آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تپِ دق: علاج طویل، صبر آزما، مگر سو فی صد کامیاب

عالمی ادارئہ صحت کی جانب سے ہر سال دُنیا بَھر میں 24مارچ کو تپِ دق(Tuberculosis)کا عالمی یوم منایا جاتا ہے۔ امسال جس تھیم کا اجرا کیا گیا ہے، وہ ہے،IT's Time'' ''۔ یعنی یہی وقت ہے، تشخیص، علاج اور مرض پر قابو پانے کا۔کیوں کہ ملیریا، اسہال، مختلف انفیکشنز،کئی علاقائی اور نسوانی امراض مل کر بھی اتنی ہلاکتوں کا سبب نہیں بنتے،جتنی تنہا تپِ دق کے مرض کے باعث ہوجاتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کرّہ ارض کی کُل آبادی کے ایک تہائی افراد میں ٹی بی کے جراثیم پائے جاتے ہیں، لیکن متاثرہ ہونے والوں کی تعداد سالانہ ایک کروڑ تک ہے۔پاکستان میں سالانہ تقریباً5لاکھ افراد ٹی بی کے مرض کا شکار ہوتے ہیں اور اُن میں سے لگ بھگ ستر ہزار لقمۂ اجل بھی بن جاتے ہیں۔

تپِ دق،جو سل یا دق بھی کہلاتی ہے۔یہ انسانی تاریخ کی سب سے قدیم، متعدی بیماری ہے،جس نےبستیوں کی بستیاں، نسلوں کی نسلیں تباہ کیں۔مختلف تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ مرض 70,000 سال قبل افریقا میں بسنے والے انسانوں میں پایا گیا ، جو بعدازاں حیوانوں میں منتقل ہوا۔ اس تحقیق سے پہلے قیاس کیا جاتا تھا کہ 10,000سال پہلے ٹی بی کا مرض براعظم افریقا میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ جب کہ قبل از مسیح کے فراعین کی ممیوں کی ریڑھ کی ہڈی کے مُہروں میں بھی ٹی بی کے جراثیم دریافت کیے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مرض ہزاروں سال پُرانا ہے۔ماضی میں مرض کی حتمی وجوہ اور علاج دریافت نہ ہونے کے باعث مریض سانس لینے میں شدید دشواری اور خون کی اُلٹیاں کرتے کرتےاپنے پیاروں کے سامنے مَرجاتے تھے۔جب اموات کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی، تو ٹی بی پر باقاعدہ تحقیق کا آغاز ہو۔ ابتدا میں کہا گیا کہ مرض لاحق ہونے کی وجہ گلی سڑی سبزیوں کا استعمال ہے۔ کچھ عرصے بعد ایک نئی تحقیق سامنے آئی،جس میں مسموم فضا کو اس کاسبب قرار دیا گیا۔بہرحال،سال ہاسال تحقیق کا سفر جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارویں صدی عیسوی آ پہنچی اورپھر1882ء میں رابرٹ کاخ (Robert Khock) نامی ایک سائنس دان نے اپنی عمیق تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایک متعدی مرض ہے، جو مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس نامی جرثومے سے پیدا ہوتا ہے۔ 

تحقیق میں یہ بتایا گیا کہ یہ خردبینی جرثوما اپنے وجود میں نہایت سخت جان ہے،جو انتہائی تیزی سے تقسیم در تقسیم ہو کر لاکھوں،کروڑوں کی تعداد میں پھلنے پھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ تپِ دق کے جراثیم کا اصل ہدف نظامِ تنفّس ہے، یہ جراثیم سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوکر افزایش کرتے ہیں۔ مگر بعض اوقات خون کے ذریعے پورے جسم میں بھی پھیل جاتے ہیں۔ مثلاً نظامِ ہاضمہ، اعصابی نظام، دماغ، آنتوں، ہڈیوں، جوڑوں، گُردوں، جِلد، کمر اور غدود وغیرہ سب کو متاثر کردیتے ہیں۔ بعد ازاں، سائنس دانوں نے استقامت کے ساتھ اس جرثومے کی جزئیات، فطرت و ہئیت وغیرہ کے حوالے سے مزید تحقیقات کیں، تو معلوم ہوا کہ یہ جرثوما سلاخ نما جوڑےکی شکل میں زندہ رہتا ہے اور اگر ایک بار سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے، تو برسوں زندہ رہنے کے باوجود بے ضرر ہی رہتا ہے۔ البتہ اگر مذکورہ فرد کی قوّتِ مدافعت کسی بھی سبب زیادہ کم زور پڑجائے، تو جرثوما فعال ہو کر تپِ دق کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ جراثیم جسم میں داخل ہوکر ایسےمُہلک کیمیائی اجزاء خارج کرتے ہیں، جو اس کے اطراف کے جسمانی اعضاء کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

