آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خواتین کا بین الاقوامی دن بنانے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف ہے

خواتین کے عالمی دن کےموقعے پر آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیرا ہتمام دوروزہ فرسٹ ویمن کانفرنس کا 6 اور 7 مارچ کو انعقاد کیا گیا ۔تقریب کے آغاز سے قبل جشن کا سماں تھا ۔شرکاء میں جوش وجذبہ قابل دید تھا ۔خواتین کا نفر نس میں مرد حضرات نے بھی نہ صرف بھر پور شرکت کی بلکہ مرد مقررین نے خواتین کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنفی تفریق کا خاتمہ ہونا چاہیے افتتاحی سیشن سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ،سیکریٹری پروفیسر اعجاز احمد فاروقی ،آئی اے رحمان ،ڈاکٹر مسعود حسن ،جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے خطاب کیا ،زہرہ نگاہ ،کشور ناہید نے نظمیں پیش کیں ۔جب کہ صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا ،انیس ہارون ،فاطمہ حسن ،امینہ سعید ،صادقہ صلاح الدین اور دیگر موجود تھیں ۔کمپیئرنگ ڈاکٹر ہما میر نے کی ۔ویمن کانفرنس میں آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور مرد برابر ہیں ۔

خواتین کا بین الاقوامی دن بنانے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف ہے
پہلی ویمن کانفرنس میں آرٹس کونسل کے صدر ، سیکریٹری اور چندمقررین خطاب کرتے ہوئے

ہمیں ہر طر ح سے عورتوں کو خود مختاربناناچاہیے،ان کو تمام حقوق دینےچاہیے ،تا کہ وہ معاشرے میںاپنا مقام بنا سکیں ۔سماج میں کوئی کسی سےکم تر یا بر تر نہ ہو بلکہ مرداورعورت دونوں مل جل کر ہر شعبے میںکام کریں یہی سماج کے لیے بہتر ہے ۔مردوں کو تو ہر شعبے میں حقوق مل جاتے ہیں لیکن خواتین اس سے محروم ہے ،جس کے لیے ہمیںآوازبلند کرنی ہو گی ۔یہ پاکستانی سماج کی 10 کروڑ خواتین کا مسئلہ ہے ۔ چاہے وہ گھروں میںکام کرتی ہوں ،کھیتو ں میں کام کرتی ہوں یابڑے بڑے دفاتر میں ۔غر ض یہ کہ تفریق کا سامنا سب کو ہی کرنا پڑ رہا ہے ۔جب کہ خواتین اپنے آپ کو ہر شعبے میں منوا رہی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ان کو مواقعے ملیں تو وہ ہر کام کرسکتی ہیں ۔ثمینہ بیگ نے چھوٹی سی عمر میں چوٹیاں سر کرکے ثابت کیا ہے پاکستانی عورت کسی سے کم نہیں ہے۔

مختلف شعبوں میں پاکستان کا نام خواتین نے ہی روشن کیا ہے ۔پاکستان کو ان 72 سالوںمیں صرف 2 آسکرز ایوارڈز ملےہیں ،ان میں سے ایک خاتون کو ہی ملا ہے ۔ایک مہذب معاشرہ ،اُس وقت تشکیل دیا جاسکتا ہے جب عورتوں کی عزت کی جائے ۔ خواتین کے مسائل ان کا ذاتی مسئلہ نہیںہے بلکہ یہ سماج کا مسئلہ ہے ۔ہمیں سماج کو بہتر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔جب کہی جاکر معاشرے میں بہتری آئے گی ۔اس موقع پر جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہاکہ پاکستان میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باوجود زیادتی کا شکار ہیں ۔سندھ میں خواتین کے لیے بہترین قانون سازی کی گئی ہے لیکن اس پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا ،ہمیں اس پر عمل در آمد کرنے کی ضرورت ہے ۔

ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام رائج ہے ،جس میں مرد یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عورتوں پر فوقیت حاصل ہے اور خواتین کو ہمیشہ ہم سے دب کر رہنا ہے ۔ا س کے علاوہ مرد عورتوں کے وراثتی حقوق کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں ،جو سراسر غلط ہے ۔خواتین کو دوووٹ کا حق ہونا چاہیے ایک ووٹ مرد کا اور دوسرا خواتین اُمیدوار کو دینا چاہیے ۔ اس دور میں خواتین کا انتخاب کوٹہ سسٹم پر نہیں بلکہ میرٹ پر ہونا چاہیے ،ہمیں یہ کوٹے کا لفظ ہی نکال دینا چاہیے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان احترام انسانیت کے لیے بنا یا گیا تھا لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے ہی خواتین کے ساتھ تعصب برتا گیا ہے ۔

عورتوں کے حقوق سلب کرنے میں خود مائوں کا کردار ہے ،جس کواب بدل جانا چاہیے ۔قیام ِپاکستان کے وقت ہماری خواتین نے بھر پور کردار ادا کیا تھا اور بانیِ پاکستان قائداعظم نے بھی تحریک پاکستان میں عورتوں کے کردار کو نمایاں مقام دیا تھا ۔صوبہ سرحد میں خواتین نے ہی اپنے مردوںکو پاکستان کے لیے قائل کیا ۔ ہمارے ملک میں خواتین کے استحصال کا سلسلہ قائداعظم کی وفات کے بعد سے شروع ہوا ہے ۔حالاں کہ عورتوں کو قیدیوں کی طر ح چار دیواری میں قید رکھنے کے لیے نہ مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ ہی معاشرہ ۔ آج کے جدید دور میں بھی 98 فی صد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں ،جن میں صرف دس فی صد ان کے خلاف آواز اُٹھا تی ہیں اور ان میں صرف 3 فی صد ہی عدالتو ں تک پہنچ پاتی ہیں اور باقی خاموشی کے ساتھ ظلم بر داشت کرتی رہتی ہیں۔

ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ ہماری 75 فی صد خواتین زندگی کے مختلف شعبہ جات میں کام کررہی ہیں لیکن اعدادوشمار میں ان کو صرف 25 فی صد ہی دکھایا جاتا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مردم شماری کی جگہ فردم شماری کرنے کی ضرورت ہے ۔تعلیم کے شعبے میں سب سے زیادہ میڈلز خواتین ہی حاصل کررہی ہیں ۔ آئی اے رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ محنت کش خواتین نے ہی اس دن کی بنیاد ڈالی ہے ۔اقوامی متحدہ نے بھی اس دن کو اپنا لیا ہے ۔تمام خواتین کی محنت کا احترام اور ان کی سماجی انصاف کی جدوجہد ہی 8 مارچ کی زندہ روایت ہے ۔ عورتوں کا بین الاقوامی دن ماننے کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے لیکن پاکستان میں محنت کش خواتین کو اجر نہ ملنے کے علاوہ ان کی خدمات کا اعتراف بھی نہیں کیا جا تا ۔

قیام پاکستان اور اس کے بعد چلنے والی تمام تحریکوں میں خواتین کا کردار نمایاں ہے ۔مسلمان معاشرے میں عورت کا مقام مغرب سے اُونچا ہے ۔1956 ء کے آئین میں خواتین کو مردوں کے برابر اُجرت دینے کی بات کی گئی، جس کونظر انداز کردیا گیا اور یہ زیادتی آج تک جارہی ہے لیکن اس پر آواز اٹھانے والا کو ئی نہیں ہے۔خواتین کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ امریکا کی صنعتی ترقی میں مردوخواتین دونوں کا کردار یکساں ہے۔پہلے سیشن کے اختتام پر معروف شاعرہ زہرہ نگاہ نے مشہور نظم میں ”بچ گئی ماں “اور کشور ناہید نے ”ہم گناہ گار عورتیں “پیش کیں جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔فرسٹ ویمن کانفرنس میں دونوں دن خواتین کے حوالے سے بہت سارے سیشنز کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ایک سیشن، ’’میری زندگی میرا اختیار ‘‘ میں عورت فائونڈیشن کی ڈائریکٹر مہناز رحمان کا کہنا تھا کہ مردوں کی عورتوں کے بارے میں منفی سوچ معاشرے کی تنزلی کا باعث ہے ۔آج کے دور میںیہ بہت بڑا یشیو ہے کہ مرد روزگار کے معاملے میں کمزور ہیں ،جس کی وجہ سے خواتین اس وقت دُہرےدباؤ کا شکار ہیں ۔معاشرتی بوجھ اُٹھانے کے باوجود عورت کے حقوق کو بالکل نظر انداز کردیاجا تا ہے ،جس سے معاشرے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔

سیشن ’’خواتین کو معاشی بااختیار بنانے ‘‘پر سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت کا خاتمہ خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے سے ممکن ہے ۔خواتین کو سر کاری ونجی شعبے میں ملازمتوں کے یکساں مواقع دینے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عورتوں کو ان کے حقوق نہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے آج کے اس جدید دورمیںبھی بہت سے ممالک کے لیڈران خواتین کے حساس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے ۔پاکستا ن میں بینک آج بھی خواتین کو کر یڈٹ دینے سے گزیز کرتے ہیں ۔

صوبائی وزیر برائے ترقی ونسواں شہلا رضا نے کہا کہ عورت کو معاشی طور پر مضبوط کرکے اسے تشدد سے بچایا جاسکتا ہے ۔معاشرے میں انصاف کے لیے ہر ایک کو مل جل کر جدوجہد کرنی ہوگی ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سیشن ’’عورت پر تشدد کیوں ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے بارہ سالہ پارلیمانی کیرئیر میں خواتین کے ایشوز کو ہمیشہ متنازعہ ہی دیکھا ہے ،تشدد صرف مارنا ہی نہیں بلکہ مارنے کی وارننگ دینا بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے ۔اس پر بھی قانون سازی کرنےکی ضرورت ہے۔ سندھ میں بچوں کی جبری شادی اور عورتوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون پر ایک بھی اعتراض نہیںکیا گیا ۔قانون کی کتاب روز موٹی ہوتی جارہی ہے لیکن اس پرعمل در آمد نہیں ہو رہا۔ اس موقع پر معروف صحافی غازی صلاح الدین کا کہنا تھاکہ گھریلو تشدد بہت زیادہ ہیں اس کے بارے میں غلط اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں۔ غربت اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے ۔کمزور مرد اپنا غصہ صرف عورت پر اترتا ہے ۔مڈل کلاس اور پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی تشدد کی مثالیں موجود ہیں ۔تشدد ہمارے نظام میں موجو د ہے۔

آخر میں شیما کر مانی کے رقص ،آرٹس کونسل کے میوزیکل بینڈ کی شاندار پر فارمنس اور خواتین کے مشاعرے نے کانفرنس میں چار چاند لگائیں۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعرہ ،کشور ناہید نے کی۔ اس میں ملک کی معروف شعراء کرام نے اپنا کلام پیش کیا ۔

رول آف میڈیا ان ویمن امپا ورمنٹ سیشن

پہلی ویمن کانفرنس میں ’’رول آف میڈیا اِن ویمن امپاورمنٹ ‘‘سیشن کا بھی انعقاد کیا گیا ،مقررین میں مظہر عباس ،اداکارہ ثانیہ سعید ،تسنیم احمر ،ڈرامہ نگار بی گل اور بختاور مظہر شامل تھے ۔نظامت کے فرائض معروف صحافی وسعت اللہ خان نے سر انجام دئیے ۔اس موقع پر خواتین کے میڈیا میں کردار کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ 

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ میڈیا میں ایک زمانے میں خواتین رپورٹر کا تصور نہیں تھا لیکن زمانہ بدلا اور چینلز آنے کے بعد میڈیا میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا، خواتین صحافیوں نے ہر قسم کے حالات میں کام کرکے ثابت کردیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ ثانیہ سعید نے کہا کہ ڈراموںکی شوٹنگ کے دوران بھی خواتین اداکاراؤں کو جنسی ہر اسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سیشن میں اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے بی گل نے کہا کہ ہراسمنٹ تو بچپن سے ہی شروع ہوجاتاہے۔ میری خواہش ہے کہ ایسے موضوعات پر ٹی وی مالکان کوبھی حصہ بنایا جائے جویہ سمجھتے ہیں کہ سینما ایک منجن ہے چاہے وہ جیسے بھی بکے۔