کراچی ،روم (نیوز ڈیسک، اے ایف پی) کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے دنیا بھر کی حکومتوں نے اقدامات تیز کردیے ہیں ، چین سے شروع ہونے والے وائرس سے اٹلی ، ایران ، جنوبی کوریا اورامریکا میں ہلاکتوں میں اضافے کے بعد حکام نئے قرنطینہ زونز اور پابندیوں پر غور کررہے ہیں ، پولینڈ ، مراکش اور انڈورا میں بھی کورونا کا پہلا کیس سامنے آگیا ،دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 3200 ہوگئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد93ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
اٹلی میں کورونا سے مزید 28ہلاکتوں کے بعد ہلاکتیں 107ہوگئیں جس کے بعد اسکولز اور یونیورسٹیوں کو 15مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے ، اس سے قبل کسی یورپی ملک نے یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا ، اٹلی میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3ہزار ہوچکی ہے۔
اطالوی میڈیا کے مطابق اٹلی میں کورونا کی وباء کو روکنے کیلئے فٹبال میچز میں شائقین پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر بھی غور کیا جارہا ہے، چین کے وسطی خطے کے بعد کورونا سب سے زیادہ اٹلی میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں حکام نے بدھ کے روز کورونا سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ کورونا سے بیشتر ہلاکتیں میلان کے لومباڈری خطے اور شمالی علاقوں میں ہوئی ہیں جبکہ اٹلی کے جنوبی پوش علاقوں میں کورونا کا پھیلاو نسبتاً کم ہے۔
ایران میں کورونا سے مزید 15افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کے بعد وہاں ہلاکتوں کی تعداد 92ہوگئی ہےجبکہ متاثرین کی تعداد 2ہزار 922ہوگئی ہے۔ ایران میں اعلیٰ عہدیداروں اور رہنمائوں کو ملک سے نہ نکلنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ایران میں متاثرین میں ایرانی نائب صدر ، ڈپٹی وزیر صحت اور 23ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں جو چین میں متاثر ہونے والے سرکاری عہدیداروں سے بھی بڑی تعداد ہے۔ عراق میں کورونا سے دو ہلاکتوں کی تصدیق کردی گئی ہے، یہ عراق میں وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکتیں ہیں، برطانیہ میں کورنا کے 34نئے کیسز کی تصدیق کردی گئی جس کے بعد وہاں متاثرہ افراد کی تعداد 85ہوگئی ہے۔
برطانوی محکمہ صحت کے مطابق اب تک 16ہزار 659افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں ،برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے بھی کورونا سے احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکاری تقریب میں دستانے پہن کر شرکت کی ، تاجکستان میں کورونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مساجد بند کردی گئی ہیں اور حتیٰ کہ نماز جمعہ کے اجتماعات بھی روک دئے گئے ہیں۔
90لاکھ مسلم آبادی والے اس ملک کی سرحدیں چین اور افغانستان سے ملتی ہیں ، سوئیڈن میں کورونا کے 16نئے کیسز کی تصدیق کے بعد وہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 52ہوگئی ہے، فرانس میں کورونا کے 73نئے کیسز سامنےآنے کے بعد وہاں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 285ہوگئی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا پیرس کا لوورے میوزیم بھی کورونا کے خوف سے ویران ہوگیاہے جہاں موجود لیونا ڈوڈاونچی کی شہرہ آفاق تخلیق ’’مونا لیزا‘‘ بھی تنہا ہوگئی ہے جس کی مسکراہٹ دیکھنے کوئی نہیں آرہا ، دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے بعد کورونا سے بچائو میں استعمال ہونے والے طبی آلات اور سامان کی قلت کا سامنا ہے۔
افرا تفری میں خریداروں، ذخیرہ اندوزی اور چوری کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے،عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ماسکس، عینکوں اور دیگر حفاظتی سامان کی قیمتیں آسمانوں پر پہنچ گئی ہیں ، جنوبی کوریا، فرانس اور ہانگ کانگ کی سپر مارکیٹس میں لوگوں کی بڑی تعداد قطاریں لگا کر ماسکس وغیرہ کی خریداری کررہے ہیں۔
الجزائر میں بھی کورونا کے 9نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 17ہوگئی ہے ، فرانسیسی صدر میکغوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے ان کی صدر ٹرمپ سے گفتگو شاندار رہی۔
میکغوں نے کہا کہ ہم کورونا سے نمٹنے کیلئے سائنسی اور معاشی طور پر تیار ہیں ، ہنگری میں کورونا کے پہلے دو کیسز کی تصدیق کرلی گئی ہے ، ہنگری کےوزیراعظم کے مطابق یہ دونوں ایرانی طالبعلم ہیں ، امریکا کے شہر نیویارک میں کورونا کا تیسرا کیس سامنے آیاہے ۔