معروف اداکارہ اور شوبز سیلبریٹی ماہرہ خان نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ جو لوگ عورت مارچ کو منظم کررہے ہیں وہ تجربہ کار ہیں اور وہ خواتین کے حقوق کے لیے برسوں سے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ اس حوالے سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے، تاہم اس حوالے سے میں نےخالصتاً درج ذیل مشاہدہ تحریر کیا ہے۔
اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ماہرہ خان نے اس حوالے سے تحریر کیا کہ، ہم مارچ کیوں کرتے ہیں؟ بحیثیت ایک مراعات یافتہ عورت میں ان کے لیے مارچ کرتی ہوں جو میری طرح استحقاق نہیں رکھتے، ان کو وہ حقوق حاصل نہیں جو کہ مجھے اس وقت سے میسر ہیں جب سے میں پیدا ہوئی ہوں
کیا ہم اس پر خوش ہوں گے، کیا ہمیں اپنے نعروں اور لفظوں کے استعمال میں محتاط ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں وہ پلے کارڈز تھامنا چاہیے جس کاز کے لیے ہم لڑرہے ہیں؟ وہ معاملات جن کا ہم حل چاہتے ہیں، بنیادی حقوق اور ضرورتوں سے محروم لوگ جو یا تو اپنے حقوق کے حوالے سے ناآشنا ہیں یا پھر انہیں یہ میسر ہی نہیں۔
کیا ہم ان قوانین پر مبنی بینرز اٹھا سکتے ہیں جن کے نفاذ کے لیے ہم کوشاں ہیں، اور جن سے خواتین کو سالوں سے تکلیف پہنچ رہی ہے۔ کیا ہم نہیں چاہتے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ہم کیوں مارچ کررہے ہیں؟
تو پھر ہم ایسے پوسٹرز کیوں اٹھاتے ہیں جو صرف اشتعال کا باعث بنتے ہیں۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں لوگ مساوی حقوق کے حصول کے نظریے کی جانب گامزن ہے۔
ہم سب کو جو کہ کوئی اختیار یا مراعات رکھتا ہو، اسے ایسی زبان استعمال کرنا چاہیے جو کہ ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہو۔ ہمیں اپنے لیے مارچ نہیں کرنا چاہیے، ہمیں ان کے لیے مارچ کرنا چاہیے، جو اپنے لیے مارچ نہیں کرسکتے۔