آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکی سینیٹ نے گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ کے احکامات جاری کرنے کے صدارتی اختیارات میں کمی کر دی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ شدت سے سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے از خود ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کا حکم جاری کیا تھا جس میں جنرل سمیت دیگر فوجی افسران بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے ایران میں شدید ردعمل سامنے آیا اور امریکہ سے بدلہ لو کے نعرے گونجنے لگے۔ ایران اور امریکہ کے مابین شدید کشیدگی اور جنگ کا سماں بن گیا۔

اس شدید کشیدہ سیاسی صورتحال میں کانگریس اور سینیٹ کے متعدد اراکین کو تشویش لاحق ہو گئی کہ صدر ٹرمپ کوئی ایسا فیصلہ نہ کر بیٹھیں جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ثابت ہو۔ اس طرح اختیارات میں کمی کرنے کی کمیٹی کے اہم رکن سینٹر ٹیم کین نے کہا کہ، اب صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جو بھی کارروائی کریں گے اس کے لئے انہیں کانگریس سے رجوع کرنا ہو گا ،بعد ازاں منظوری وہ کوئی قدم اٹھا سکیں گے۔ 

کمیٹی نے صدر کے اختیارات میں کمی کیلئے رائے شماری کرائی جس میں قرارداد کے حق میں پچپن ووٹ اور مخالفت میں پینتالیس ووٹ ڈالے گئے۔ اختیارات میں کمی کی قرارداد کے حق میں آٹھ ری پبلکن اراکین نے بھی ووٹ دیا ۔ سینٹر ٹیم کین نے کہا کہ یہ بل صدر کے خلاف نہیں ہے بلکہ اختیارات میں توازن اور استحکام کے لئے لایا گیا ہے۔ اب کانگریس کے پاس یہ اختیارات محفوظ ہیں۔

صدر امریکاکے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی جاری جنگ کو روکنے کے احکامات صادر کر سکتے ہیں،مگر جنگ شروع کرنے کا اختیار اب کانگریس کے پاس ہے۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے سیاسی حامیوں کی دلیل یہ ہے کہ کانگریس اور سینٹ نےصدر کے اختیارات کم کر کے ایک طرح سے مخالف قوتوں پر اپنی کمزوری ظاہر کی ہے،مگر ٹیم کین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے ہم کمزوری ظاہر کر رہے ہیں ،درحقیقت اس وقت دنیا قانون کی بالا دستی کی طلبگار ہے۔اور ہم بتا رہے ہیں کہ ہم قانون کی پاسداری پر عمل پیرا ہیں۔ یہ امریکہ کی قوت کی نشانی ہے۔ 

ٹیم کین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم جنگ کی تیاری کر کے اپنے نوجوانوں کو جنگ میں دھکیل دیتے ہیں اس ضمن میں ہمیں اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے، اور اس میں منتخب اداروں کے اراکین کی رائے کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے۔ پینٹا گون کے ترجمان نے اپنی رپورٹ کو سینٹ کے حوالے کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے اپنے جنرل قاسم کی ہلاکت کے بعد جواب میں موجود امریکی سپاہیوں پر دو جگہ راکٹوں سے حملے کئے ہیں جس سے ایک سو سے زائد فوجیوں کو شدید دماغی چوٹیں آئیں،ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ 

کانگریس اور سینٹ کے اراکین کو صدر ٹرمپ سے یہ شکایت بھی ہے کہ انہوں نے حملے کے بعد ایران کی طرف سے ملنے والی دھمکیاں کیا تھیں یہ بتانے کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں سناتے رہے،تاہم اس مسئلے پر امریکی سیاسی حلقوں میں رائے پائی جاتی ہے کہ امریکی صدر کے اختیارات میں کمی سے امریکا کے اتحادیوں کو غلط پیغام جائے گا اوراس فیصلے سے امریکی جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کے نظریہ کو مزید تقویت ملے گی۔اس طرح جوپہلے سوچتے تھے کہ امریکی صدارت شاہی صدارت ہے، اب وہ ایسا نہیں سوچ سکتے۔

وائٹ ہائوس کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اختیارات میں کمی کے بل کو ویٹو کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،مگر دوسری جانب کانگریس اور سینٹ کے بیشتر اراکین امریکی صدر کے وسیع تر اختیارات میں مزید کمی کرنے کی کوششیں کر رہےہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی اکثریت صدر کی حامی دکھائی دیتی ہے ،جس پر پروفیسر جنین اسٹینلے جن کی معروف کتاب ’’فسطائیت ‘‘ کے لیے کام کرتی ہے۔ ‘‘ بے حد مشہور ہے۔انہوں نے ری پبلکن پارٹی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ پارٹی جماعتی اکثریت کے بجائے انفرادی حکمرانی پر یقین کرنے لگی ہے جو جمہوریت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