عام طور پرٹی بی سے متاثرہ فرد کےپھیپھڑوں میں موجود جراثیم تقسیم در تقسیم ہو کر اَن گنت تعداد میں کھانسنے،چیخنے، چلانے یا گانا گانے سے ہوا میں پھیل جاتے ہیں۔اس دوران اگر یہ کسی صحت مند فرد کےپھیپھڑوں میں سانس لینے کے ساتھ داخل ہوجائیں،تووہاں باریک باریک جھلّیوں میں پرورش پانے لگتے ہیں کہ پھیپھڑوں کا درجۂ حرارت، نمی اورصحت مند خلیے اس کی نشوونما کے لیے مرغوب غذا کا کام دیتے ہیں ۔ اس مرحلے پر جسم کا دفاعی نظام اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان جراثیم پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ انہیں بےضررکردے۔

یوں مہینوں، برسوں جراثیم غیرفعال ہی رہتے ہیں،لیکن بعض اوقات قوتِ مدافعت کم زور پڑ جانے اور کبھی جراثیم کی تعداد اور ان کی ہلاکت خیزی بڑھ جانے کے باعث جراثیم فعال ہوجاتے ہیں ۔جسم کے دفاعی نظام کے کم زور ہوجانے کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔مثلاً غربت، غذائی قلّت، ذیابطیس، ایڈز، خون کی کمی، گُردوں کے امراض، تمباکو نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال وغیرہ۔

یاد رہے، قوّتِ مدافعت کی مضبوطی کا انحصار اچھی صحت، متوازن غذا اور صفائی ستھرائی کے بنیادی اصولوں پرہے۔تپِ دق کی عام علامات مسلسل تین ہفتے یا اس سے زائد مدّت تک بخار اور کھانسی ہیں، جو باقاعدہ علاج سے ٹھیک نہ ہوں، جب کہ دیگرعلامات میںکھانسی کے ساتھ بلغم میں خون آنا، سانس کا پُھولنا(بعض مریضوں میں سانس نہیں بھی پُھولتی)، زائد پسینہ (خصوصاًرات میں)، وزن میں کمی، بھوک نہ لگنااور سینے میں درد وغیرہ شامل ہیں۔اگر یہ علامات خاص طور پر کھانسی اور بخار تین ہفتے کے علاج کے بعد بھی ٹھیک نہ ہوں، تو ماہرِ امراضِ سینہ اور تپِ دق سے فوری معائنہ ناگزیر ہے۔

یوں تو ٹی بی نوّے فی صد پھیپھڑوں یا نظامِ تنفّس کی بیماری ہے، لیکن بعض اوقات یہ لمف گلینڈز، تولیدی اعضاء،دماغ، ہڈیوں، جوڑوں،جگر، گُردے،مثانے ،نظامِ ہضم اور جِلد کی جھلّی وغیرہ کی بھی ہوسکتی ہے۔ جسے طبّی اصطلاح میں اسے ایکسٹرا پلمونری(Extra Pulmonary)کہا جاتا ہے۔ کسی مخصوص عضو کی ٹی بی میں اس عضو کی بھی اپنی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاً اگر کسی کو دماغی ٹی بی ہے، تو عام علامات کے ساتھ دورے، جھٹکے،غنودگی یا بار بار بے ہوشی کی کیفیت طاری رہتی ہے۔بعض کیسز میں اعصابی و نفسیاتی امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔ ہڈیوں کی ٹی بی میں ہڈیوں کا درد، ہڈیوں کے زخم اورجوڑہل جانے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، جوڑوں کی ٹی بی میں جوڑوں میں درد،سُوجن اور ان میں پانی بھر جانا نمایاں علامات ہیں۔ تولیدی اعضاء کی ٹی بی میں بانجھ پَن،جب کہ پیٹ کی ٹی بی میں پیٹ درد،اسہال، خون یاپیپ کا پاخانے کے ذریعےاخراج وغیرہ ہوسکتا ہے۔یاد رہے،ان اعضاء کی ٹی بی کے علاج کے لیے بھی عام ٹی بی کی ادویہ ہی تجویز کی جاتی ہیں۔

