اسلام آباد(عمرچیمہ) خفیہ دستاویزات کاخزانہ ہاتھ لگنے سے انتہائی رازداری سے کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں میں ملوث پاکستان سمیت دنیا کے متعدد معروف شخصیات کے نام آشکار ہوئے ہیں،جس میں ملکی سیاستدانوں سمیت ،کاروباری شخصیات ، بینکرز اور ہائیکورٹ کے حاضر اور ایک ریٹائرڈ جج بھی شامل ہیں۔ دی نیوز نے ایک سال کی جدوجہد کے بعد انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلزم(آئی سی آئی جے) اور جرمن اخبار زیتوشے زائتونگ کی مدد سے یہ خفیہ دستاویزات حاصل کیے۔ آئی سی آئی جے کا کہنا ہےکہ دنیامیں دولت بھیجنے کے قانونی طریقے بھی ہیں اور ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ سب کام غیر قانونی ہے ۔آئی سی آئی جےنے76ممالک کی 100میڈیا تنظیموں کے ساتھ ان دستاویزات کاتبادلہ کیا، جوکہ جرمن اخبار کو کسی نے فراہم کیے تھے، ان خفیہ فائلوں کی تعداد1 کروڑ15لاکھ تھی،جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب کے رشتے داروں تک، بینظیر بھٹو ، جاوید پاشا،سینیٹر رحمان ملک سے سینیٹر عثمان سیف اللہ کا خاندان، ق لیگ کے چوہدری برادران کے رشتے داروسیم گلزار، زین سکھیرا (جوکہ حج اسکینڈل میں سابق وزیر اعظم گیلانی کے بیٹے کے ساتھ شریک ملزم ہے) کے نام موجودہیں۔ اتناہی نہیں بلکہ ہوٹلوں کے کاروبارسے منسلک صدرالدین ہاشوانی ، ملک ریاض کے بیٹے، حسین داؤد کے خاندان ، سفائر ٹیکسٹائل مل کے مالکان عبداللہ خاندان ، لکی ٹیکسٹائل کے گل محمدطبا ، مسعود ٹیکسٹائلزکے شاہدنذیر، ذوالفقا ر علی لاکھانی سے ذوالفقار پراچہ ، بار ایسوسی ایشن کے ارکان،لاہورہائیکورٹ کے جج فرخ عرفان اور ریٹائرڈ جج ملک قیوم نے بھی اپنی’ بچت ‘کو محفوظ رکھنے کیلئے غیر ملکی کمپنی کا استعمال کرتے ہوئے اسے یو ایس بی بینک میں جمع کرایا اور جائیدادیں خریدیں۔ ہلٹن فارما کے مالکان شہباز یاسین ملک نے سوئس بینک اکاؤنٹ کے لئے کمپنی کھولی .چیئرمین ABM گروپ آف کمپنیز کے اعظم سلطان ، پیزا ہٹ کے مالک عقیل حسین اور چیئرمین سورتی انٹر پرائز عبدالرشیدسورتی اور ان کے خاندان کے ارکان کی بھی اس نشاندہی ہوئی۔ عالمی سطح پر آئی سی آئی جے کو معلوم ہواکہ غیر ملکی کمپنیاں چلانے میں آئس لینڈکے وزیر اعظم ، برطانیہ کے وزیراعظم کے آنجہانی والد، آزربائیجان کے صدر کے بچے ، سعودی شاہ،روسی صدرکے قریبی ساتھی جنہوںنے بینکوںاور متبادل کمپنیوں کے ذریعے 2 ارب ڈالرکی جمع کی ، یوکرینی صدر، چینی صدرکے بردار نسبتی ودیگر شخصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چینی اداکار جیکی چن بالی وڈ کے امتابھ بچن اور ایشوریہ رائے کے ددیہال کا نام بھی اس میں شامل ہے۔ 4دہائیوں تک یہ ریکارڈ صیغہ راز میں رہا لیکن اب یہ منظر عام پرآچکاہے، اور ماضی میںغیر ملکی مقامات کےحوالےسے ہونیوالے مباحثوںکوبھی جلاملی کیونکہ شکوک کی تصدیق ہوئی، ان غیر ملکی مقامات میں برطانوی جزائر ورجن ،پانامہ ، جمہوریہ سیچیلس وغیرہ۔ پانامہ میں ایک لاء کمپنی موزاک فنیسکاکے پاس بین الاقوامی سطح غیرملکی موکلات کا ریکارڈ ہے۔ اس سلسلے میں 200پاکستانیوں کی نشاہدہی کی جاچکی ہے اوریہ گنتی ابھی جاری ہے ، مزیدکتنے پاکستانی کتنی لاء فرمز کا استعمال کرکے غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت اپنے پاس رکھتے ہیں اس کا اندازہ نہیں،حالانکہ اب تک محض ایک ہی کمپنی کاریکارڈ دستیاب ہوا ہے۔ یہ ریکارڈ1977سے2015تک کاہے۔ 1990کے ریکارڈ میں پاکستانیوں کانام بھی آنا شروع ہوا۔ بیرون ملک خفیہ کمپنیاں رکھنے والوں میں لکی مروت کا سیف اللہ خاندان سرفہرست ہے، اس کی برطانوی جزائرورجن اورجمہوریہ سیچیلس میں 34کمپنیاں ہیں، جن کے مالک سینیٹر عثمان سیف اللہ ،انور سیف اللہ ،سلیم سیف اللہ، ہمایوں سیف اللہ ، ڈاکٹر اقبال سیف اللہ ،جاوید اور جہانگیر سیف اللہ ہیں۔ ان کمپنیوں کے ہانگ کانگ، سنگاپور،آئرلینڈ میں بینک اکاؤنٹس ہیں اور برطانیہ میں جائیدادیں ہیں۔ سینیٹرعثمان سیف اللہ ٹیکس اصلاحاتی کمیشن کے رکن ہیں ۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہےکہ مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز بھی ایسی چار غیر ملکی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہبازشریف کے دشتہ دار ثمینہ درانی اور الیاس مہراج کے نام بھی ان دستاویزات میں شامل ہیں۔ تیل برائے خوراک پروگرام میں ایک کمپنی پر رشوت کےالزام کے اسکینڈل میں بینظیربھٹو، انکے بھتیجے، حسن علی جعفری اور سینٹر رحمان ملک کا نام بھی دوبارہ سامنے آیا ، کیونکہ تینوں پیٹرولائن انٹرنیشنل کمپنی کے حصے دارتھے۔ ریکارڈ میں 5 کمپنیوں کے ساتھ جاوید پاشا کا نام بھی منسلک نظر آیا ، ان کمپنیوںکے دیگر اسٹیک ہولڈرز معروف بھارتی نژادکاروباری افراد ہیں۔ اس سلسلے میں جب موقف حاصل کرنے کیلئے مذکورہ شخصیات سے رابطے کی کوشش کی گئی تو صدر الدین ہاشوانی، الیاس معراج، جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم اور عقیل حسین ، حسین نواز نے جوابات دیے۔اعداد و شمار کے تجزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خفیہ دنیا میں بعض شخصیات نئی ہیں، دیگر افراد نے اپنی کمپنیوں کو شامل کیاتاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا اور پھر وہ ختم ہوگئیں جبکہ کئی شخصیات نے کمپنیوں کو فعال رکھا اور اپنے مقاصد حاصل کرتے رہے۔ ای میلز، اسپریڈ شیٹس، پاسپورٹس، شیئرہولڈرز کے دستخط، بینک اکائونٹس کی تفصیلات، جائیداد کے کاغذات، ڈائریکٹرز کے فیصلوں اور رابطے کی تفصیلات کے حوالے سے پاکستان اور بیرون ملک ملکیت کا ریکارڈ مختلف رہا۔ آف شور انڈسٹری بہت سی ایسی سروسز فراہم کرتی ہے جو مخصوص خطے جیسے برٹش ورجن آئی لینڈ، چینل آف آئی لینڈ، دی بہاماس، جمہوریہ پانامہ،جمہوریہ سیچیلیس، جزیرہ نیووے وغیرہ کی حدود میں قانونی ہوتی ہیں۔ آف شور انڈسٹری میں پاکستانی شخصیات کی موجودگی کے حوالے سے قابل غور بات یہ ہے کہ ٹیکس کی جنت کہلانے والے ان علاقوں میں کاروبار کا مقصد کیا ہے اور آیا انہوں نے اپنے ان کاروبار کو ٹیکس گواشواروں میں ظاہر کیا یا نہیں۔ مجموعی طور پر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی ایسی کمپنیوں کے مالک منشیات کی اسمگلنگ، چوری اور دھوکہ دہی میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔دائود ابراہیم کے قریبی ساتھیوں جنید اقبال میمن، نادیہ جاوید ملک اور حرا اقبال میمن بھی کمپنیوں کی مالک ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی فنڈنگ کا ذریعہ کیا ہے تو انہوں نے برٹش ورجن آئی لینڈ کی انتظامیہ کو بتایا کہ قرضے لے کر فنڈز حاصل کیے جاتے ہیں۔ آئی سی آئی جے اور اس کے پارٹنرز ان فائلز کے تجزیے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ منی لانڈرنگ کا سزا یافتہ شخص ، منشیات اسمگلرز، ٹیکس چور اور کم سے کم ایک جنسی جرائم کا مجرم بھی ہے جوکہ غیر ملکیوںکمپنیوںکامالک ہے۔ دستاویزات میں فیفا اسکینڈلز میں شامل افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں افشاء ہونے والی دستاویزات کے مطابق اگرچہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی براہِ راست ملکیت میں کوئی غیر ملکی کمپنی نہیں ہے لیکن تقریباً 8؍ ایسی کمپنیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن کا تعلق وزیراعظم کے بچوں سے ہے یا پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے رشتہ داروں سے ہے۔ ریکارڈز کے مطابق مریم نواز شریف 1993 اور 1994 میں قائم کی گئی دو کمپنیوں کی خفیہ مالک ہیں۔ وہ ایک اور کمپنی کی شیئر ہولڈر بھی ہیں جو ان کی اور حسین نواز کی مشترکہ ملکیت ہے۔ حسن نواز بیرون ملک قائم ایک کمپنی کے اکیلے مالک ہیں۔ ان کمپنیوں کو 2007 اور 2008ء کے دوران لندن میں 6؍ مخلتف جائیدادیں خریدنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ شہباز شریف کے رشتے دار الیاس مہراج، ایک کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈر ہیں حالانکہ وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی رشتہ دار ثمینہ درانی کی تین کمپنیاں ہیں جن میں سے نئی کمپنی 2010ء میں قائم کی گئی تھی۔ دی نیوز نے اس سلسلے میں خفیہ دستاویزات حاصل کی ہیں جس میں اسے بین الاقوامی تحقیقاتی صحافیوں کے گروپ اور جرمن اخبار زیتوشے زائیتونگ کی معاونت حاصل تھی۔ مریم، حسین اور حسن کی ملکیت میں جو چار کمپنیاں ہیں ان کے نام یہ ہیں: نیسکول لمیٹڈ، نیلسن ہولڈنگز لمیٹڈ، کومبر گروپ انکارپوریٹڈ اور ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز لمیٹڈ۔ بی وی آئی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق مریم نواز کمپنیوں کی مالک ہیں جبکہ مالی ذرائع میں ’’خاندانی کاروبار‘‘ بتایا گیا ہے جبکہ پتہ جدہ کا سرور محل لکھا گیا ہے۔ 2007ء اور 2008ء کے دوران ان غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے لندن میں کم از کم 6؍ جائیدادیں خریدی گئیں۔ نیسکول، نیلسن اور کومبر نے چار جائیدادوں کیلئے سوئس بینک، ڈوش بینک (سوئس) کے ساتھ 70 لاکھ برطانوی پائونڈز کا مارگیج معاہدہ کیا۔ ہینگون نے بینک آف اسکاٹ لینڈ سے قرضہ لے کر دو جائیدادیں خریدیں۔ اگرچہ ہینگون کے قرضہ کی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن نواز نے 2007ء میں لائبیریا کے ایک باشندے سے یہ کمپنی تمام اثاثوں سمیت ساڑھے پانچ ملین پائونڈز میں خرید کی تھی۔ ان سب میں پرانی کمپنی نیسکول ہے جسے 27؍ جنوری 1993ء کو رجسٹر کرایا گیا تھا؛ یعنی نواز شریف کے مستعفی ہونے سے 6؍ ماہ قبل۔ نیسلن ہولڈنگز لمیٹڈ 14؍ اپریل 1994ء میں قائم کی گئی۔ ان دونوں کمپنیوں نے برٹش ورجن آئی لینڈ کی کارپوریٹ سروس پرووائیڈر موسیک فونسیکا کمپنی سے 26؍ جولائی 2006ء اور مینروا سروس لمیٹڈ سے خدمات حاصل کی تھیں جنہوں نے نیل سہائی اور مارک اینڈریو کے ذریعے ہینگون اور نیسکول کے پراکسی شیئر ہولڈرز کے طور پر کام کیا۔ جس وقت نیسکول، نیلسن اور کومبر نے سوئس بینک سے سات ملین پائونڈز کا مارگیج حاصل کیا اس وقت ان کا ایڈمنسٹریٹر موسیک فونسیکا تھا اور ان کمپنیوں کے ذریعے لندن W1K کے علاقے 118 پارک لین میں ایوین فیلڈ ہائوس میں چار فلیٹ (16، 16 اے، 17 اور 17 اے) خریدے گئے۔ مریم نواز نیسکول اور نیسلن کی تنہا مالک ہیں جبکہ کومبر کمپنی مریم اور حسین نواز کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اسی دوران بینک آف اسکاٹ لینڈ نے حسن نواز کی کمپنی ہینگون کو لندن W2 میں ہائیڈ پارک پلیس ون کے قریب جائیداد کی خریداری کیلئے نامعلوم مالیت کے قرضے کی منظوری دی۔ جہاں تک نیسکول اور نیلسن کی خفیہ ملکیت کا تعلق ہے تو یہ 22 جون 2012ء تک اس وقت تک خفیہ رہی جب برٹش ورجن آئی لینڈ انتظامیہ کی جانب سے کرائی جانے والی مالیاتی تحقیقات کے دوران کمپنیوں کے سروس پرووائیڈرز کو کمپنیوں کے اصل مالکان اور کمپنیوں کے مالی ذرائع کے متعلق سوالوں کے جواب دینا پڑے جس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ کمپنیوں کی مالک مریم نواز ہیں جبکہ مالی ذرائع (سورس آف فنڈنگ) میں خاندانی کاروبار بتایا گیا۔ حسن نواز نے 2008ء میں موسیک فونسیکا کی جگہ کسی اور شخص کو کمپنی کا ایجنٹ مقرر کر دیا۔ 2014ء میں باقی تین کمپنیوں کے ایجنٹس کو بھی تبدیل کر دیا گیا لہٰذا اس تبدیلی کے بعد کمپنیوں کی سرگرمیوں کا علم نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کے رشتہ داروں سے جڑی چار کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ہیلینڈیل لمیٹڈ کمپنی بہاماس میں 24 جولائی 2003ء میں رجسٹر ہوئی جس میں حبیب وقاص گروپ / الیاس مہراج کو شیئر ہولڈر بتایا گیا ہے جن کے 127735 شیئرز ہیں۔ دیگر شیئرہولڈرز میں کریڈٹ سوئیز لائف اینڈ پنشنز (125000 شیئرز)، ہائی اوکٹین فنڈ (9 لاکھ شیئرز) اور مائیکل میٹز (ایک لاکھ شیئرز) شامل ہیں۔ 4؍ ستمبر 2004ء کو ایک اجلاس ہوا تھا کہ جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر ، حسیب وقاص گروپ / الیاس مہراج کے چار لاکھ شیئرز مارک ولسن کو منتقل کرائیں گے۔ تاہم، الیاس مہراج نے اس تاثر کی دو ٹوک الفاظ میں نفی کی۔ ان کے ترجمان کی جانب سے دیئے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے آپ کی ای میل کے مندرجات پڑھے ہیں اور انہیں دیکھ کر حیران ہوئے ہیں۔ ہمیں ہیلینڈیل نامی ایسی کسی کمپنی کا علم نہیں جو بہاماس یا کہیں اور رجسٹرڈ ہے۔ جہاں تک حسیب وقاص / الیاس مہراج گروپ کے اس کمپنی میں شیئرز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا، ہم اس ضمن میں کسی طرح کے سوالات کا جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔‘‘ تہمینہ درانی اور ثمینہ درانی کی ملکیت میں تین غیر ملکی کمپنیاں ہیں: رینبو لمیٹڈ (جسے برٹش ورجن آئی لینڈ میں 29؍ ستمبر 2010ء کو رجسٹر کرایا گیا)، آرمانی ریور لمیٹڈ (جسے 16؍ مئی 2002ء کو بہاماس میں رجسٹر کرایا گیا) اور اسٹار پریسیشن لمیٹڈ (جسے برٹش ورجن آئی لینڈ میں 21 مئی 1997ء کو رجسٹر کرایا گیا)۔ آرمانی کے اثاثوں میں لندن کی جائیداد شامل ہے۔ یہ جائیداد فی الحال کرایے پر نہیں دی گئی۔ اسٹار پریسیشن لمیٹڈ کے اثاثوں میں نقد رقم بتائی گئی ہے۔ اس کمپنی کے پاکستان میں اوریکس لیزنگ پاکستان لمیٹڈ میں 11 لاکھ 65 ہزار 238 شیئرز ہیں۔ تہمینہ درانی کی والدہ کو بھیجے گئے سوالوں کے جوابات بھی تاحال موصول نہیں ہوئے۔ اپنے عوامی تعارف کی وجہ سے اگرچہ توجہ زیادہ ترسیاستدانوں کو ملتی ہے لیکن بیرون ملک (آف شور) کمپنیاں بنانے والوں کی لیک ہونے والی فہرست میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق تاجرپیشہ طبقے سے ہے۔ ان میں جوکاروباری شخصیتیں شامل ہیں ان میں ہوٹل انڈسٹری کے ٹائیکون، ٹیکسٹائل سیکٹر، ریئل اسٹیٹ، فارماسیوٹیکل، بینکنگ اور میڈیا مالکان شامل ہیں۔ذولفقار لاکھانی (لیکسن گروپ ) تین کمپنیوں کولگیٹ پامولیو، ٹیٹلی کلوور اور کلوور پاکستان کے مالک ہیں اور ان کی کمپنی برطانوی ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کمپنی کا نام Lezayreلمیٹڈ ہے اور یہ سال2000سے رجسٹر ہے۔ پراکسی شیئر ہولڈر بینسن ایکویٹیز انکارپوریشن ، بروک نامنیزلمیٹڈ اور ٹینبی نامنی لمیٹڈ ہیں۔اس حوالے سے اطلاعات 4نومبر 2015کو بی وی آئی نے شیئر کیں جن میں پاکستان میں کاروبار کرنے والے بزنس مین کے طور پر اس کا تعارف کرایا گیا۔اس کمپنی کی سرگرمیوں میں اثاثے بنانااور بنک میں پیش کیے جانے کے قابل اثاثے بنانا شامل ہیں۔ اس کمپنی کی دولت کے ذرائع میں وراثت اور کاروباری آمدن شامل ہیں۔ اس حوالے سے دی نیوز نے موقف جاننے کےلیے جوسوالات بھیجے ان کا کوئی جواب نہیں مل پایا۔ہاشو گروپ کے مالک صدر الدین ہاشوانی بھی اپنے بیٹے مرتضیٰ کے ساتھ ایک خفیہ کمپنی کے مالک ہیں۔ برطانوی ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی) میں رجسٹر یہ کمپنی فرسٹ انویسٹمنٹ ہولڈنگ لمیٹڈ ہے اور یہ کارپوریٹ پراکسیز کے ذریعے چلتی ہے اس کے شیئر ہولڈر نارتھ اٹلانٹک سروسز لمیٹڈ اور رش لیک ہوٹل انکارپوریشن امریکا ہیں جو کہ فلوریڈا میں رجسٹر ہے اور یہ ایک اور ٹیکس سے چھوٹ کی جگہ (ٹیکس ہیون) ہے۔جب ان کمپنیوں کے مالکان کے حوالے سے بی وی آئی انتظامیہ کے اصرار پر انکشاف ہوا تووہ صدر الدین ہاشوانی اور ان کابیٹا مرتضیٰ ہاشوانی تھا۔اس کمپنی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کا کام سرمایہ کاری اور اثاثے پاس رکھنا ہے اور ان کی سرگرمیاں پاکستان، نائیجریا، امریکا، متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ اس کے بڑے شیئر ہولڈرز میں رش لیک ہوٹل انکارپوریشن امریکا شامل ہیں۔فرسٹ گلوبل اوریئنٹ پٹرولیم انکارپوریشن کے شیئر رکھتی ہے اور اسٹینڈرڈ بنک پی ایل سی سے ہونے والے20ملین پائونڈ کے گروی رکھنے کا ایک معاہدہ طے پایا۔ ایک اور کمپنی سیلیٹیکو کیپٹل مینجمنٹ کے مالک مرتضیٰ ہاشمی ہیں ۔ہاشو گروپ کے حوالے سے ایک تفصیلی وضاحت اس خبر کے آخر میں دی گئی ہے۔احمد علی ریاض املاک کے کاروبار کے ٹائیکون ملک ریاض کا بیٹا ہے اوروہ بی وی آئی میں رجسٹر ڈ کمپنی ویسٹ تھروپ انٹرنیشنل لمیٹڈ کے حصص یافتگان میں ہیں،ا ن کے ساتھ ان کی کمپنی کےشریک مالک رگھووندر کاتاریاہیں۔علی ریاض نے اس حوالے سوالات پر اپنا موقف دیا جو اس خبر کے آخر میں دیا گیا ہے۔شہبازیاسین ملک ہلٹن فارما کے مالک ہیں ان کی ایک کمپنی بلیڈہرسٹ انکارپوریشن بی وی آئی میں رجسٹر ہے۔ اس کے قیام کا جو مقصد بتایا گیا ہے اس میں ایک بینک اکائونٹ ہولڈ کرنا بتایا گیا ہے جس کہ ریورخ کے ایک سوئس بینک ڈریسڈنر میں ہے۔ اس اکائونٹ کے زیر دستخطی افراد میںخاندان کے پانچ افراد ہیں جن میں باپ، بیٹے اور بیوی شامل ہیں۔ اس حوالے سے بھیجے گئے سوالنامے کا بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔سیفائرٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کی عبداللہ فیملی کا برطانوی ورجن آئی لینڈ اور سیشلز میں قائم پانچ کمپنیوں سے تعلق بتایا جاتا ہے ۔یہ سب اپریل مئی 2014میں بنیں ۔ سلور لینڈ اسٹیٹ لمیٹڈ بی و آئی میںرجسٹرڈ ہےاور محمد عبداللہ اور ان کی بیوی اس میں حصہ دار ہیں۔ مالک کی معلومات والی دستاویز میں لکھا ہے ’’ کہ یہ معلومات ہمارے ریکارڈ میں خفیہ رکھی جائیں گی‘‘ کمپنی کے پاس موجود اثاثوں کی اندازاً قیمت دس لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔ کچھ اسی طرح کے اثاثوں کی وضاحت گرین ڈیل مینجمنٹ لمیٹڈ کی ہے جس کے شیئر ہولڈر یوسف عبداللہ اور ان کی اہلیہ ہیں۔شاہد عبدللہ اور ان کا کاندان گرین ڈیل مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے حصص کو کنٹرول کرتا ہے۔ ندیم عبداللہ اور ان کا کنبہ ڈیزرٹ پراپرٹیز لمیٹڈکا شیئر ہولڈر ہے۔ امیر عبداللہ اور ان کا خاندان مائیکروٹیکس ہولڈنگ لمیٹڈ کا مالک ہے۔ اس حوالے سے بھجوائے گئے سوالات کا عبداللہ فیملی نے کوئی جواب نہیں دیا۔حسین دائود خاندان سے متعلق دوکمپنیاں بھی فائل میں موجود ہیں۔ان میں سے کارلینو لمیٹڈ 2005میں بی وی آئی میں رجسٹر ہوئی اور اس کے ڈائریکٹر ز میں حسین دائود ، شاہزادہ دائود اور عبداللہ صمد دائود کی نشاندہی کی گئی ہے(یہ دو آف شور کمپنیاں بازار انویسٹمنٹ لمیٹڈ اینڈ رازاران انویسٹمنٹ لمیٹڈ )اور ایک سعد راجہ ہے۔اگست 2009میں دائود نے بازار اینڈرازاران کے حصص منتقل کرکے استعفیٰ دے دیا۔ ان کمپنیوں بازار اینڈ رازاران کے مالک کون ہیں اس پر قیاس ہی کیاجاسکتاہے کیونکہ انہیں کارپوریٹ پراکسیز کے ذریعے کنٹرول کیاجاتا ہے۔ اس حوالے سے بھجوائے گئے سوالات کا جوا ب بھی نہیں مل پایا۔ کارلینو سے پہلے ایک اور کمپنی عشتر فنانس لمیٹڈ رجسٹرکرائی گئی جس میں حسین دائود، شہزادہ دائود اور عبدالضمد دائوداس کے شیئر ہولڈرز میں شامل تھے۔سلطان علی الانہ حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئر مین ہیں اور خواجہ اقبال حسن این آئی بی کے سابق صدر ہین اور ان کے پاس سوئس فکسڈ انکم ایڈوائزر کی پاور آف اٹارنی ہے یہ کمپنی بی وی آئی میں اپریل 1999میں رجسٹر ڈہوئی۔اس حوالے سے دی نیوز کے سوالات پر ایک تفصیلی جواب موصول ہوا جو اس خبر کے آخر میں ہے۔ شاہد نذیر سی ای او مسعود ٹیکسٹائل ملز ہیں اور ان کا تعلق بہاماس میں قائم کمپنی ریڈفورڈ انٹرنیشنل لمیٹڈ سے ہےجوکہ2000میں رجسٹر ہوئی ۔اس کی پاور آف اٹارنی ان کے اور نازیہ نذیر کے پاس ہے جو کہ اے بی این ایمراین وی لندن کے بینک کھاتوں کے حوالے سے ہے۔اس حوالے سے بھجوایا گیا سوالنامہ اس اعتراض کے ساتھ واپس لوٹا دیا گیا کہ ’’ یہ میری بیوی کا نام نہیں ہے‘‘ حقیقت یہ ہےک ہ دی نیوز نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ نازیہ ان کی بیوی ہے اور اس کی وضاحت بھی کر دی گئی تاہم ا س کے بعد کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔سلاٹ ریپڈ ایک بی وی آئی رجسٹر کمپنی ہے جو 2005میں رجسٹر ئی اس کے پراکسی ڈائریکٹر ہیں جب کہ پاور آف اٹارنی بکسلے پینٹس کےبشیر احمد اور جاوید شکور کے پاس اور برجر پینٹس کے محمود احمد کے پاس ہے۔ کمپنی کے سرمایہ کاروں کے اکائونٹس سی ڈی سی لمیٹڈ کے پاس ہیں اس حوالے سے بھجوائے گئے سوالنامے پربھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اعظم سلطان اے بی ایم گروپ آف کمپنیز سے ہیں اور انہیں پانامہ میں پانچ کمپنیوں کا مالک بتایاجاتا ہے ا ن کمپنیوں میں ان کی بیوی اور بیٹا بھی ان کے حصہ دار ہیں ۔ وہ کمپنیاں اے بی ایم ورلڈ وائیڈ ٹیکنالوجیز، سلاطین انٹرنیشنل کارپوریشن ، ویٹن انٹرپرائز انکارپوریشن، سیسن انٹرنیشنل کارپوریشن اینڈ ریسٹن انٹرنیشنل کارپوریشن انکارپوریشن ہیں۔ اس حوالے سے بھجوائے گئے سوالنامے کے جواب موصول نہیں ہوئے۔پاکستان میں پیزا ہٹ کے مالک عقیل حسین اور ان کے بھائی تنویر حسین کو آسٹیل ایس اے کمپنی کا مالک بتایا گیا ہےعقیل نے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی ان کے بھائی نے بنوائی جس کا مشرق وسطیٰ میں کاروبار کرنے کا منصوبہ تھا اور وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ آیا ان کمپنیوں کو استعمال کیا گیا یا نہیں۔ یونیورسل کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذوالفقار پراچہ مناورا ہولڈنگز انکارپوریشن کے مالک ہیں یہ کمپنیاں 2014میں پنامہ میں رجسٹر ہوئی تھیں، وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اس مین شیئر ہولڈر ہیں۔ اس کمپنی کی آمدن کے ذرائع کاروباری منافع بتایا گیا ہے۔ اس کے حوالے سے بھجوائے گئے سوالنامے کا جواب موصول نہیں ہوا۔جنگ گروپ کے میرشکیل الرحمٰن نے بی وی آئی میں میرین پراپرٹیز کمپنی 22اکتوبر2001میں بنائی اور یہ غیر فعال رہی اور بالآخر تحلیل ہوگئی۔ اس نمائندے نے اس حوالے سے جب اپنا سوالنا مہ ارسال کیا کہ بی وی آئی میں کمپنی رجسٹر کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کے بینک اکائونٹس کیا تھا اور کیا اسے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیا گیا یا نہیں توجواب میں جو دستاویزات میرشکیل الرحمٰن کی جانب سے سےپیش کی گئیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کمپنی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کےلیے ایک مشترکہ منصوبے (جائنٹ وینچر ) کے طور پر قائم کی گئی تھی تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوپایا چنانچہ نہ تو کوئی بینک اکائونٹ کھلوائے گئے اور نہ ہی اس کے ذریعے کوئی کاروبار ہوا اور بالآخر یہ کمپنی تحلیل ہوگئی۔ انہوں نے پیشکش کی حکومت یاادارے اگر کوئی تحقیق کرنا چاہیں تو وہ تعاون کےلیے تیار ہیں۔گوہر اعجاز چینل 24کےفنانسر ہیں اور پراپرٹی کے کاروبار کے بڑے کاروباری شخصیت ہیں، وہ تین کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں سن انٹرنیشنل ٹریڈنگ لمیٹڈ ،پلاٹینم انٹرنیشنل انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور پلاٹینم ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ ان میں سے پہلی کمپنی 2004میں بی وی آئی میں قائم ہوئی تاہم غیر فعال رہی اور جنوری2007میں دوبارہ رجسٹر ہوئی۔ بعدمیں یہ دونوں کمپنیاں مئی2008میں سیشلز میں رجسٹر ہوئیں۔ وہ الدعا انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور مالش لمیٹڈ کمپنیوں کے حصص کے مالک بھی ہیں۔گوہر نے پہلے دی نیوز کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں کاروبار کےلیے آف شور کمپنیوں کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر یو اے ای کے شہری کو پارٹنر بنانا پڑتا ہے۔ چونکہ آف شورکمپنیاں راس الخیمہ میں بھی رجسٹر ہوسکتی ہیں چنانچہ اسے سوال بھیجا گیا کہ اس نے بی وی آئی اور سیشلز میں کمپنیاں کیوں بنوائیں اور آیا کیا انہوں نے ٹیکس ریٹرن میں اس کا اظہار کیا ہے یا نہیں۔تاہم اس کے بعد کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ہاشوگروپ کا موقف: آئل اینڈ گیس سیکٹر میں ہولڈنگ کمپنیاں بنانا ایک روایت ہے ۔بہت سی دیگر غیر ملکی ای اینڈ پی کمپنیاں پاکستان میں اس اسٹرکچر کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ یہ چیز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہر جگہ ایک معمول کی چیز ہے اور یہ دونوں نجی اور سرکاری کمپنیاں ایسا کرتی ہیں تاہم یہاں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کسی بھی طرح سے قانونی ذمہ داری جیسے کہ ٹیکس وغیرہ ، گورنمنٹ آف پاکستان کو رائلٹیز کی ادائیگی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں جو شاخیں کام کر رہی ہیں وہ مقامی قواعد وضوابط کے تحت کام کرتی ہیں اور ریگولیٹری حکام ان کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ان ریگولیٹری اتھارٹیز میں ڈی جی پی سی، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور بی او آئی وغیر ہ شامل ہیں۔ فرسٹ گلوبل اوریئنٹ پٹرولیم انکارپوریشن کی صرف ہولڈنگ کمپنی ہے جبکہ او پی آئی آئی پاکستان میں اپنی رجسٹر برانچوں کے ذریعے کام کر رہی تھی اور اسے کام کی اجازت حکام نے دی ہے اور وہ وزارت پٹرولیم و معدنیات کے تقاضوں پر مکمل عملدرآمد کرتی ہے۔چونکہ ان کے آپریشن پاکستان میں تھے چنانچہ تمام ٹیکس ادا کیے گئے ، رائلٹیز ادا کی گئیں ،وفاقی ایکسائز ڈیوٹیاں اور سیلز ٹیکس وغیرہ سب کچھ پاکستانی قوانین کے مطابق ادا کیے گئے۔ فرسٹ گلوبل تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کرتی ہے اور کوئی چیز یا تفصیلات چھپاتی نہیں ہے۔خواجہ اقبال حسن کا سوئس فکسڈ انکم ایڈوائزرز پر موقف۔ جن فنڈز کا آپ نے اپنی ای میل میں حوالہ دیا ہے جو یہ یو بی ایس سیکورٹیز پاکستان لمیٹڈ نے یو پی ایس اے جی کو بھجوائے تھے یہ یو بی ایس اے جی کے ریفرنس تھے ۔ دوسری چیز یہ کہ یوبی ایس پاکستان یو بی ایس اے جی کی ذیلی کمپنی ہے اور بہت سی ٹرانزیکشنز ہوئیں جو کہ یومیہ بنیادوں پر تھیں یہ بینکنگ چینلز کے ذریعے ہوئیں جس میں غیر ملکی زرمبادلہ ملک میں آیا بھی اور باہر بھی گیا۔ یو بی ایس اے جی دنیا کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک ہے اور ایک وقت تھا جب وہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ اور انویسٹمنٹ ایڈوائزری میں سب سے بڑا شراکت دار تھا ۔تیسری بات یہ ہے کہ جن رقوم کا آپ نے اپنی ای میل میں حوالہ دیا ہے وہ سرکاری بینکنگ چینلز کے ذریعے ٹیکس ادا کرنے کے بعد بھجوائی گئیں اور ملک میں جو رقوم لائی گئیں وہ یوبی ایس سیکورٹیز پاکستان کے کھاتوںکے ذریعے لائی گئیں۔اور پھر اس بینک اکائونٹس سے سوئس فکسڈ انکم ایڈوائزر ایس کےلیے بجھوائی گئیں اور یہ ساری ادا ئی گیاں یوبی ایس اے جی کے بینک ڈرافٹ کےذریعے کی گئیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ وہ تما م رقوم جن کا آپ نے اپنی ای میل میں حوالہ دیا ہے وہ یوبی ایس اے جی کے حوالے کی گئیں وہ بھی بینک ڈرافٹ کی شکل میں اور اس سے مستفید ہونے والا واضح طور پر یوبی ایس اے جی ہے۔ یوبی ایس اے جی نے بینک ڈرافٹ حاصل کرنے کا ثبوت بھی دے رکھا ہے۔ تو اس طور سے پوری رقوم سرکاری طور پر ٹیکسز کی کٹوتی اور یوبی ایس اے جی کی ادائیگی کے بعد منگوائی گئی۔احمد علی ریاض کا موقف: احمد علی ریاض نے رابطہ کرنے پر اپنے جواب میں کہا کہ میراکسی کے ساتھ کوئی کاربار نہیں ہے۔ یہ بالکل غلط خبر ہےسب جانتے ہیں کہ ہمرے جتنے بھی منصوبے ہیں وہ پاکستان میں ہیں ۔ہمارا ایک بھی منصوبہ باہر نہیں ہے سب کاروبار پاکستان میں ہے۔ ہم نے اربوں روپے باہرسے ملک میں لائے جن کے ٹیکس کے کاغذات بھی موجود ہیں ، کئی سال سے بحریہ ٹائون میں باہر سے سرمایہ آرہا ہے۔ہم پاکستان میں املاک فروخت کرتے ہیں، ہم باہر سے پیسہ لائے نہ کہ ملک سے باہر لے کر گئے۔جو پاکستانی باہر رہتے ہیں ان کا بہت بڑا سرمایہ آتا ہے، پچھلی حکومتوں میں بھی ہمارے خلاف الزامات لگے۔کئی مرتبہ قانونی برادری کے لوگ بھی ہمارے پیچھے پڑے لیکن ثابت ہوا کہ ہم نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ ہم نے اللہ کے فضل سے صاف کاروبار کیا۔ہمارے والد صاحب نے عام آدمی سے سفرکرتے ہوئے اپنے گروپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