آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس، پریانکا چوپڑہ کے ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹرز سے سوالات

کورونا وائرس، پریانکا چوپڑہ کے ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹرز سے سوالات


ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر خود کو قرنطینہ کیا ہوا ہے۔یونیسیف کی سفیر برائے خیرسگالی پریانکا چوپڑا نے گزشتہ رات تصاویر اور ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر ڈبلیو ایچ او کے دو ڈاکٹرز کے ساتھ ایک لائیو سیشن رکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وبائی بیماری ’ کووڈ 19 ‘ سے متعلق اس وقت بہت ساری معلومات سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہیں مگر میرے ذہن میں ابھی تک کچھ سوالات ہیں جن کا میں جواب چاہتی ہوں ۔انسٹاگرام کے اس لائیو سیشن میں پریانکا چوپڑا کے شوہر امریکی گلوکار و اداکار نک جوناس نے بھی شرکت کی تھی، نک جوناس نے ڈبلیو ایچ اور کے ڈاکٹرز سے سوال کیا کہ ’ وہ شوگر 1 کے مریض ہیں اور ان کی اہلیہ پریانکا کو دمہ کی شکایت ہے، ہم دونوں کا ان بیماریوں کے ساتھ قوت مدافعت بھی کمزور ہے، ہم جیسے افراد کو کورونا وائرس کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اس کے لیے ہمیں کیا اضافی احتیاط کرنا چاہیے؟ ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر ماریا کین کرکھووے نےجواب دیا کہ جو افراد ذیابطیس، دل کے امراض، کرونک ریسپائیریٹریی ڈیزیز، کینسر کے مریض یا ضعیف ہیں( 60 سال سے زائد عمر ) جن کی قوت مدافعت کمزور ہے انہیں اس وائرس سے ہر صورت بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنی چاہئیں جن میں گھر سے باہر نہ نکلنے سمیت ایسے افراد کا سامنا نہ کرنا جو بیمار ہوں ، شامل ہے ۔‘پریانکا نےسوال کیا کہ کیا وائرس ہوا کے ذریعے آپ میں منتقل ہو سکتا ہے؟ جس پر ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر ماریا نے کہاکہ وائرس فضا میں نہیں رہ سکتا ، مگر کوئی آپ کے سامنے وائرس سے متاثرہ مریض چھینکے یا کھانسے تو اس انسان سے نکلنے والے نظر نہ آنے والے پانی کے زرات کے ذریعے یہ آپ میں منتقل ہو سکتا ہے ، اسی لیے ہر کسی کو تاکید جا رہی ہے کہ چھینکتے ہوئے یا کھانستے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپ لیں اور دوسروں کو اس بیماری سے بچائیں۔پریانکا نے پو چھا کہ کیا کوئی مریض اس وائرس سے صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے ؟ جس پر ڈبلیو ایچ او کی ایکسپرٹ کا کہنا تھا کہ تا حال اس وائرس کی صحیح سے صورتحال سامنے نہیں آئی ہے اس پر ریسرچ جاری ہے مگر ہاں اس سے متاثر ہو کر صحتیاب ہوا جا سکتا ہے جیسے کہ پوری دنیا میں جہاں مریض متاثر ہو رہے ہیں وہیں صحتیاب بھی ہو رہے ہیں ۔

دل لگی سے مزید