تاہم واشنگٹن کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں جو سوالات اب بھی گردش کر رہے ہیں ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جنرل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کس قانون کے تحت کیا۔ یا یہ محض ان کی اپنی انفرادی رائے تھی جبکہ سب کو علم تھا کہ جنرل قاسم ایران کی خصوصی سپاہ قدس فورس کے کمانڈر تھے۔ ان کے ہمراہ ابو مودی المہندس پر ایرانی پی ایم ایف کے نائب کمانڈر تھے۔ ان سمیت بیشتر فوجی اہلکار حملے میں نشانہ بنے ،جس کی وجہ سے ایران بار بار امریکہ کو دھمکیاں دیتا رہا اور بدلہ لینے کی بھی بات کرتا رہا۔ اس حوالے سے پینٹاگون کا کہنا ہے انہیں براہ راست صدر ٹرمپ کی طرف سے احکامات ملے تھے۔

اس ضمن میں امریکی وزارت دفاع کا موقف ہے کہ صدر امریکا کے دفاع کا ذمہ دار ہے۔ وہ افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔ اس لئے وہ یہ حکم صادر کر سکتا ہے۔ بیش تر اعلیٰ افسران نے اس مسئلے پر صدر کی حمایت کی ان کی دلیل یہ ہے کہ ایرانی جنرل قاسم ہزاروں امریکی اور اتحادی فوجیوں کا قاتل تھا۔ اس نے مشرق وسطیٰ میں ایران مخالف قوتوں کے خلاف جال بچھایا ہوا تھا۔ مختلف ایرانی حامی شیعہ گروپس کو اس نے تربیت دلوائی اور ان میں مہلک اسلحہ تقسیم کیا تھا۔ 

اس پر ایک معروف صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے جو حکم صادر کیا وہ قانون کے عین مطابق تھا۔ اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے قاسم سلیمانی پر عین اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک اہم اور خطرناک مشن کی تکمیل چاہتا تھا۔ اس لئے ہم نے رات میں ہی اس پر حملہ کر دیا تاکہ متوقع جنگ کو روکا جا سکے نہ کہ ہم جنگ شروع کرتے۔

امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے بتایا کہ قاسم سلیمانی ایک انتہائی خطرنا ک منصوبہ پر عمل کرنے والے تھے جس سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق تھا۔

اس پر پروفیسرچیینے نے کہا کہ اگر وزارت خارجہ کا بیان درست ہے تو پھر یہ معاملہ امریکی صدر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صدر ٹرمپ نے درست فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں کانگریس کے ترجمان کا بیان ہے کہ، کانگریس نے صدر امریکا کو سال2000میں اختیار دیا تھا کہ وہ القائدہ کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں۔جب کہ عراق پر فوج کشی کی اجازت 2001میں دی گئی تھی،مگر سابق امریکی صدر بارک اوباما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اختیارات کو داعش کے خلاف مسلح کارروائی کے لئے استعمال کیا، جس کو ان صدور نے دہشت گردوں کے خلاف’’ گلوبل وار‘‘ عنوان دیا۔ جواب ’’وار انگیسٹ میٹرز‘‘ کہلاتی ہے۔

مگر کانگریس نے صدر کو ایران کے خلاف جنگ یا مسلح کارروائی کی اجازت نہیں دی تھی۔ ڈیمو کریٹک اراکین سینٹ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ پر پابندی بہت ضروری ہے کہ، وہ ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل کریں۔ معروف قانون دان لارنس کومب کا کہنا ہے کہ صدر کے نئے اختیارات کی ضرورت نہیں ہے ہم اس کا پہلے تجربہ کر چکے ہیں۔

1949میں امریکی دستور میں ترامیم کے بعد وزارت دفاع کا قیام عمل میںآیاتھا، جس کا سربراہ سیکرٹری دفاع ہوتا تھا۔ دفاع کی وزارت کے تحت مسلح افواج کے تمام عسکری اور نیم عسکری محکمے اور شعبہ جات کام کرتے تھے جس میں آرمی ،نیوی، ائر فورس، میرین، کارپس شامل تھے۔ ان محکموں کو صدر امریکہ اور سیکرٹری دفاع مشترکہ طور پر کمان کرتے تھے۔ بیشتر دفاعی اور سکیورٹی کے بعض حساس معاملات میں صدر کو کانگریس کی رائے اور منظوری لینی ضروری تھی۔

وقت کے ساتھ بتدریج صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوتا رہا۔ اس حوالے سے صدر امریکہ کو شاہی صدر بھی کہا جانے لگا کہ وہ تمام اہم دفاعی سول محکموں کےسربراہوں کا تقرر کر سکتا ہے،جس میں سی آئی اے، ناسا، ایف بی آئی اور بڑے مالیاتی ادارے بھی شامل ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک طرف امریکا اور دوسری طرف سوویت یونین (روس) دو بڑی طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں ،جس کے بعد ان دونوں طاقتوں کی آپس میں سرد جنگ چھڑ گئی۔ جس سے دنیا کو مزید مسائل اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں امریکی صدر کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کو دنیا کے عوام ناپسند کرتے ہیں۔

عالمی منظر نامہ سے مزید