آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍شوال المکرم 1441ھ 29؍ مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مارچ 1948ء میں پاکستان میں باقاعدہ فلم سازی کا آغاز ہوا۔ اس وقت جن فلموں کا آغاز ہوا، ان میں تیری یاد، دو کنارے، ریت، شاہدہ، پاکستان زندہ باد، ہیر رانجھا، جہاد، ہچکولے، کندن، کروٹیں اور بھول بھلیاں کے نام شامل تھے۔ کلاسیک سنیما میں آج ہم فلم شاہدہ کے حوالے سے بات کریں گے۔ یہ پہلی فلم تھی ، جس کی کہانی اورکرداروں کا تعلق ایک مسلم معاشرے سے تھا۔ اس زمانے میں بننے والی زیادہ تر فلمیں ہندو سماج اور کرداروں کی کہانیوں پر مبنی ہوتی تھیں۔ فلم ’’شاہدہ‘‘ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پہلی بار کوئی اداکارہ ٹائٹل رول کررہی تھیں۔ اداکارہ شمیم نے ’’شاہدہ‘‘ کا کردار کیا تھا۔ متحدہ ہندوستان میں اداکارہ شمیم نے بہ طور ہیروئن سیندور، سنیاسی، پہلے آپ جیسی سپرہٹ فلموں میں کردار نگاری کی۔

شاہدہ کے مصنف حکیم احمد شجاع تھے۔ یہ فلم پہلے فلک کے نام سے شروع ہوئی تھی، اسے کوئی ہندو ڈائریکٹ کررہا تھا، جو پاکستان بننے کے بعد بھارت چلا گیا۔ بھارت سے آئے ہوئے ہدایت کار لقمان کو حکیم احمد شجاع نے اس فلم کی ڈائریکشن کی پیش کش کی،جسے انہوں نےقبول کرلیا۔ فلم کا نام فلک سے تبدیل کرکے ’’شاہدہ‘‘ کردیا گیا۔ بقول ہدایت کار لقمان کہ شاہدہ پاکستان کی پہلی فلم تھی، وہ تیری یاد کو پہلی فلم نہیں مانتے تھے، تمام زندگی وہ اس بات پر قائم رہے، حالاں کہ ریلیز کے اعتبار سے پہلی فلم تیری یاد ہی ہے۔ نامور ہدایت کار انور کمال پاشا نے اس فلم میں بہ طور معاون ہدایت کار کے طور پر لقمان کی معاونت فرمائی۔ اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں فلم کی ہیروئن شمیم بانو سے عشق ہوگیا، جو بعد میں ان کی بیگم بن گئیں۔ ’’شاہدہ‘‘ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک بہت اعلی اور معیاری فلم تھی، جس کے بارے میں اس دور کے اخبارات نے اپنے تبصروں میں لکھا کہ ’’شاہدہ کو دیکھ کر پاکستان کی صنعت فلم سازی کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ اس فلم کی حوصلہ افزائی ہر پاکستان کا فرض ہے۔‘‘

ہدایت کارلقمان 7؍ اکتوبر 1947ء کو ہمیشہ کے لیے پاکستان آگئے تھے۔ لقمان بتاتے تھے کہ ایک روز حکیم احمد شجاع نے انہیں بلایا اور کہا کہ فلم ’’شاہدہ‘‘ آپ کریں گے۔ کہانی سنی، اچھی لگی، ناصر خان سے مشورہ کیا، کہنے لگے کرو۔48ء میں پکچر شروع کی اور 49ء میں ریلیز ہوگئی۔ پاکستان کی وہ پہلی فلم تھی ،لیکن دیوان سرداری لال نے ’’تیری یاد‘‘، ’’شاہدہ‘‘ سے پہلے ریلیز کردی۔ دیوان سرداری لال بڑا غلط آدمی تھا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری ہو، اس لیے اس نے سیٹھ پنچولی پر حملہ کرادیا، جس کے نتیجے میں پنچولی یہاں سے چلا گیا۔ سرداری لال بھارتی ایجنٹ تھا، وہ کوئی پکچر تھی، اس کو جوڑ جاڑ کر کچھ کرکراکے شاہدہ کی ریلیز سے کچھ دن پہلے ’’تیری یاد‘‘ کے نام سے ریلیز کرادیا۔ ہم یہ سوچ رہےتھے کہ اسے بہتر سے بہتر پروڈکشن بنایا جائے تاکہ کم از کم انڈیا میں جائے تو چلے اور وہاں وہ چلی بھی۔ وہ پاکستان سے زیادہ انڈیا میں چلی۔ یعنی اس نے تین بڑے اسٹیشنوں پر لکھنو، بمبئی اور دہلی میں گولڈن جوبلی کی۔ ماسٹر غلام حیدر اور چشتی کا میوزک تھا۔ ’’شاہدہ‘‘ میں انور کمال پاشا میرے اسسٹنٹ تھے، شوق بہت تھا، دو بجے کے بعد آجاتے۔ تعصب کا یہ عالم تھا کہ کوڈک کا ہیڈ آفس بمبئی میں تھا، لاہور میں برانچ آفس تھا۔ 

