آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سپر لیگ پر حملہ ناکام،’’بیڈبوائے‘‘عمراکمل فکسنگ پیشکش رپورٹ نہ کرنے پر معطل

عمراکمل فکسنگ پیشکش رپورٹ نہ کرنے پر معطل


کراچی (سٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ کے بیڈ بوائے عمر اکمل ایک اور تنازع کے بعد مشکل میں آگئے۔ پی سی بی کے دانشمندانہ فیصلے کی بدولت پاکستان سپر لیگ بڑے تنازع سے بچ گئی۔ اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنے پر ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل کو معطل کردیا گیا۔2009 میں انھوں نے جب اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی اس وقت ماہرین نے خیال ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی دکھائیں گے لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے کیریئر میں ٹیلنٹ کے بجائے اپنی ذات سے منسوب تنازعات کی وجہ سے یاد رکھے جاتے رہے ہیں۔ جمعرات کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو معطل کردیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک عمر اکمل کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں لہٰذا پی سی بی اس معاملے پر مزید کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔ عمر اکمل کو جمعرات کو پہلی دستیاب فلائٹ سے لاہور روانہ کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر اکمل کو تین دن پہلے اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش ہوئی تھی۔ جسے انہوں نے رپورٹ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم ان کی کال ٹیپ ہوگئی جس کے بعد پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ ان کی نقل حرکت کو مانیٹر کرتا رہا۔ بدھ کی شب کراچی کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی ہنگامی میٹنگ میں پی سی بی چیئرمین احسان مانی، سی ای او وسیم خان ، پی سی بی حکام کے علاوہ اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل (ر) آصف کے علاوہ کوئٹہ کے مالک ندیم عمر، کوچ معین خان نے شرکت کی۔ صبح چار بجے انہیں معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کےآرٹیکل 4.7.1 کے تحت یہ طے کیا جائے گاکہ کسی بھی فریق کو اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت چارج کرنا ہے۔ یا فریق کسی بھی فوجداری جرم میں ملوث ہو جس میں پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا ہو یا پھر کوئی الزام عائد کیا گیا ہو۔ کوڈ تحت پی سی بی کے پاس یہ صوابدیدی اختیار موجود ہے کہ وہ کھیل کی ساکھ کو مجروح کرنے پر متعلقہ فریق کو اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت عبوری طور پر معطل کرسکتا ہے جب تک کہ اینٹی کرپشن ٹربیونل یہ فیصلہ نہ کرلے کہ متعلقہ فریق نے جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ عمر اکمل متعدد مرتبہ اسکینڈلز کی وجہ سے میڈیا کی زینت بنے رہے ہیں لیکن ان کا نیا تنازع رواں ماہ کے اوائل میں سامنے آیا تھا جس کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمر اکمل کا کیریئر بھی داؤ پر لگ گیا۔ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ اس تنازع کی وجہ سے ان پر طویل مدت کے لیے پابندی کا خدشہ ہے۔ 

اسپورٹس سے مزید