تپِ دق کی تشخیص کے لیے عمومی طور پر ایکسرے، جِلد،خون اور بلغم کے ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔تاہم، بعض کیسز میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔رہی بات علاج کی ،تو اب یہ قابلِ علاج مرض ہے،بشرطیکہ مریض ادویہ کے استعمال میں ناغہ نہ کرے اور معالج کی ہدایت پر بھی سختی سے عمل کیا جائے۔ ٹی بی کے علاج میں تاخیرکئی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔مثلاً پھیپھڑوں سے خون کا اس قدراخراج کہ موت کا خطرہ لاحق ہوجائے، پھیپھڑوں میں زخم کے نتیجے میں سوراخ ہوجانا، پانی، پیپ اور ہوا بَھرجانا، جسم کا خطرناک حد تک سوکھ جانا وغیرہ۔علاوہ ازیں، علاج میں کوتاہی، کسی بھی وجہ سے علاج ادھورا چھوڑ دینا،معالج کا ادویہ کی درست مقدار تجویز نہ کرنا، اتائیوں سے علاج کروانا یا پھر غیر معیاری ادویہ کا استعمال عام تپِ دق کو ملٹی ڈرگ ریزیسٹینٹ ٹی بی (Multidrug resistant t.b) میں تبدیل کردیتا ہے،جس کا علاج منہگا،طویل دورانیےکا اور انتہائی تکلیف دہ بھی ہے۔ پھر بعض کیسز میں ملٹی ڈرگ ریزیسٹینٹ ٹی بی ناقابلِ علاج ہوجاتی ہے کہ اس صُورت میں جرثوما عام ٹی بی کی ادویہ کے خلاف اپنے اندر مدافعت پیدا کرلیتا ہے اور چوں کہ ٹی بی کی کوئی دوا مؤثر ثابت نہیں ہوتی،تو جرثوما بھی ختم نہیں ہوتا اور اُس کی افزایش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ 

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بعض اوقات ایم ڈی آر کا مریض بھی اپنے جراثیم کسی فرد میں منتقل کرکے تپِ دق کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔فی الوقت، ایم ڈی آر ٹی بی کا علاج طبّی سائنس کے لیےچیلنج بنا ہوا ہے۔اس وقت دُنیا بَھر میں تقریباً5لاکھ مریض ملٹی ڈرگ ریزیسٹینٹ ٹی بی کا شکار ہیں،جب کہ پاکستان میں ان مریضوں کی تعداد پینتیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں صرف ایک چوتھائی مریض ہی مکمل علاج کرواپاتے ہیں اور ایک بڑی تعدادجو علاج سے محروم ہے، دوسروں تک مرض منتقل کرنے کا مستقل ذریعہ بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، ٹی بی کے پھیلاؤ کا ایک اور سبب ادویہ کا کم یاب ہونا بھی ہے۔نیز،علاج کا دورانیہ طویل، صبر آزما اور نسبتاً منہگا ہونے کی وجہ سےصحت یابی کی شرح50فی صد سے بھی کم ہے۔ تاہم، فوری اثر پذیر ادویہ کے حوالے سے تحقیق کا عمل جاری ہے، تاکہ جلد از جلد دُنیا سے اس مرض کا قلع قمع ہوسکے۔ 

بچّوں کے حوالے سے بات کی جائے، تو بچّوں میں بیماری کی علامات بڑوں کی نسبت کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاًبخار اور کھانسی مستقل رہتی ہے، توکھانے پینے، کھیلنے کودنے سے رغبت ختم ہوجاتی ہے۔چہرے پرپیلاہٹ اور وزن میں واضح کمی دکھائی دیتی ہے۔ بچّہ مزاجاً چڑچڑا ،ضدی ہوجاتا ہے اور روتا رہتا ہے۔ ٹی بی کی تشخیص اور علاج کا طریقۂ کار بڑوں اور بچّوں میں یک ساں ہی ہے۔نیز، ادویہ کے مضر اثرات بھی دونوں ہی میں ایک جیسےظاہر ہوتے ہیں، البتہ بعض ادویہ ایسی ہیں، جن کا استعمال بچّوں کے لیےممنوع ہے۔تاہم، ویکس نیشن پروگرام میں بی سی جی کا ٹیکہ شامل ہے، لہٰذا مرض سے بچائو کےلیے پیدایش کے وقت بی سی جی کا ٹیکہ ضرور لگوایا جائے۔ 