ہندوئوں نے سازش کرکے ہمیں جو نیگیٹیو بھیجا، وہ دھندلا تھا، انہوں نے بتایا کہ نیگیٹیو ٹھیک نہیں ہے ۔ ادھر نذیر نے اردو میں ہیر رانجھا شروع کی تھی، انہیں بھی نیگیٹیو اسی طرح کا سپلائی ہوا، نذیر نے وہیں شوٹنگ روک دی اور فلم نہیں بنائی، لیکن ہم نے ’’شاہدہ‘‘ کی درمیان شوٹنگ روک کر نیگیٹیو لندن سے ڈائریکٹ امپورٹ کیے بعد میں لندن سے یہاں براہ راست نیگیٹیو امپورٹ ہونا شروع ہوا، تب ہمیں نیگیٹیو اچھا ملا۔ دوسری طرف سرداری لال اپنے پورے ہتھکنڈے کررہا تھا ۔ ہائپو کی جگہ چونا ملا کر دیا ایک کیمرہ مین تھے جن کے پاکستان میں یہ سارے شاگرد ہیں۔ پاکستان سے پہلے تو یہاں ایک مسلمان کیمرہ مین اے حمید تھا، جس کا نام شباب پکچر کےساتھ آتا ہے۔ مسلمان ریکارڈسٹ تھا، زیڈ اے بیگ، باقی تو سارے ہندو تھے۔ رضا میر اس زمانے میں اسسٹنٹ تھے، جعفر بخاری بھی اسسٹنٹ تھے، یہ سب ہی فلم شاہدہ میں بھی اسسٹنٹ تھے، بہر حال ’’شاہدہ‘‘ کام یاب ہوئی۔

شمیم بانو فلم ’’شاہدہ‘‘ میں بہ طور ہیروئن کاسٹ کی گئیں۔ انہیں دو اعزاز حاصل ہوئے، پہلا یہ کہ وہ پہلی کام یاب اردو پاکستانی فلم کی ہیروئن کہلائیں۔ دوسرا یہ کہ وہ پہلی اداکارہ تھیں، جنہوں نے اپنی اس فلم میں ’’شاہدہ‘‘ کا ٹائٹل رول کیا۔ 1928ء میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ کا گھریلو نام شمشم اختر تھا۔ ان کے والد یعقوب لودھی لاہور میں تجارت کیا کرتے تھے۔ پہلی مرتبہ شمیم نے ہدایت کار جی آر سیٹھی کی فلم ایماندار میں معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ یہ فلم 1939ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ 1940ء میں ریلیز ہونے والی فلم کنیادان میں شمیم نے ہیروئن کا کردار کیا۔ اس فلم نے پورے ہندوستان میں کام یابی حاصل کی۔ شمیم کی ایک چھوٹی بہن نسیم جونیئر کے نام سے بہ طور چائلڈ اسٹار فلم منورما میں آئی تھی۔ 1944ء میں دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’’جوار بھاٹا‘‘ سے کیا، تو اس کی کاسٹ میں شمیم بانو موجود تھیں۔ المختصر متحدہ ہندوستان اپنے حسن و جمال اور فن اداکاری سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے والی یہ اداکارہ پاکستان بننے کے بعد لاہور آگئیں۔ 

ہدایت کار لقمان نے انہیں اپنی فلم ’’شاہدہ‘‘ میں ہیروئن کاسٹ کیا۔ اپنے وقت کے معروف کیمرہ مین رشید لودھی شمیم کے بھائی تھے، جنہوں نے انور کمال پاشا کی کئی فلموں کی فوٹوگرافی کے فرائض انجام دیے۔ رشید لودھی کے ایک بھائی محبوب لودھی بہ طور معاون ہدایت کار چند فلموں کے ٹائٹل میں نظر آتے ہیں۔ اداکار اکمل کی فلم شیر جوان کے وہ ہدایت کار تھے۔ شاہدہ کی فلم بندی کے دوران انور کمال پاشا کو شمیم بے حد پسند آئیں، اس فلم میں پاشا ، ہدایت کار لقمان کے معاون تھے، وہ اس وقت سرکاری ملازمت کررہےتھے۔ شاہدہ کے بعد شمیم نے ہدایت کار انور کمال پاشا کی بہ طور شریک ہدایت کر فلم ’’دو آنسو‘‘ میں کام کیا۔ یہ فلم 1950ء میں ریلیز ہوئی۔ 

اسی سال شمیم کی پہلی پنجابی فلم ’’گھبرو‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں سنتوش کمار نے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ 1951ء میں انور کمال پاشا نے پہلی اور آخری بار اپنی ہدایات میں بننے و الی پنجابی فلم دلبر میں ہیرو کا کردار شمس کے مقابل کیا۔ یہ فلم تو ناکام ہوگئی، مگر پاشا اور شمیم کی محبت کام یاب ہو کر نکاح کے بندھن میں بندھ گئی۔ 1953ء میں شمیم کی فلم غلام اور 1954ء میں آخری فلم رات کی بات ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد شمیم بانو مسز انورکمال پاشا بن کر صرف گھر میں رہیں۔ فلمی زندگی ترک کردی۔ بعد ازاں شمیم بانو 24؍ اکتوبر 1982ء کو لاہور میں وفات پاگئیں، پاشا سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ ناصر خان: یہ تو آپ سب ہی جانتے ہیں کہ یہ لیجنڈ آف دی انڈوپاک اسٹار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی تھے۔ پہلی فلم تیری یاد اور دوسری فلم شاہدہ میں ہیرو کا کردار کیا۔ 3؍ مئی 1974ء کو دنیا سے وفات پاگئے۔ فلم شاہدہ میں انہوں نے سعید نامی ایک ایسے نوجوان کا کردار کیا، جو اپنے گائوں کی ایک غریب لڑکی شاہدہ کو چاہتا تھا۔ ہمالیہ والا: اپنے دور کا ایک ایسا اداکار جو منفی کردار کرنے میں شہرت رکھتا تھا، بطور وِلن ابتدا کی فلموں کا کام یاب اداکار محمد افضل خان المعروف ہمالیہ والا اس کی و جہ یہ تھی کہ وہ ہندوستان کے پہاڑی علاقے شملہ کے رہنے والے تھے، اپنے نام کےساتھ ہمالیہ والا لگا کر فلمی دنیامیں شہرت پائی۔ اس فلم میں انہوں نے گائوں کے ایک عیاش اور مغرور دولت مند کا کردار نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا تھا۔شاکر: فلم شاہدہ میں ہمالیہ والا کے منشی کبیرالدین کا کردار کیا تھا۔ 

جی این بٹ: اس فلم میں نواب امیر حسن کا کردار کیا تھا، فلم ہیرو کے باپ کا کردار تھا۔ نفیس بیگم: سعید جو فلم کا ہیرو ہے، اس کی لالچی اور مغرور ماں بنی۔ رانی ممتاز: اپنے دور کے آرٹ ڈائریکٹر مستری غلام محمد کی بیٹی جو بہت خوب صورت اور اعلی تعلیم یافتہ تھیں، فلم شاہدہ میں انہوں نے اداکارہ شمیم بانو کی والدہ کا کردار کیا تھا ،حالاں کہ اس وقت وہ خود جوان تھیں۔ خلیل آفتاب: شاہدہ کے غریب والد میر صاحب کے روپ میں سامنے آئے۔ بے بی شمشاد: اپنے دور کی معروف اداکارہ شمی نے اس فلم میں بطور چائلڈ اسٹار بے بی شمشاد کے نام سے کام کیا تھا۔ شمی نے جنگجو ہیرو سدھیر سے شادی بھی کی تھی، یہ اپنے دور کی بے حد خوب صورت اداکارہ تھیں۔ اس فلم میں وہ شمیم کی چھوٹی بہن کے کردار میں تھیں۔ اداکارہ بیگم پروین بھی اس فلم کی کاسٹ میں موجود تھیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید