آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قطر کے شہر دوحہ میں 29؍فروری کو اس خطے کا سب سے اہم امن معاہدہ طے پایا جس پر افغان طالبان اور امریکہ کے دستخط ہوئے۔ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکہ کی طرف سے امریکا نمائندہ زلمے خلیل زاد نے دستخط کئے۔ اس موقع پر پاکستان، انڈونیشیا، ازبکستان، تاجکستان اور بھارت کے نمائندگان شریک تھے۔ معاہدہ کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ امریکا وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بتایا کہ معاہدہ میں اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی آجائے گی اور حالات پرامن رہیں گے۔ اس کا طالبان نے یقین دلایا ہے۔ صدر اشرف غنی کا مطالبہ ہے کہ طالبان مکمل فائر بندی کریں جبکہ انہوں نے صرف دس دن کی فائر بندی کا وعدہ کیا ہے۔

تاہم معاہدے پر دست خط ہونے کے اگلے ہی روز افغان صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کرکے ایک نئی صورت ِحال پیدا کردی۔دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان صادق صدیقی نے ایک بیان میں کہا کہ معاہدہ میں یہ شرط ضروری ہے کہ ملک میں پائیدار امن ہو، یہ پوری قوم کا مطالبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اس وقت قائم نہیں ہوسکتا جب تک افغان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا جائے۔

افغان طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے افغانستان میں بہت سے جنگجو دھڑے طالبان کے ساتھ ہیں مگر بہت سے آزاد ہیں ان کو بھی امن پر راضی کرنا ضروری ہے اس کے لئے سب کو ان سے بھی مذاکرات کرنا پڑیں گے۔افغان طالبان کے نمائندہ خصوصی ملا عبدالغنی برادر نے دوحہ میں امن معاہدہ پر دستخط کے بعد اپنی پشتو زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ، ہمارا اولین مقصد ملک میں مستحکم امن کا قیام ہے۔ سب لوگ امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ہم امن کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

افغان طالبان کے ایک رہنما سے اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ جو فائر بندی اب افغانستان میں ہے یہ وقتی ہے یا پائیدار ہے۔ اس پر طالبان رہنما نے جواب دیا کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوگا تو وہ افغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین جرمنی میں ہوسکتا ہے۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر افغان طالبان معاہدہ کی پوری طرح پاسداری کرتے ہیں تو امریکا فوجی انخلاء چودہ ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا جو مرحلہ وار ہوگا۔

افغانستان میں امریکا فوج کشی کا سلسلہ بیس سال قبل ٹریڈ ٹاور پر القاعدہ کے حملے کے بعد شروع ہوا، جب اسامہ بن لادن اور ان کی جنگجو جماعت القاعدہ نے افغانستان میں اپنا ٹھکانہ بنایا اور وہاں پناہ حاصل کی، جب کہ امریکا نے اصرار کیا کہ افغانستان یا طالبان سے ہمارا کوئی تنازع نہیں ہے ہمیں اسامہ بن لادن اور القاعدہ گروپ درکار ہے،مگر طالبان رہنمائوں نے اس وقت امریکا کو جواب دیا کہ ہم ان کو امریکہ کے حوالے نہیں کرسکتے۔ وہ ہماری پناہ میں ہمارے مہمان ہیں۔ اس پر صدر بش نے افغانستان پر فوج کشی کا اعلان کردیا یہ سلسلہ اٹھارہ برس تک دراز رہا۔ ہر دو جانب کا زبردست نقصان ہوا، خاص طور پر امریکہ کو اپنے ہزاروں فوجی اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ افغان عوام نے ہر طرح کے مصائب کا سامنا کیا۔ پاکستان نے بھی بہت زیادہ نقصان برداشت کیا اور ہزاروں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ افغان طالبان سے سابق صدر باراک اوباما نے بھی مذاکرات کی بات کی تھی مگر بامقصد مذاکرات نہ ہوسکے۔ تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابات کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے امریکا فوجی واپس بلوائیں گے۔ اب پھر ٹرمپ دوسری باری کے لئے صدارتی امیدوار ہیں اور وہ وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے اس لئے امریکہ نے پوری سنجیدگی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ سچ یہ بھی ہے کہ ایک طرف امریکا عوام ملک سے ہزاروں میل دور جنگ کے اخراجات کو اپنے پر بوجھ محسوس کررہے تھے تو دوسری طرف افغان عوام اس لاحاصل جنگ میں زبردستی ایندھن بن رہے تھے۔ گویا دونوں طرف کے لوگ تھک چکے تھے اور اب ایک امن معاہدہ طے تو پاگیا ہے مگر اس کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اور خدشات اطراف میں گردش کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی مجموعی آبادی جو تین کروڑ اسی لاکھ سے زائد ہے۔ مختلف قبائل، زبانوں اور ثقافتی گروپوں میں تقسیم ہے۔ افغانستان دنیا کے پندرہ پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ قدامت پسند قبائل جو ہتھیار رکھنا اور ہتھیار چلانا اپنی ثقافت کا انمٹ حصہ تصور کرتے ہیں۔ ان سب کے بیچ مذہب کا رشتہ استوار ہے مگر اس میں بھی بعض مسلک آڑے آتے ہیں۔ قبائل سرداروں کے اپنے اپنے مفادات ہیں ان کے گروہ کے لوگ ان کے وفادار ہیں اور سردار کے حکم کے تابع ہیں جبکہ سردار عوام سے زیادہ اپنے فائدے اور مفادات کے قائل ہیں۔

اس لئے دوحہ امن معاہدہ پر دستخط کے باوجود بیشتر امریکا اعلیٰ عہدیدار اور سفارت کار تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے ابھی تو اور اہم مرحلے باقی ہیں۔ جیسے افغان حکومت جس کا طالبان سے واضح اختلاف ہے۔ طالبان ،اشرف غنی کی حکومت کو اصلی حکومت تسلیم نہیں کرتے پھر اشرف غنی اور نائب صدر عبداللہ عبداللہ کے بھی اختلافات ہیں جس کو شمال جنوب کے اختلافات کہا جاتا ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ افغان حکومت کی جیلوں میں پانچ ہزار طالبان جنگجو قیدی ہیں اور طالبان کی اپنی جیلوں میں ایک ہزار امریکا اور افغان فوجی قید ہیں۔ معاہدہ کی رو سے ان قیدیوں کا تبادلہ ہونا ہے۔ بالفرض اگر افغان حکومت اتنے زیادہ قیدی فوری رہا کرنے پر راضی نہ ہوتو پھر ایک نیا تنازع کھڑا ہوسکتا ہے۔

افغان طالبان رہنمائوں نے زیادہ قبائل سے رابطہ رکھا ہے مگر کچھ معاہدہ کے خلاف بھی ہیں اگر مخالف قبائل نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تب بھی نیا تنازع کھڑا ہوسکتا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور امریکا کے وزیر دفاع جلد ہی کابل کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ اور آئندہ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ امریکا اور یورپی یونین کے سیاسی اور سماجی حلقے افغانستان میں اس امن معاہدہ کے بعد کی صورت حال پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ اگر طالبان دوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتے ہیں تو پھر کیا ہوگا وہ نیا دستور بنائیں گے؟ عوامی مطالبات، خواہشات اور مسائل کو زیر غور لائیں گے؟ آیا انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور جدید تعلیم کے حوالے سے وہ کیا پالیسی اپنائیں گے؟ چونکہ ابھی جو معاہدہ ہوا ہے وہ ایک جامع معاہدہ کا پہلا حصہ ہے، مزید مرحلہ وار معاہدات ہوں گے جن کا الگ الگ معاملات سے تعلق ہے۔ اس لئے دوحہ کے معاہدہ پر زیادہ خوش ہونے والوں کے لئے یہ ایک پرمسرت موقع سہی مگر اس سے پہاڑ جیسے مسائل اور بنیادی سوالات حل نہیں ہوتے۔ اس پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے البتہ سب کو اچھی امیدیں رکھنا چاہئے۔

امریکا انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیہم کوششوں سے بات یہاں تک پہنچی ہے۔ امریکا اور یورپی حلقوں کا کہنا ہے کہ امن کا راستہ ہر چند کہ کھٹن ہے، اس میں بہت سی رکاوٹیں نظر آتی ہیں مگر ہم نے افغانستان میں امن قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ عوام افغان ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم امن کا راستہ اپنا رہے ہیں۔ امریکا صدر ٹرمپ نے واشنگٹن سے اپنے بیان میں کہا کہ ہم طویل عرصے سے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ سب کی امن کی خواہش ہے اس لئے ہم نے طویل مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کی اہمیت کو تسلیم کیا دوسرے بھی اس بات کو سمجھیں کہ ہم نے وقت ضائع نہیں کیا۔ اگر اب بھی برا ہوتا ہے تو یہ بہت برا ہوگا۔ تب ہم پھر اپنی پوری طاقت کے ساتھ افغانستان جائیں گے جس کا تصور کسی نے نہیں کیا ہوگا۔

افغانستان تاریخی پس منظر

گزشتہ ہفتے امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط بالآخر ہو ہی گئے مگر اس کے تقریباً فوراً ہی بعد افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کر دیا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ گو کہ معاہدے کے متن کے مطابق پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کئے جانے ہیں جن کے بدلے میں طالبان کے زیرحراست ایک ہزار قیدیوں کو دس مارچ تک رہا کیا جانا ہے۔

29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے جس کے مطابق اب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات بھی شروع ہونے ہیں لیکن صدر غنی کے مطابق قیدیوں کی رہائی بات چیت کی شرط نہیں ہو سکتی لیکن معاہدے کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے۔اب کچھ لوگ تو یہ اُمید کر رہے ہیں کہ طویل مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے سے افغانستان میں تقریباً دو عشروں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ویسے یہ جنگ دو عشروں سے نہیں بلکہ چار عشروں سے جاری ہے۔

ہم اگر افغانستان کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کوئی تین سو سال قبل یہاں کے میر ویس خان ہوتک نے ایران کے صفوی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر کے افغانستان کو آزاد کرایا تھا۔ خود میر ویس خان ہوتک قندھار کے پشتون تھے اور ان کی قائم کر دہ افغان ریاست خاندانِ ہوتک کے تحت تیس سال رہی جو تقریباً 1710ء سے 1740ء تک کا عرصہ بنتا ہے،جس میں آخری پندرہ سال شاہ حسین ہوتک نے حکومت کی جسے نادر شاہ نے شکست دے کر قندھار میں احمد شاہ اَبدالی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ جس نے افغانستان میں درّانی خاندان کی حکومت قائم کی جو 80سال چلی۔

افغانستان میں نادر شاہ کی دس سالہ حکومت کے بعد احمد شاہ اَبدالی جنہیں درّانی بھی کہا جاتا ہے نے، درّانی سلطنت کے پہلے بادشاہ کی حیثیت سے پچیس سال افغانستان پر حکومت کی ،جن کے بعد ان کےبیٹے تیمور شاہ نے بیس سال حکومت کی، مگر 1800ء کے لگ بھگ اس سلطنت کا زوال شروع ہوا اور بالآخر اگلے بیس سال میں کئی حکمرانوں کے بعد درّانی سلطنت ختم ہوگئی۔ پھر بارک زئی خاندان کے ڈیڑھ سو سالہ دور کا آغاز ہوتا ہے جو 1830ء سے 1973ء میں ظاہر شاہ کی حکومت کے خاتمے تک چلا۔

اس کا پہلا دور افغانستان امارت کے نام سے جانا جاتا ہے جسے دوست محمد خان نے قائم کیا تھا جنہوں نے دو وقفوں کے ساتھ کل پینتیس سال افغانستان پر حکومت کی۔ ان کے بعد اسی بارک زئی خاندان کےدو بڑے حکمران ہوئے عبدالرحمان خان نے 1880ء سے 1900ء تک اور حبیب اللہ خان نے 1901ء سے 1919ء تک حکومت کی۔ پھر امان اللہ خان کا دس سالہ دور ہے جس میں انہوں نے امارت افغانستان کا نام بدل کر بادشاہت افغانستان کر دیا جو تقریباً پچاس سال چلی اور اس میں چالیس سالہ دور 1933ء سے 1973ء تک ظاہر شاہ کا ہے جو پچھلے تین سو سال میں سب سے طویل عرصہ حکومت کرنے والے افغان رہنما تھے۔

ان کے بعد پچھلے چالیس سال افغانستان میں تقریباً مسلسل خانہ جنگی کے ہیں۔ اس دوران دس سال یعنی 1979ء سے 1989ء تک افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ رہا جس میں تقریباً سات سال ببرک کارمل کی حکومت کے ہیں پھر 1987ء سے 1992ء تک پانچ سال ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت رہی۔ 1992ء میں مجاہدین کی حکومت قائم ہونے کے بعد چار سال برہان الدین ربّانی افغانستان کے صدر رہے جن کی حکومت 1996ء میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ختم ہوئی اور طالبان کی حکومت کو 2001ء میں امریکا نے ختم کیا۔

(نون۔ میم)