یہ ٹیکہ بچّے کودس سے بارہ سال تک مرض سےتحفّظ فراہم کرتا ہے۔علاوہ ازیں،ہمارے معاشرے میںٹی بی سے متعلق چند مفروضات بھی عام ہیں،جن کا حقیقت سے دور پَرے کا بھی تعلق نہیں ہے ۔یاد رکھیے،ٹی بی موروثی مرض ہرگز نہیں، یہ چھوت کا مرض ہے، جو سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے فردکو متاثر کرسکتا ہے، جس کے لیے احتیاط ناگزیر ہے۔مشاہدے میں ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ ماں نومولود کو دودھ پلانے سے کتراتی ہے، تو اگر ماں اس مرض میں مبتلا ہے،وہ شیر خوار کو کسی ڈر و خوف کے بغیر اپنا دودھ پلا سکتی ہے،کیوں کہ دودھ پینے سے یہ بیماری ہرگز منتقل نہیں ہوتی۔ ٹی بی سے متاثرہ مریض سے ہاتھ ملانے یا ایک ہی برتن میں کھانے سے یہ مرض منتقل ہوتا ہے، نہ ہی لباس یا زیرِ استعمال برتن استعمال میں لانے سے ٹی بی لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ضمن میں سب سے اہم تو یہی ہے کہ اگرخدانخواستہ اہلِ خانہ میں سے کوئی فرد ٹی بی میں مبتلا ہوجائے، تو درست طریقۂ علاج اپنایا جائے،جس کے لیے کسی ماہرِ امراض ِسینہ سے رجوع کریں۔ مریض ماسک کا استعمال کرے کہ اس طرح جراثیم فَضا میں نہیںپھیلتے نہیں۔ کوشش کی جائے کہ مریض زیادہ سے زیادہ ہوادار جگہ پر رہے ، تاکہ جو جراثیم خارج ہوں، وہ ہوا میں تحلیل ہوجائیں۔ سرِعام تھوکنے سے قطعاً اجتناب برتا جائے۔نیز، ہلکی دھوپ میں بھی زیادہ سے زیادہ دیر بیٹھا جائے، کیوں کہ الٹراوائلٹ شعائیں قدرتی طور پر ٹی بی کے جراثیم کی ہلاکت میں معان ثابت ہوتی ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مریض علاج ہی نہ کروائے۔ علاوہ ازیں،تجویزکردہ ادویہ بلاناغہ معالج کی ہدایت کردہ خوراک کے مطابق استعمال کریں۔بلغم ڈھکن والے ڈبّے میں تھوکیں اور جب یہ بَھر جائے، تو اسے جلادیں یا پھر زمین میں دفن کردیں۔

متوازن غذا کا استعمال کیا جائے۔ البتہ وہ مریض، جنہیں ٹی بی کے ساتھ ذیابطیس، بُلند فشارِ خون یا کوئی اور بھی مرض لاحق ہو، تو وہ اپنے مرض سے متعلقہ احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کریں۔ تمباکو استعمال کرنے والوں میں ٹی بی کی شرح خاصی بُلنددیکھی گئی ہے،لہٰذا تمباکو نوشی سے ہر صُورت اجتناب برتا جائے ۔علاج کا دورانیہ لازماً مکمل کیا جائے،کیوں کہ مرض پیچیدہ ہونے کی صُورت میں صحت یابی آسانی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اہلِ خانہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنےمریض کا بَھرپور خیال رکھیں اور اپنی نگرانی میں ادویہ کھلائیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا کےذریعے اس بیماری سے متعلق معلومات عام کی جائیں۔ناقص،غیر معیاری ادویہ کے فروغ کی بیخ کنی ہو۔ مریض کی علالج معالجے تک رسائی جس قدر سہل بنائی جاسکتی ہے، بنائی جائے۔ 

مریض کے ساتھ رہنے والے افراد کی بھی لازماً اسکریننگ کروائی جائے۔ ٹی بی کے خاتمے کے لیےمعاشرے کے تمام با اثر افراد کو مل جُل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔واضح رہے کہ مشترکہ اور متفّقہ جدوجہد ہی کے نتیجے میں سن2000ء میں دُنیا بَھر میں جو سالانہ شرحِ اموات ایک کروڑ سینتیس لاکھ تھی، اب کم ہو کر ایک کروڑ رہ گئی ہے۔یاد رکھیے، جب تک اس کرۂ ارض پر ایک بھی مریض موجود ہے، اس بیماری کے پھیلاؤ کے امکانات بھی موجود ہیں، لہٰذا ایک مکمل اور قابلِ علاج مرض کو شکست دینے کے لیے ہر سطح پر ہر ممکن حد تک کوششیں کی جانی چاہئیں۔

(مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ سینہ اور تپِ دق ہونے کے ساتھ سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر، اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید