آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ٹھری میرواہ ضلع خیرپور کی اہم تحصیل ہے جس میں امن امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے ۔ دن دہاڑے ،لوٹ ماراور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ شہری عدم تحفظ کا شکارہیں۔ پولیس کی روایتی غفلت اور سستی کے باعث امن امان کی بگڑتی صورتحال محکمہ پولیس کے لیےچیلنج بن چکا ہے ۔جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے سیاسی ،سماجی و کاروباری حلقوںمیں تشویش پائی جاتی ہے۔ چند روز قبل ٹھری میرواہ تھانے کی حدود میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیاجس نے شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کردی۔اطلاعات کے مطابق 8 مارچ کو تحصیل ٹھری میرواہ کے نواحی شہر سوئی گیس، مہران نیشنل ہائی وے کی مصروف ترین شاہراہ پرڈکیتی مزاحمت پر قتل کی واردات ہوئی۔ قومی شاہراہ پر واقع بلڈنگ مٹیریل کی ایک دکان کے پاس ایک موٹرسائیکل آکر رکی اوراس پر سے دو مسلح ڈاکو اتر کر اسلحہ لہرتے ہوئے دکان میں داخل ہوئےانہوں نے دکان کے مالک علی بخش لوند کو ر لوٹنے کی کوشش کی۔و دکاندارعلی بخش لوند کے مزاحمت کرنے پر ڈاکوئوں نے فائرنگ کردی۔ گولیاں لگنے سے دکاندار شدید زخمی ہوگیا جب کہ لوگوں کے جمع ہونے پر ڈاکو فارنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔فائرنگ کی آواز سن کر آس پاس کے دکاندارجائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے فوری طور سے پولیس اور علی بخش لوند کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ اس کے بعد زخمی دکاندار کو تعلقہ ٹھری میرواہ اسپتال پہنچایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد انہیں تشویش ناک حالت کے باعث خیرپور کے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ۔سول اسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے اسے بچانے کی کافی کوششیں کی گئیں لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا اور زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔

مقتول کی لاش ایمبولینس میں ڈال کر سوئی گیس شہر لائی گئی جہاں پر لوند برادری کے افراد پہلے سے جمع تھے۔ انہوں نے سوئی گیس شہرمیں ٹھری اسٹاپ پر مقتول کی لاش رکھ کر مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر آغا طالب حسین لوند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھری میر واہ میں پولیس کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ واردات کی بروقت اطلاع دینے کے باوجود پولیس تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی۔شہر میں جرائم پیشہ عناصر دندناتے پھر رہے ، سڑکوں اور گلیوں میں ڈاکوؤں اور راہ زنوں کا راج ہے لیکن پولیس کہیں نظر نہیں آتی۔ احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد مقتول کی میت اس کے آبائی شہر سیٹھارجہ پہنچائی گئی جہاںاس کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

مقتول کےقریبی اعزا کے مطابق مذکورہ واقعے کا مقدمہ اب تک درج نہیں ہو سکاہے۔ٹھری میر واہ کی سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کی وجہ سے شہر میں دکاندار، تاجراور کاروباری طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہا ہےجب کہ شہر میں جرائم کی وارداتوں کی وجہ سے خوف وہراس پھیل رہا ہے۔پولیس کو امن و امان کی بحالی کے لیے سخت ترین اقدامات کرنا چاہئیں ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علی بخش لوندکی دکان میں لوٹ مار اور اس کے قتل کے واقعے کے حوالے سے پولیس کاکوئی موقف سامنے نہیں آسکا ہے ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید