھوڑ آئے ہیں۔

انہوں نے خود کو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا پڑپوتا ظاہر کیا تھا۔ اسی طرح کی ایک بات اور بھی چل نکلی تھی کہ کسی صاحب نے کلیم داخل کیا تھا کہ لکھنؤ میں وہ آرام باغ چھوڑ آئے ہیں۔ لہٰذا کراچی کا رام باغ کلیم میں ان کو الاٹ کیا جائے۔ یہ بہتّر برس پرانی کتھا ہے۔

ہندوستان والوں نے لکھنؤ کے آرام باغ سے حرف’’آ‘‘ ہذف کر دیا اور اس طرح لکھنؤ کا آرام باغ بن گیا رام باغ۔ ہم نے رام باغ میں حرف ’’آ‘‘ لگا دیا۔ اور اس طرح کراچی کا رام باغ بن گیا آرام باغ۔

اگر آپ کراچی میں متروکہ املاک کی تفاصیل دیکھنا چاہتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ متروکہ املاک کس کس کو کلیم میں الاٹ کی گئی تھی، آپ کو مایوسی ہو گی۔ پاکستان میں برسوں پرانی روایت چلی آرہی ہے کہ ریکارڈ روم میں اکثر آگ بھڑک اُٹھتی ہے اور تمام فائلیں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں۔