آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اب دنیا بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں میں پہنچ چکی ہے تو یہ سوال سامنے آ رہے ہیں کہ اس میں کون کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگر ہم نوجوانوں کی بات کریں تو ان کیلئے اس جنگ میں کئی کردار ادا کرے گی، گنجائش موجود ہے۔ یہ کردار ذاتی اور سماجی سے لے کر سیاسی و معاشی تک کئی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہنوجوان ذاتی طور پر کیا کر سکتے ہیں۔

ذاتی طور پر کرونا کے خلاف جنگ میں نوجوانوں کو سب سے پہلے تو خود کو محفوظ رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر وہ خود محفوظ نہیں ہوں گے تو دوسروں کیلئے بھی کچھ نہیں کر سکیں گے اس کیلئے نوجوانوں کو خود تمام تر حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا جہاں تک ممکن ہو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا اور بار بار ہاتھ منہ دھونا شامل ہے۔

اس کے علاوہ اجتماع سے گریز کرنا اور کسی بھی اس جگہ نہ جانا جہاں ہجوم یا لوگوں کی تعداد موجود ہو۔ ایسی جگہوں میں مساجد اور مجالس بھی شامل ہیں۔ اب دنیا بھر کے مقدس ترین مقامات جیسے خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسد الاقصٰی اور دیگر مذاہب کے مقدس مقامات بھی لوگوں کیلئے بند کئے جا چکے ہیں تو ایسے میں اپنے گلی محلے کی مساجد اور مجالیس سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ الازہر نے واضح فتویٰ بھی جاری کر دیا ہے اور خود پاکستان کے کئی مذہبی رہنما اور علماء اس بارے میں لوگوں کو گھروں پر نماز ادا کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں اور جو لوگ آپ کو اس کے برعکس مشورے یا حکم دے رہے ہیں وہ بالکل آپ کے یا سماج کے خیرخواہ نہیں ہیں بلکہ آپ کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے لوگوں سے محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے اپنی اور اپنے عزیزوں اور دیگر لوگوں کی زندگی بچانا لازم ہے تو ذاتی طور پر پہلے تو اپنا خیال اور پھر اپنے گھر والوں کو باہر جانے سے روکنا اور سمجھانا بھی نوجوانوں کے فرائض میں داخل ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اب خودڈ نوجوان طبی مشوروں کی پروا کئے بغیر گلی محلوں میں کھیلنے میں مصروف ہیں۔ اس رویئے سے گریز کرنا چاہئے آپ کی زندگی نہ صرف آپ کیلئے بلکہ آپ کے گھر والوں اور سماج کیلئے ضروری ہے اس لئے خود کو غیر ضروری مہم جوئی اور کھیل کود سے دور رکھیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ گھر میں رہیں تو کیا کریں۔ یہ بہت اچھا موقع ہے کہ آپ کچھ اچھی کتابیں پڑھیں، وہ جو آپ نے کبھی خریدی ہوں مگر پڑھ نہ پائے ہوں تو ان کو نکالیں اور پڑھ ڈالیں۔ اگر بدقسمتی سے آپ کے پاس کتابیں نہیںہیں تو آج کل نیٹ پر پڑھنے کیلئے بہت کچھ موجود ہے۔ ایسی چیزیں پڑھے، جن سے آپ کی سوجھ بوجھ میں اضافہ ہو اور ایسے بے شمار اردو کی کتابیں بھی نیٹ پر مفت میں موجود ہیں۔ مثلاً آپ ریختہ کی ویب سائٹ پر چلے جائیں تو اردو کا اعلیٰ ادب موجود ہے مزاح بھی شاعری بھی۔ اس کا مطالعہ کریں۔ اس کے علاوہ آپ زیادہ دیر فیس بک پر وقت گزارنے کے بجائے اردو اور انگریزی کے اخبارات کا بغور مطالعہ بھی کرسکتے ہیں۔

یہ تو ذاتی طور پر ہوا۔ اب سماجی طور پر آپ کیا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ صاحب حیثیت ہیں تو ایسے میں ضرورت مندوں کی مدد کرنا آپ کا فرض ہے مگر ایسا کرتے ہوئے خود اپنے لئے تمام حفاظتی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہئیں۔ آپ اپنے پرانے کپڑے نکالئے اور ضرورت مندوں کو دے دیجئے۔ خاص طور پر ایسے محنت کش لوگوں کا ضرور خیال رکھئے جو دیہاڑی پر کام کرتے ہیں مثلاً مزدور وغیرہ جو کام کاج نہ ہونے کے باعث اپنے گھر والوں کو دووقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔

اگر آپ کسی کی مالی مدد نہیں کر سکتے پھر بھی گلی محلے کی صفائی ضروری ہے کیوں کہ اس سے مزید بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اگر صفائی کرنے والے آتےہیں تو ان کا خیال رکھئے اور ان کو کچھ نہ کچھ دے دیجئے کیوں کہ یہی ہمارے لئے اپنی زندگیوں کو دائو پر لگارہے ہیں اسی طرح اب بھی اپنے فرائض انجام دینے والے پولیس کے اہلکاروں اور ایدھی کے رضاکاروں کا خیال کیجئے اور اگر ممکن ہو تو انہیں صاف ستھرا کھانا اور پانی وغیرہ فراہم کیجئے لیکن یہ سب کرتے ہوئے اپنے آپ کو مکمل محفوظ رکھئے یعنی ماسک اور دستانے ضرور پہنئے۔

یہ بیماری لگنے کا امکان ان لوگوں کو سب سے زیادہ ہے جو کسی اور بیماری کا شکار رہے ہوں۔ مثلاً جن کے دل، گردے، جگر یا پھیپھڑے وغیرہ خراب ہیں ان کو لازمی مجبور کیجئے کہ وہ بالکل گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اگر آپ خود یا آپ کے گھر میں سے کوئی تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہے تو یہ سب سے اچھا موقع ہے کہ اس لت سے نجات حاصل کرلی جائے کیو اس سے آپ کی قوت مدافعت یعنی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور کرونا کے خلاف یہی طاقت آپ کے کام آئےگی، کیوں کہ اس کا علاج نہیں ہے۔ سیاسی طور پر آج کا نوجوان یہ کر سکتا ہے کہ آپ کے علاقے میں سیاسی رہنما ہیں ان کو مجبور کیا جائے کہ اس مشکل گھڑی میں خود غائب ہونے کے بجائے حفاظتی اقدام کرتے ہوئے باہر آئیں اور اپنے علاقے کے اسپتالوں اور دواخانوں کی صفائی کا انتظام کرائیں آپ کے سیاسی رہنما آپ کو جواب دہ ہیں اور آپ کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کے علاقے میں سرکاری اسپتال یا دواخانے کیوں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ان کی حالت خراب کیوں ہے۔

سیاسی طور پر آپ کوحکومت وقت سے پوچھنا چاہئے کہ موجودہ حکومت نے پچھلے دو سال میں عوام کیلئے کیا کیا ہے سوائے مہنگائی میں اضافہ کرنے اور دنیا سے قرضے مانگنے کے۔ یہ سوال کرنا آج کے نوجوان کا حق ہے کہ وہ پوچھے کہ میرے معاشرے کو اس طرح کیوں چلایا جا رہا ہے جس میں نہ عوام کو سرکاری طور پر اچھی تعلیم دی جا رہی اور نہ صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ پچھلے ستر سال میں اگر کرپشن تھی تو پچھلے دوسال میں کرپشن کے خاتمے کے بعد بچنے والے اربوں روپے کہاں گئے۔

ہمیں کہا گیا تھا کہ روزانہ سیکڑوں ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے اگر یہ بات صحیح تھی تو اب پچھلے دوسال میں وہ سیکڑوں رب روپے کہاں گئے۔ موجودہ وفاقی حکومت کے نمائندے کرونا کے خلاف جنگ میں محاذ سے کیوں غائب ہیں۔ کہاں ہیں وہ فیصل واوڈا، مراد سعید، جہانگیر ترین، اعظم سواتی جو خود ارب پتی ہیں اور اس مشکل وقت میں قوم کی داد رسی کے بجائے خود محاذ سے غائب ہیں۔ سیاسی طور پر نوجوانوں کو ان سب سے بازپرس کرنای چاہئے جنہوں نے دوسال کچھ نہیں کیا اور کرونا کے خلاف بھی نہیں کر رہے۔

آخر میں نوجوانوں کیلئے اس وبا میں بڑے اسباق موجود ہیں یعنی اس کے نتیجے میںؒ وہ خود اپنی سوچ تبدیل کر سکتے ہیں انہیں اب نام نہاد عالموں کے چکر سے نکل کر ٹھوس سائنسی سوچ اپنانی ہوگی۔ اس وبا نے ثابت کر دیا ہے کہ بیماریاں اور وبائیں جنتر منتر پڑھنے سے نہیں جاتیں بلکہ ان کے مقابلے کے سائنسی تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔

جو لوگ بھی آپ کو سائنسی سوچ سے دور کر کے جنتر متنر پڑھنے پر لگاتے ہیں وہ آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مائوف کر دیئے ہیں۔ نوجوانوں کو اکیسویں صدی میں سائنسی اور منطقی سوچ کی ضرورت ہے نہ کہ ہزاروں سال پرانی جنتر متنر پر مبنی سوچ کی۔ ہمارے نوجوان کو سوال پوچھنے ہوں گے۔ مثلاً یہ کہ ہمارے پاس وینٹی لیٹر کیوں نہیں ہیں جبکہ ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہونے کے دعویدار ہیں۔ ہمارے وسائل کہاں ضائعکئے جا رہے ہیں اور کیوں۔

نوجوانوں کو یہ سوچنا سمجھنا اور پوچھنا ہوگا کہ ہمارے اصل دشمن جہالت، بے روزگاری، غربت، بیماری اور پسماندہ خیالات ہیں تو پھر ہمارے وسائل ان کو بہتر کرنے پر خرچ کیوں نہیں کئے جا رہے۔ یہاؒں ہے پچھلی پون صدی کی طرح اگلی صدی بھی خیالی دشمنوں اور خیالی جنگوں کی تیاری میں اپنے وسائل جھونکتے رہیں گے یا پھر ہمیں ان وبائوں سے بچائوں کیلئے تیار کیا جائے گا۔

آج کے نوجوان کو پڑھنا اور سوچنا ہوگا جس کے بغیر آپ اپنے معاشرے کو بدلنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔ آپ کو فرسودہ خیالات اور جنتر متنر سے نکل کر ٹھوس حقائق کو دیکھنا اور سمجھنا ہوگا اسی طرح آپ وبائوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